*ہزار دینار*
شہر کے بازار میں رفیق کی کپڑے کی دکان تھی۔ رفیق ایک نیک اور ایماندار تاجر تھا۔
وہ صبح فجر کی نماز پڑھ کر ذکر وغیرہ سے فارغ ہو کر دکان کھولتا، اور جیسے ہی ظہر کی اذان ہوتی وہ دکان بند کر کے مسجد چلا جاتا۔
اللہ رب العزت نے بھی اس کے کاروبار میں برکت دی تھی۔ رفیق کا شمار مال دار لوگوں میں ہوتا تھا۔
رفیق کے پاس ایک تھیلی تھی جس میں اس نے ایک ہزار دینار (سونے کے سکے) رکھے ہوئے تھے۔ ایک مرتبہ رفیق کو کاروبار کے سلسلے میں دوسرے ملک جانا تھا۔
وہ اپنے ایک قریبی دوست عامر کے پاس اپنی تھیلی لے کر گیا اور اس سے کہا: ”بھائی عامر! میں کچھ عرصے کے لیے دوسرے ملک جا رہا ہوں اور تمہارے پاس اپنی ایک امانت چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ امید ہے تم اس کی حفاظت کرو گے، میں واپس آ کر تم سے یہ امانت لے لوں گا۔“
یہ کہہ کر رفیق نے ہزار دینار سے بھری تھیلی عامر کے حوالے کر دی۔ عامر نے وہ تھیلی حفاظت سے اپنے پاس رکھ لی۔
رفیق اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ دن گزرتے گئے، رفیق کو گئے ہوئے کئی سال ہو گئے۔
اب عامر کے دل میں شیطان نے وسوسہ ڈالا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں اس تھیلی سے دینار (سونے کے سکے) نکال کر درہم ڈال دوں۔ رفیق واپس آ کر اگر پوچھے گا تو میں جھوٹ بول دوں گا کہ تم نے تو مجھے یہی دیا تھا، میں نے اس تھیلی کو کھول کر بھی نہیں دیکھا۔
اور عامر نے اسی طرح کیا۔ تھیلی سے دینار نکالے اور ان کی جگہ درہم رکھ دیے۔
کچھ عرصے کے بعد رفیق واپس آ گیا۔ وہ عامر کے گھر گیا۔ عامر اس سے بہت اچھے طریقے سے ملا اور سکوں سے بھری تھیلی رفیق کے حوالے کر دی۔
رفیق نے گھر آ کر تھیلی کھولی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تھیلی بجائے دینار کے درہم (چاندی کے سکے) سے بھری ہوئی ہے۔ اب تو رفیق بہت پریشان ہوا۔ وہ بھاگتا ہوا عامر کے پاس گیا اور اسے ساری بات بتائی۔
عامر بہت غصہ ہوا اور کہا: ”ایک تو میں نے تم پر احسان کیا اور تمہارے مال کی حفاظت کی، اور اب تم مجھ پر چوری کا الزام لگاتے ہو!“
بے چارہ رفیق گھر واپس آیا، دو رکعت نفل نماز پڑھی اور اللہ سے دعا مانگی: ”اے اللہ! میں تو ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ بھی نکالتا ہوں، اور جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے اس کی آپ حفاظت فرماتے ہیں۔ میرے مال کی حفاظت فرما کر مجھے واپس لوٹا دیجئے۔“
پھر اللہ کا نام لے کر عدالت پہنچا اور قاضی صاحب کو سارا واقعہ سنایا۔
قاضی صاحب نے عامر کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ رفیق نے تمہارے پاس امانت کتنے سال پہلے رکھوائی تھی؟
اس نے کہا: ”پانچ سال پہلے۔“
اب قاضی صاحب نے تھیلی کھولی اور سکوں کو باہر نکالا اور عامر سے کہا: ”تم کہتے ہو کہ یہ سکے رفیق نے تمہارے پاس پانچ سال پہلے رکھوائے تھے، جبکہ ان سکوں پر ان کے بننے کی تاریخ دو سال پہلے کی لکھی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ اب جلدی سے رفیق کا مال اس کے حوالے کر دو اور سزا کے لیے تیار ہو جاؤ۔“
عامر نے شرمندگی سے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے رفیق کا مال اس کے حوالے کر دیا۔
⚔️ M T I 313 ⚔️