عام تاثر یہی ہے کہ سب سے زیادہ جنگلی اونٹ عرب ، افریقہ یا منگولیا میں پائے جاتے ہیں جو ان کا روایتی وطن ہے ۔ لیکن حقیقت میں سب زیادہ جنگلی اونٹ آسٹریلیا کے صحراؤں میں پائے جاتے ہیں۔
1840 سے 1900 کے اوائل تک آسٹریلیا نے گرم علاقوں اور صحراؤں میں نقل و حرکت اور سامان کی ترسیل کے لیے 20 ہزار اونٹ ہندوستان سے امپورٹ کیے گئے۔ پھر جوں جوں نقل و حرکت کے ذرائع میں ترقی ہوتی گئی ویسے ہی اونٹ کا استعمال متروک ہوتا گیا۔ اور انہیں صحراؤں میں ہی چھوڑ دیا گیا۔
2013 کے اعدادوشمار کے مطابق آسٹریلیا میں جنگلی اونٹوں کی تعداد تقریبا 3 لاکھ تھی جو کہ 2020 میں بڑھتے بڑھتے 12 لاکھ سے تجاوز کر گئی ۔ حتی کہ آسٹریلین اتھارٹی نے جنوری 2020 میں تقریبا 10 ہزار جنگلی اونٹوں کو ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کر ہلاک کردیا ۔ اتھارٹیز کا کہنا تھا کہ یہ اونٹ قریبی آبادیوں میں نکل آتے ہیں
ہمارے گھروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں اور وہ ٹینک، پمپ اور پائپ کو توڑ دیتے ہیں۔ وہ باڑھ کو توڑ دیتے ہیں جو کہ ہمارے لیے بہت تشویش کا باعث ہے۔‘
لیکن یہ تشویش صرف ان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جنگلی اونٹ آسٹریلیا کے دوسرے آبائی جانداروں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، ان کی خوراک کم کر دیتے ہیں اور ان کے قدرتی پناہ گاہوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔
’وہ اس علاقے میں ہر چیز پر قابض ہیں اور اگر وہ درخت کو تباہ کر دیتے ہیں اور ساری گھاس کھا جاتے ہیں تو یہاں کوئی کینگرو و نہیں ہوں گے، کوئی ایمو اور چھوٹی چڑیا نہیں ہوگی اور نہ کوئی رینگنے والا جانور ہوگا۔‘
اتھارٹیز ہیلی کاپٹر سے ان اونٹوں کا شکار کرتی ہیں اور انہیں وہیں سڑنے کے لیے چھوڑ دیتی ہیں۔ ان کا کہنا کہ ہم خوشی سے ایسا نہیں کرتے بلکہ ہمیں مجبوراً یہ کرنا پڑتا ہے۔
منقول