ان تمامی حضرات کے لیے بے حد افسوس اور اذیت دہ بات ہے جو ابھی تک مجرد اور مفرد ہیں کہ ان کی فہرست سے ایک ایسا شخص انتقال کر گیا ہے جو سابقہ تمام خوشی و مسرت کی محفلوں میں تجرید سے اتصاف کی بناء پر معروف ومشہور تھا، ہر مجلس میں اس کی انفرادیت کے ترانے پڑھے جاتے تھے، اس کی دائمی بیوانگی کے نعرے لگائے جاتے تھے، اہلِ تجرید احباب کو اس کے بارے میں یقین تھا کہ وہ ان کے ساتھ تاحیات وفا کرے گا، کبھی بھی ان سے بے رخی کا اظہار نہیں کرے گا، ہمیشہ ان کی فہرست میں سرپرستِ اعلیٰ کے طور پر زندہ وجاوید رہے گا، مستقل ان کی رہبری اور رہنمائی کرتا رہے گا، اپنے ماتحتوں کو فوائدِ تجرید سے روس ناش کراتا رہے گا، کبھی بھی انہیں تنہا اور اکیلا نہیں چھوڑے گا؛ 

      مگر ہاۓ افسوس! صد افسوس! کہ ابھی چند روز قبل وہ اپنے ان تمام سابقہ دوست واحباب کو الوداع کہ کر ایک دوسرے جہاں میں انتقال ہو گیا ہے، اپنے سرپرستِ اعلیٰ کے منصب کو پسِ پشت ڈال کر ایک صنفِ نازک کی غلامی کے لیے تیار ہو گیا ہے، ایک بالکل اجنبی کو اپنا حکمراں بنا بیٹھا ہے، اپنے بے مثال عہدہ سے دست بردار ہو گیا ہے، اب بس باقی کیا بچا ہے ؟ اہلِ تجرید اور مفرد احباب کے لیے رونے اور بلکنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، خدا سبھی کو صبر واطمینان نصیب فرمائے آمین، 


     بے وفائی تو وہ کر بیٹھا ہے، دوسری دنیا میں قدم تو رکھ چکا ہے، ابھی تک کے اجنبی؛ مگر دائمی اپنے کے ساتھ وابستہ تو ہو چکا ہے، اس "لا الی ھؤلاء ولا الی ھؤلاء" والے شعبہ میں داخلہ تو لے چکا ہے، تمنا اور حسرت کے لڈو کا ذائقہ تو چکھ چکا ہے، اب آگے کیا ہوتا ہے؟ یہ ایک نامعلوم کہانی مگر تجربہ کی رو سے مشہور ومعروف داستانِ رنج وملال ہے، ابھی تو آواز میں ہی عجیب اور لطف سے پرے تبدیلی محسوس ہوئی ہے، مگر سفر لمبا ہے، ہم سفر بھی مولویت کی وادیوں سے متجرب ہے، ہردو میں کافی علمی انسانیت ہے، ہم مزاج ہونے کی دعا ہم کۓ دیتے ہیں، خیر اپنے اس سابق سربراہ کے لئے دعائیں کیجیۓ، گرچہ وہ دوری اختیار کر چکے ہیں، حوصلہ دیجئے، ہمت دلائیے، میں تو مرثیہ نامہ تو پہلے ہی بھیج چکا ہوں اور اب تعزیت نامہ تحریر کر رہا ہوں۔

خدا اس جوڑ کو سدا جوڑے رکھے، دل سے دل تک اور باہم ہر عضو میں یکسانیت پیدا فرمائے، قضایا کا بہترین امتزاج فرمائے اور نتیجہ ولدِ صالح کی صورت میں ظاہر فرمائے، اخیر میں اقبال مرحوم کی روح سے معذرت کے ساتھ خاص طور پر یہ مصرعے پیشِ خدمت ہیں: 

ہوئی شادی تو پیروں میں پڑی ہیں اتنی زنجیریں

کبھی بیگم کے نخرے ہیں کبھی میکے کی تقریریں

سمجھ آنے لگی اقبال کی مصرعوں کی تفسیریں

نکاحِ مردِ مؤمن  سے  بدل  جاتی  ہیں  تقدیریں 


نوٹ: یہ تحریر ایک قریبی دوست قاضی محمد اسامہ مظاہری کی شادی مبارک کے موقع پر صرف طنز ومزاح اور سامانِ تفریح ہے۔ 


عبد اللہ یوسف 

٢٦/ جمادی الاولی ١٤٤٧ھ۔