رمضان آیا اور چلا گیا ہم پھر سے اپنے معمول پر آ گئے، کیا ہم نے یہ سوچا کہ رمضان کیوں آیا تھا؟
 کیا پیغام لایا تھا؟
 رمضان ہمیں کیا سکھانے آیا تھا؟
رمضان کا مقصد ہمیں متقی اور پرہیز گار بنانا تھا، جیسا کہ قرآن پاک کی آیت کا مفہوم ہے:"اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کرو" 
الحمدللہ ہم نے رمضان کے روزے رکھے جتنا ہو سکا عبادت کی بھر پور کوشش کی کہ ہم گناہوں سے بَری ہوں، ہم سے مبارک ماہ میں کوئ گناہ سرزد نہ ہونے پائے حتی الامکان گناہوں سے بچنے کی کوشش کی گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت، لڑائی جھگڑے، بہتان تراشی، بد نظری، وغیرہ وغیرہ، اور اس جیسے بہت سے صغیرہ کبیرہ گناہوں سے ہم نے پورے ایک مہینے خود کو بچاۓ رکھا لیکن کیا ہم نے رمضان کے بعد بھی ان سب سے دوری بنا رکھی ہے؟
ہمارے اندر کتنی تبدیلی آئی؟
 اس رمضان نے ہم کو کتنا تبدیل کیا؟ 
کیا ہم اب بھی اسی طرح گناہوں سے بچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں؟ 
کیا ہم نمازوں کی پابندی اسی شوق و رغبت اور محبت کے ساتھ کرتے ہیں؟
 کیا ہماری مسجدیں اب بھی اسی طرح آباد ہیں؟
یا ہم نے فجر میں اٹھنا چھوڑ دیا
 کیا اب بھی فجر قضاء نہیں ہوتی؟
خود کا جائزہ لیں...
کیا ہماری عبادت اسی انداز میں جاری ہے؟
کیا ہماری اللہ سے محبت اور اس کا خوف اسی طرح ہمارے دل میں برقرار ہے جس طرح رمضان میں تھا کہ اللہ ہم سے راضی ہو جاۓ، اللہ ہم سے ناراض نہ ہو جاۓ؟
اگر ایسا ہے تو بہت اچھی بات ہے الحمدللہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اگر ایسا نہیں ہے ہم پہلے کی طرح اپنے معمول پر آ گئے تو اللہ کی طرف رجوع کیجیے اللہ کو ہماری ضرورت نہیں تھی کہ ہم نے صرف ایک مہینے اللہ کی عبادت کر لی بس ختم۔ نہیں، بلکہ ہمیں اللہ کی ضرورت ہے اور اشد ضرورت ہے ہر پل، ہر لمحہ، ہر وقت، ہر جگہ، ہر موڑ پہ۔ اس لئے اللہ کے در کو چھوڑ کر نہ جائیں واپس آ جائیں اپنے رب کی طرف ہم اپنے رب کی طرف چل کر جائینگے تو ہمارا رب ہماری طرف دوڑ کر آۓ گا۔
اللہ ہم سب کو پورا سال رمضان کے جیسا گزارنے کی توفیق دے آمین اللھم آمین

💫بنت شہاب✍🏻