قلم محض ایک آلہ نہیں، یہ ایک آتش فشاں ہے🔥 جو بظاہر خاموش رہتا ہے مگر جب پھٹتا ہے تو زمانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ تلوار کی چمک آنکھوں کو خیرہ ضرور کرتی ہے، مگر قلم کی ضرب روح کے نہاں خانوں تک اتر کر انسان کی سوچ کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ تلوار کا وار جسم کو چیرتا ہے، لیکن قلم کا وار تاریخ کے سینے پر ایسا نقش چھوڑتا ہے جو کبھی مٹ نہیں پاتا۔
میدانِ جنگ میں تلواریں ٹکراتی ہیں⚔️ تو صرف خون بہتا ہے، مگر جب قلم حرکت میں آتا ہے تو سلطنتیں ہل جاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش قیامت ہے جس کی گونج صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔ عدالتوں میں جب قلم 🖋️جنبش کرتا ہے تو اس کی نوک گویا موت اور زندگی کے درمیان کھینچی گئی ایک باریک لکیر بن جاتی ہے؛ ایک لمحے میں یہی قلم کسی انسان کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال دیتا ہے، اور اگلے ہی لمحے کسی بے گناہ کے لیے آزادی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قلم کی سیاہی نہیں بلکہ خونِ تقدیر بہہ رہا ہو۔
قلم ایک تیز دھار تلوار سے بڑھ کر ہے، کیونکہ تلوار کا اثر وقتی ہوتا ہے مگر قلم کا اثر دائمی۔
 یہ ذہنوں میں بغاوت کی چنگاریاں بھڑکا دیتا ہے، دلوں میں امید کے چراغ روشن کر دیتا ہے، اور قوموں کی تقدیر کا رخ موڑ دیتا ہے۔ بڑے بڑے انقلاب، جو بظاہر جنگوں کا نتیجہ نظر آتے ہیں، دراصل قلم کی نوک سے جنم لیتے ہیں۔ یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو عروج کی بلندیوں تک بھی لے جا سکتی ہے اور زوال کی گہرائیوں میں بھی دھکیل سکتی ہے۔

اسلام نے بھی قلم کی اسی ہیبت اور عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم کھا کر گویا انسان کو جھنجھوڑ دیا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں، بلکہ ایک ایسی قوت ہے جس کے سامنے تلوار کی دھار بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ ایک امانت بھی ہے اور ایک امتحان بھی، جس کے ذریعے حق اور باطل کا فیصلہ ہوتا ہے۔


اگر قلم سچائی کا ساتھ دے تو یہ اندھیروں کو چیر کر روشنی کا سیلاب لے آتا ہے، اور اگر یہ جھوٹ کے ہاتھوں بک جائے تو یہی قلم زہر آلود خنجر بن کر معاشرے کے سینے میں پیوست ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک جنبش انسان کو عروج پر پہنچا سکتی ہے، اور اس کی ایک لغزش پوری قوم کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے

 شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ قلم کی طاقت اپنے شعر میں یو بیان کرتے ہیں

قلم گوید کہ من شاہِ جہانم
قلم از دستِ شاہان بھی ستانم
👉 ترجمہ:
قلم کہتا ہے کہ میں دنیا کا بادشاہ ہوں،
میں بادشاہوں کے ہاتھ سے بھی اختیار چھین لیتا ہوں۔

🖋️عروہ جی🖋️