مارکو اور عمر کی حیران کن داستان
یہ ایک حقیقی، دستاویزی، نہایت عجیب اور دل کو چھو لینے والی حیرت انگیز داستان ہے دو اطالوی نوجوانوں کی، جو اسلام قبول کرنے کے بعد ایک دوسرے کے دینی بھائی بن کر لندن کی انہی گلیوں میں دین حنیف کی دعوت دے رہے ہیں، جہاں کبھی وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔
ان میں سے ایک کا نام “عمر” تھا اور حیرت انگیز بات یہ کہ وہ اسلام لانے سے پہلے بھی عمر ہی کہلاتا تھا، یہی پیدائشی نام تھا!! حالانکہ اس کا خاندان نہ مسلمان تھا اور نہ ہی اسلام سے واقف اور اسے عمر نام کا معنی بھی معلوم نہیں تھا۔
مارکو ایک اطالوی نصرانی نوجوان ہے، جو لندن میں رہتا ہے۔ اس کی زندگی شراب، عورتوں اور رات کی محفلوں میں گزرتی تھی۔ وہ اپنی ماں سے بھی کئی مہینوں تک ایک لڑکی کی وجہ سے ناراض رہا اور دین و اخلاق سے کوسوں دور تھا۔ اس کا زیادہ تر وقت نائٹ کلبوں میں گزرتا تھا۔
ایک رات، لندن کی ایک شور و غل سے بھری سڑک پر جہاں موسیقی، فحاشی اور شراب کا راج تھا، مارکو کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو پہلے ایک شدت پسند عیسائی مبلغ تھا، مگر اللہ نے اسے اسلام کی ہدایت دے دی تھی اور اب وہ انہی گلیوں میں اسلام کی دعوت دیتا تھا۔ اس نے مارکو کو قریبی مسجد میں آنے کی دعوت دی۔
مارکو بیان کرتا ہے:
“میں مسجد میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا۔ لوگ صرف اللہ کی عبادت کر رہے تھے۔ کوئی کسی کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا، کوئی یہ نہیں پوچھ رہا تھا کہ تم کون ہو یا کہاں سے آئے ہو۔ سب اپنے رب کی عبادت میں مگن تھے۔ باہر سے موسیقی کی تیز آوازیں مسجد کی دیواروں کو چیرتی ہوئی اندر آ رہی تھیں، مگر نمازیوں کو جیسے اس کا کوئی احساس ہی نہ تھا۔
نماز شروع ہوئی… اور اچانک مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے اندر کچھ بدل رہا ہو، جیسے میرا دل پگھل گیا ہو۔ پھر میں نے پہلی بار قرآن سنا۔ میں ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکا، مگر اس کی آواز… اس کی تاثیر… وہ دل کو ہلا دینے والی تھی… بس دل کی دنیا بدل گئی اور میں نے کلمہ پڑھ لیا۔
مارکو واپس اٹلی گیا اور اپنی ماں سے کہا:
“اماں! اگر آپ کا بیٹا شراب، منشیات، سگریٹ، عورتوں اور گناہوں کو چھوڑ دے، نماز پڑھنے لگے اور آپ کی عزت کرے تو؟”
ماں نے کہا: “تب تو میں دنیا کی سب سے خوش نصیب ماں بن جاؤں گی۔”
مارکو نے جواب دیا:
“آج میں مسلمان ہو گیا ہوں… اور میرا دین مجھے سکھاتا ہے کہ میں آپ کو کسی بیوی یا گرل فرینڈ کی خاطر ناراض نہیں کر سکتا، کیونکہ آپ نے مجھے نو مہینے اپنے پیٹ میں رکھا ہے، نہ کہ کسی پرائی لڑکی نے۔”
یہ سن کر ماں خوشی سے رو پڑی۔ مارکو نے اپنا نام “محمد مارکو” رکھ لیا۔
وہ کہتا ہے:
“میں نے دنیا کی ہر چیز چھوڑ دی… صرف جنت میں ایک چھوٹی سی جگہ کی تلاش میں۔ پہلے میں جاہل تھا، اب مجھے اسلام مل گیا ہے اور اس تبدیلی کا راز ہے: فجر کی نماز وقت پر ادا کرنا۔ جو شخص فجر کو وقت پر پڑھ لے، اس کا پورا دن بدل جاتا ہے۔”
اسے دعوت دینے والے نوجوان کا تعلق بھی اٹلی سے ہے۔ جس کا پورا نام عمر جوزیبی بازیلیو کافالییری ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کا نام پیدائش سے ہی “عمر” تھا، حالانکہ اس کا خاندان سخت کیتھولک عیسائی تھا، جہاں بچوں کے نام عام طور پر مقدس شخصیات کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔
دراصل عمر کے والد کے والد فٹ بال کلب یووینٹس کے مداح تھے۔ انہوں نے ارجنٹائن کے سابق عظیم کھلاڑی “عمر سیووری” (Enrique Omar Sívori) سے متاثر ہو کر اپنے بیٹے کا نام عمر رکھ دیا تھا۔ کیا پتہ تھا کہ اس عظیم کے اثر سے ایک دن ان کے بیٹے کی دنیا بدل جائے گی اور کیتھولک خاندان کا یہ چشم و چراغ عمر فاروق اعظم کی نسبت سے الگ پہچان بنا لے گا۔
واضح رہے کہ عمر سیووری فٹبال کی تاریخ کے ایک نہایت مشہور اور بااثر کھلاڑی ہیں۔ ارجنٹائن اور اٹلی دونوں کی نمائندگی کرنے والے عظیم فٹبالر۔ 2005ء میں انتقال فرما گئے۔ 1961 میں فٹبال کا سب سے بڑا اعزاز Ballon d'Or جیتا۔ اپنے وقت میں دنیا کے سب سے بہترین فارورڈ تھے۔ اٹلی میں ان کی شہرت و مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بہت سے مداح اپنے بچوں کے نام “عمر” رکھنے لگے۔
بہرحال عمر کی زندگی بھی گناہوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ وہ لندن کے علاقے کیمڈن میں راتیں گزارتا، ہر قسم کی برائی میں مبتلا تھا۔ وہ شادی شدہ تھا اور بچوں کا باپ بھی، مگر زندگی بے سکونی اور غفلت میں گزرتی تھی۔ وہ بھی نائٹ کلبوں کا رسیا تھا۔
ایک دن اس کی فیس بک پر ایک مسلمان لڑکی سے فلسطین کے مسئلے پر بات ہوئی۔ گفتگو کے آخر میں اس لڑکی نے کہا:
“اللہ آپ کو اسلام کی ہدایت دے۔”
وہ ہنس پڑا اور دل میں کہا: “میں خدا کو مانتا ہوں، مگر کوئی دین یا مذہب میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا، میں اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا۔”
مگر وہ لڑکی اسے اسلام کے بارے میں بتاتی رہی… اسی نے بتایا کہ عمر کس عظیم ہستی کا نام ہے۔ اس نے تاریخ کے صفحات پر کیا نقوش چھوڑے ہیں اور پھر اچانک ایک عجیب کیفیت نے عمر کو گھیر لیا۔
عمر خود بتاتے ہیں:
“مجھے یوں لگا جیسے ہر طرف سے کوئی چیز مجھے گھیر رہی ہے، آسمان سے، زمین سے، دائیں سے، بائیں سے… اور پھر میں نے اپنے اندر ایک آواز سنی:
‘اے عمر! تم مسلمان ہو!”
صرف دو ماہ کے اندر وہ اسلام قبول کر کے اٹلی واپس لوٹ آیا۔
اس نے اپنے کئی دوست کھو دیئے، اس کی بیوی نے اسے چھوڑ دیا، کیونکہ وہ اس کی داڑھی اور اسلامی لباس کو قبول نہ کر سکی، مگر اس کے والد نے مخالفت نہ کی اور اس کی بہن اور بہنوئی نے خوشی کا اظہار کیا۔
عمر کہتے ہیں:
“اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، چاہے وہ اٹلی میں ہو، جرمنی میں یا الجزائر میں۔ اسلام صرف عربوں کا دین نہیں، یہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ آج میں نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کا حصہ ہوں۔ والد نے ایک فٹ بالر کی محبت میں میرا نام ‘‘عمر’’ رکھا… مگر میرے رب کو یہ نام اتنا پسند آیا کہ اب یہی میرا اسلامی نام بھی بن گیا۔
آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہارا نام اسلام سے پہلے کیا تھا؟ تو میں کہتا ہوں: عمر! وہ حیران ہوتا ہے اور کہتا ہے: نہیں، اسلام سے پہلے!
تو میں کہتا ہوں: سبحان اللہ! میرا نام پہلے بھی عمر تھا اور آج بھی عمر ہے!”
یہ داستان اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اسلام انسان کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے اور رب جسے چاہتا ہے، جب چاہتا ہے، جہاں چاہتا ہے ہدایت عطا فرما دیتا ہے، چاہے وہ موسیقی کی گونج اور شراب کی بو میں ڈوبا ہوا ماحول ہی کیوں نہ ہو۔
حق تعالیٰ محمد مارکو، عمر کافالییری اور تمام نو مسلموں کو ثابت قدمی، علم، یقین اور اخلاص عطا فرمائے اور انہیں اپنے متقی بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
از
(ضیاء چترالی)
بقلم
طوفان احمری