مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی کی گرفتاری پر اٹھتے سوالات.
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (93)
موجودہ دور میں جب انصاف، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی باتیں زور و شور سے کی جاتی ہیں، بعض واقعات ایسے سامنے آتے ہیں جو ان تمام دعووں کو کڑی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ حالیہ واقعہ بھی انہی میں سے ایک ہے، جس نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔
مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب کی وہ ویڈیو جو گرفتاری کے بعد پولیس کے ساتھ سامنے آئی ہے، اس سے یہ اندازہ نہیں بلکہ شاید حقیقت ہی معلوم ہوتی ہے کہ مولانا پر سخت بے رحمی کے ساتھ مارپیٹ اور زیادتی کی گئی ہوگی، مولانا کا جرم یہ تھا کہ اپنے اسپیچ میں بطورِ تشبیہ کچھ نامناسب الفاظ کہے تھے، اگرچہ ایسا کہنا بھی مناسب نہیں تھا۔ پھر مولانا کی جانب سے اس کی وضاحت اور معافی نامہ بھی بطورِ ویڈیو آ چکا تھا، تو پھر اس قدر سخت انداز میں گرفتاری کیوں عمل میں آئی؟ اگر ان کی پیش کردہ معذرت کو قابلِ قبول نہیں سمجھا گیا،
، تو پھر گرفتاری کے بعد ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی کیوں منگوائی گئی؟ یا پولس کی حراست میں معافی کیوں مانگے کیا اس معافی کے بعد مولانا کو چھوڑ دیا گیا؟ کیا انہیں گھر بھیج دیا گیا؟ نہیں __کیا یہ ظلم نہیں؟ کیا یہ کسی ایک قوم کو نشانہ بنانا نہیں؟ کیا یہ تشدد اور نفرت کو بڑھاوا دینا نہیں؟ کیا یہ ان کی قوم کے جذبات سے کھیلنا اور انہیں اکسانا نہیں؟ایسے کئی سوالات ہیں اس کا جواب کون دے گا؟
یاد رکھیں، ظلم و تشدد سے آپ منہ تو بند کر سکتے ہیں، مگر دل سے نکلی آہیں بند نہیں کر سکتے۔ آپ اپنے آپ کو طاقتور سمجھتے ہیں، مگر ذرا آسمان کی طرف دیکھیں، اصل طاقتور کون ہے۔لہٰذا اصل قوت وہ ہے جو عدل، حکمت اور انصاف کے ساتھ استعمال ہو۔ اگر واقعی قانون کی پاسداری مطلوب ہے تو اس کا راستہ بھی وہی ہونا چاہیے جو قانون نے متعین کیا ہے—یعنی شفاف کارروائی، عدالت میں پیشی، اور غیر جانبدارانہ فیصلہ۔
یہ واقعہ محض ایک فرد تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی نظامِ انصاف پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر اقدام قانون اور انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور معاشرہ انتشار کے بجائے استحکام کی راہ پر گامزن ہو۔
بقلم محمودالباری. mahmoodulbari342@gmail.com