*نکاح میں جبر والدین کی انا یا شریعت کی نافرمانی؟*

انسانی زندگی میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقتی نہیں بلکہ تقدیر کا رخ بدل دیتے ہیں، ان فیصلوں کے اثرات چند دنوں یا مہینوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری زندگی اور آنے والی نسلوں تک پھیل جاتے ہیں، انہی عظیم فیصلوں میں سے ایک فیصلہ نکاح ہے، نکاح صرف دو انسانوں کا ملنا نہیں بلکہ دو دلوں، دو روحوں اور دو خاندانوں کا ایسا مقدس معاہدہ ہے جس پر ایک پورے معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اسلام نے اسی لیے نکاح کو محض ایک سماجی رسم نہیں بلکہ عبادت اور سنت قرار دیا ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہی مقدس رشتہ اکثر والدین کی ضد، خاندانی غرور اور سماجی دکھاوے کی نذر ہو جاتا ہے، وہ اولاد جسے برسوں محبت سے پالا گیا، جس کے لیے راتوں کی نیند قربان کی گئی، جب وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم موڑ پر پہنچتی ہے تو اچانک اس کی آواز بے معنی ہو جاتی ہے، اور اس کی زندگی کا فیصلہ ایسے سنایا جاتا ہے جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ ایک مہرہ ہو جسے خاندان کی شطرنج پر جہاں چاہیں رکھ دیا جائے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں بعض لوگ نکاح کو اولاد کی خوشی نہیں بلکہ اپنی انا کی تسکین سمجھتے ہیں، اگر لڑکی یا لڑکا اپنی پسند کا اظہار کر دے تو گویا اس نے کوئی جرم کر دیا ہو، فوراً جملے سنائی دیتے ہیں *ہماری ناک کٹ جائے گی* لوگ کیا کہیں گے، برادری کیا سوچے گی،
 عجیب بات ہے کہ چند دنوں کی سماجی تعریف کے لیے ایک انسان کی پوری زندگی کو قربان کر دیا جاتا ہے۔ گویا کچھ لوگوں کے نزدیک اولاد کی خوشی کی کوئی قیمت نہیں، اصل قیمت صرف اس بات کی ہے کہ محلے کے لوگ کیا تبصرہ کریں گے۔
اگر کوئی انصاف سے سوچے تو سوال پیدا ہوتا ہے *کیا والدین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اولاد کی زندگی کے ہر فیصلے پر جبر کا حق بھی حاصل ہو گیا؟* کیا اولاد صرف ایک خاموش مخلوق ہے جس کا کام صرف سر جھکا دینا ہے، چاہے اس کی زندگی کا فیصلہ اسے ایک ایسی قید میں دھکیل دے جہاں وہ عمر بھر گُھٹتا رہے؟ اسلام اس سوچ کو ہرگز قبول نہیں کرتا، کیونکہ اسلام میں نکاح جبر کا نہیں بلکہ رضامندی کا معاہدہ ہے،قرآنِ کریم اس معاملے میں نہایت واضح رہنمائی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا* اے ایمان والو! تمہارے لیے جائز نہیں کہ عورتوں کو زبردستی اپنے قبضے میں رکھو، یہ آیت دراصل اس ذہنیت کی جڑ کاٹ دیتی ہے جو انسان کو انسان نہیں بلکہ ملکیت سمجھتی ہے، اسلام نے نکاح کو غلامی نہیں بلکہ محبت اور سکون کا رشتہ قرار دیا ہے،اسی حقیقت کو قرآن کریم ایک اور مقام پر یوں بیان کرتا ہے: *وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً* اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی، اب ذرا انصاف سے سوچئے کہ جس نکاح کی بنیاد ہی آنسوؤں، مجبوری اور جبر پر رکھی گئی ہو وہاں سکون کہاں سے آئے گا؟ وہاں محبت کیسے پیدا ہوگی؟ وہاں رحمت کیسے نازل ہوگی؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کانٹوں کے بیج بو کر پھولوں کی امید کرے۔
رسول اکرم ﷺ نے بھی نکاح میں رضامندی کو لازمی قرار دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: *بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے مشورہ نہ لیا جائے اور کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لے لی جائے* یہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ شریعت کا واضح حکم ہے جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اسلام انسان کی عزت اور اس کی رضامندی کو بنیادی حیثیت دیتا ہے،
اسی حقیقت کو ایک عملی واقعہ سے بھی سمجھا جا سکتا ہے، صحابیہ حضرت خنساء بنت خدام رضی اللہ عنہا کے والد نے ان کا نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دیا، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے اس نکاح کو باطل قرار دے دیا، یہ واقعہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اسلام میں نکاح جبر کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔
مگر افسوس کہ آج بھی کچھ لوگ شریعت کے واضح احکام کے باوجود اپنے رسم و رواج کو دین سے زیادہ مقدس سمجھتے ہیں، جب بات دین کی آتی ہے تو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم دیندار ہیں، لیکن جب اولاد کی خوشی کا معاملہ سامنے آتا ہے تو دین کی تعلیمات پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور سامنے صرف خاندانی غرور اور سماجی دکھاوا رہ جاتا ہے، ایسے لوگوں کو شاید یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اپنی انا کو دین پر ترجیح دے رہے ہیں،اسلام ظلم کو سختی سے منع کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: *ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا*
اگر نکاح جیسے حساس معاملے میں والدین اپنی ضد اور انا کی وجہ سے اولاد کی زندگی کو اذیت میں ڈال دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قسم کا ظلم ہے جس کا جواب ایک دن اللہ کے سامنے دینا ہوگا،والدین کا مقام یقیناً بہت بلند ہے اور اسلام نے اولاد کو ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے، مگر یہ عظمت انصاف، رحمت اور حکمت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اولاد کی رہنمائی کرنا والدین کا حق اور ذمہ داری ہے، مگر ان کی زندگی کے سب سے اہم فیصلے میں ان کی آواز کو خاموش کر دینا نہ حکمت ہے اور نہ شریعت کی روح کے مطابق،
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے دیوار نہیں بلکہ سایہ بنیں، ان کے فیصلوں کے دشمن نہیں بلکہ خیر خواہ بنیں، جب نکاح محبت، سمجھ داری اور رضامندی سے ہوتا ہے تو وہ گھر سکون اور برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے، لیکن جب یہی رشتہ جبر اور انا کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے تو وہ گھر گھر نہیں رہتا بلکہ ایک خاموش قید خانہ بن جاتا ہے جہاں زندگیاں تو ساتھ گزرتی ہیں مگر دل کبھی ایک نہیں ہو پاتے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی اس خطرناک سوچ کو بدلیں اور والدین اپنی انا سے اوپر اٹھ کر شریعت کی تعلیمات کو معیار بنائیں، کیونکہ آخرکار فیصلہ لوگوں کی زبانوں نے نہیں بلکہ اللہ کے حضور ہونا ہے، اور اللہ کے نزدیک وہی نکاح بابرکت ہے جس کی بنیاد رضامندی، محبت اور انصاف پر رکھی گئی ہو۔

                   *✍️متعلّم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*