قارئین اکرام سوچ رہے ہوں گے کہ پہلے کچھ عرصہ تک حذیفہ محمود کے نام سے مضامین شائع ہوتے رہے
پھر اس کے بعد حذیفہ جدران کے نام سے مضامین شائع ہوتے رہے
لیکن یہ دونوں عارضی نام تھے جو کہ بوقت ضرورت اور وقت نہ ہونے کی وجہ سے استعمال کیے گئے
چونکہ میں ایک انقلابی سوچ فکری سوچ کا حامل شخص ہوں تو اسی وجہ سے میں نے اپنا نام طوفان احمری رکھا ہے میرا اصل نام نا پہلے والے تھے نہ اب والا ہے
لہذا ہمیں اس طرف جانے کی ضرورت بھی نہیں
یہ میرا قلمی نام ہے
طوفان احمری کا مطلب سرخ طوفان ہے
یہ طوفان کفار پر
بجلی بن کے کڑکے گا
انشاء اللہ
اور ہم اسی طوفان کے ذریعے سے
مسلمانوں کو بیدار کریں گے
غزہ
بوسنیا
چیچنیا
برما
فلسطین
غرض ہر
وہ ملک
علاقہ
جہاں
مسلمان
کمزور ہوگا
اس کی آواز بنیں گے
اس کے دست و بازو بنیں گے
ہر مسلمان کو جہاد سمجھانے کی کوشش کریں گے
بہرحال
اب سے ہم طوفان احمری
کے نام سے ہی لکھیں گے
بقلم
طوفان احمری: