بنت محمد رافع✍️
انسان کی فطرت میں جذبات رکھے گئے ہیں، انہی میں سے ایک غصہ بھی ہے۔ غصہ بظاہر ایک چھوٹا سا جذبہ لگتا ہے، لیکن اگر اسے قابو میں نہ رکھا جائے تو یہ بڑے بڑے نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ کتنے ہی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، کتنی ہی محبتیں ختم ہو جاتی ہیں، صرف ایک لمحے کے غصے کی وجہ سے۔
غصہ دراصل انسان کے اندر موجود ایک آگ ہے، جو اگر بھڑک جائے تو پہلے اپنے دل کو جلاتی ہے، پھر دوسروں کو تکلیف دیتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے ہمیں غصے کو دبانے اور برداشت کرنے کی تعلیم دی ہے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے۔
جب انسان غصے میں ہوتا ہے تو اس کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ وہ ایسے الفاظ بول دیتا ہے جن کا بعد میں اسے شدید افسوس ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہی غصہ انسان کو گناہوں تک لے جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اس جذبے کو پہچانیں اور اسے قابو میں رکھنا سیکھیں۔
غصے کو کم کرنے کے لیے اسلام نے ہمیں آسان طریقے بھی بتائے ہیں: وضو کرنا، خاموش ہو جانا، جگہ بدل لینا، اور اللہ کو یاد کرنا۔ یہ چھوٹے چھوٹے عمل دل کو ٹھنڈک دیتے ہیں اور غصے کی شدت کو کم کر دیتے ہیں۔
جو شخص اپنے غصے کو قابو میں رکھ لیتا ہے، وہ دراصل اپنے نفس پر غالب آ جاتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں بھی ان کے لیے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔
آخر میں یہی کہنا ہے کہ غصہ آنا برا نہیں، لیکن اس پر قابو نہ رکھنا برا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کو اپنا زیور بنائیں اور ہر حال میں نرم مزاجی اختیار کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔