آج میں سیاسی حیثیت سے نہیں بلکہ اس روشنی میں جو اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو عطا فرمائی ہے، اس روشنی میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اس ملک میں تمہارا رہنا مشکل ہو جائے گا اگر تم نے دین کے لیے خلوص کے ساتھ کام نہ کیا، اور جب وہ حالت پیدا ہوگی تو اس وقت نہ تمہاری دکانیں محفوظ رہیں گی، نہ تمہارے کارخانے محفوظ رہیں گے۔ یاد رکھو! حفاظت کا سامان اوپر سے ہوتا ہے، کسی ملک میں مسلمانوں کی حفاظت کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ وہ دین کے لیے جدو جہد کریں، اور دین کو اتنا طاقتور بنا ئیں کہ پھر اللہ تبارک تعالیٰ ان کی حفاظت اپنی طرف سے فرمائے ، پھر ان کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا !

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللّٰہ علیہ