مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی " فرماتے ہیں ۔
" تمدن کے فساد و خرابی کے سلسلہ میں امام ولی الله " حجة اللہ البالغہ “ کے باب الرسوم السائرہ“ میں لکھتے ہیں ” کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ صحیح قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہیں ، لیکن ان کے ساتھ باطل بھی مل جاتا ہے اور اس کی وجہ سے لوگوں پر صحیح قوانین خلط ملط ہو جاتے ہیں ، اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ملک میں ایسے لوگ برسر اقتدار آجاتے ہیں جن میں آراء جزئیہ ) ذاتی خواہشات واغراض ) غالب ہوتی ہیں اور مصالح کلیہ ( مفاد عامہ ) کو یہ لوگ بالکل ترک کر دیتے ہیں ، لہذا کبھی تو یہ لوگ اعمال سبعیہ ( درندوں جیسے کاموں ) کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جیسے کہ راہ زنی ، لوٹ کھسوٹ یا شہوت رانی کے کام ، یا یہ لوگ اکساب ضارہ یعنی نقصان دہ پیشوں کو اختیار کر لیتے ہیں ، جیسے سودی لین دین ، ناپ تول میں کمی ، یا ایسی عادات جو اسراف پر مبنی ہوتی ہیں ، یا ایسی چیزوں کو اختیار کرتے ہیں جو غافل بنانے والی ہوں ، ان کے اختیار کرنے سے امور معاش میں بہت سی باتوں کو مہمل چھوڑنا پڑے گا اور یہ معاد سے بھی غافل بنادیں گی ، جیسے مزامیر اور گانے بجانے کے آلات ، شطرنج کھیلنا ، شکار کے درپے
ہو جانا ، کبوتر بازی اور ایسے دوسرے اشغال۔ (مقالات سواتی ص ۴۴۳)