والد صاحب نے ہمارا برتھ سرٹیفکیٹ سائن کیا،
اور ہم نے اُن کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ سائن کیا۔
انہوں نے ہمارا پہلا لباس چُنا،
اور ہم نے اُن کا آخری لباس۔
انہوں نے ہماری پہلی سانس دیکھی،
اور ہم نے اُن کی آخری سانس۔
انہوں نے ہمیں چلنا سکھایا،
اور ہم نے اُنہیں اُن کی آخری آرام گاہ تک پہنچایا۔
انہوں نے ہماری انگلی تھام کر ہمیں دنیا دکھائی،
اور ہم نے اُن کے کمزور ہاتھوں کو تھام کر اُنہیں رخصت کیا۔
انہوں نے ہماری ہر ضد کو مسکرا کر برداشت کیا،
اور ہم اُن کی آخری خاموشی کو سمجھ نہ سکے۔
انہوں نے راتوں کی نیند قربان کر کے ہمیں سکون دیا،
اور ہم اُن کے سکون کے لمحات بھی پوری طرح نہ دے سکے۔
انہوں نے ہمیں گرنے سے بچایا،
اور ہم اُنہیں بچھڑنے سے نہ بچا سکے۔
انہوں نے ہمیشہ ہمارے لیے دعائیں کیں،
اور ہم اُن کے لیے آنسوؤں کے سوا کچھ نہ دے سکے۔
باپ وہ سایہ ہوتا ہے جو زندگی بھر اولاد پر سایہ فگن رہتا ہے،
اور جب وہ سایہ اٹھ جائے تو زندگی کی دھوپ واقعی بہت تیز لگنے لگتی ہے…
تب ہر وہ بات یاد آتی ہے جو ہم نے کبھی سنی نہ تھی،
ہر وہ نصیحت قیمتی لگتی ہے جسے ہم نے کبھی سمجھا نہ تھا۔
جب تک والدین زندہ ہیں، اُن کی قدر کیجیے…
اُن کے ساتھ بیٹھنے کے لمحات کو ضائع نہ کیجیے،
اُن کی باتوں کو بوجھ نہیں، رحمت سمجھیں۔
وقت گزر جاتا ہے،
لیکن افسوس ہمیشہ باقی رہ جاتا ہے۔
یاد رکھیے…
والدین کا سایہ نصیب والوں کو ملتا ہے،
اور جب یہ سایہ اٹھ جائے، تو دنیا کی کوئی چیز اُس خلا کو پُر نہیں کر سکتی۔
اللہ ہمیں اپنے والدین کی قدر کرنے اور اُن کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے… آمین۔
والدین کو میرے مولا تو عمرِ نوح عطا کر
انکا وجود میرے ہر مرض کی دوا ہے
عائشہ ❤