جھاد سے پیچھے بیٹھا ہوا شخص کسی مجاھد کو فتویٰ نہیں دے سکتا،
بستروں میں پڑے رہنے والوں کو سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو فتویٰ دینے کا کوئی حق نہیں ہے،
پردہ نشین خواتین کا مردوں کی جنگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ مزاحمتی جوانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش نہ کریں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ کاز (مقصد) کے لیے نقصان دہ ہے،
بلکہ آپ خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کریں کہ جو لوگ زمین پر لڑ رہے ہیں، ان کے فیصلوں سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
اور جان لیں کہ پیچھے بیٹھے ہوئے شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مجاھد کو فتوی دے۔