بسم اللہ الرحمن الرحیم .
ہم مسلمان یہ بات اچھی طرح جانتے اور مانتے ہیں کہ قران ایک ایسی کتاب ہے کہ جس میں ہم امت کے ہر مسئلے کا حل پاتے ہیں ۔زندگی اور زمانے کے ہر موڑ پر ہمیں قران مجید راہ دکھاتا ہے اور ہماری مشکل اسان کرتا ہے ۔جب یہ بات بالکل صحیح ہے تو کیوں نہ ہم اس وقت مسلمانوں کی بے بسی مظلومی مغلوبی محکومی اور خاص کر بے دینی کاحل قران کے کسی واقع یا کسی زمانے میں تلاش کریں ۔اور اس وقت کیے گئے عمل سے یااللّه کے حکم سے ہم وہ تلاش کریں تو ہمیں ضرور ایسی ہدایت مل جائے گی جس پر چل کر ہم ان حالات سے باہر ا جائیں ۔تو جو واقعہ ہمارے زمانے سے ملتا جلتا ہے وہ موسی علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ ہے ۔
ہم موسی علیہ السلام کے زمانے سے ہمارے زمانے کا موازنہ کرتے ہیں ۔
1)موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک ظالم بادشاہ تھا فرعون جو بڑا طاقتور اور شرکت تھا اس کا ایک خاص وزیر تھا ہامان ۔(20:43)
1)ہمارے زمانے میں بھی بھارت میں ایک ظالم حاکم ہے جو اپنی شرکسی میں بڑھتا جا رہا ہے اس کا ایک خاص وزیر ہے امت شاہ
2)فرعون نے اپنی عوام میں تفرقہ ڈال رکھا تھا اور الگ الگ گروہ بنا رکھے تھے اور ایک خاص قوم جو اسمانی مذہب پر ایمان رکھتی تھی بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا ۔(28:4قرآن )
2)بھارت میں بھی ہمارے حاکموں نے ذات پات کے نام پر سب کو الگ کر رکھا ہے اور ہم مسلمانوں کو کمزور کر رکھا ہے اور غلام بنانے کی تیاریاں ہیں ۔
3)فرعون کو کسی نے یہ بات کہے رکھی تھی کہ بنی اسرائیل میں کوئی لڑکا پیدا ہوگا جو اس سے اس کی حکومت چھین لے گا؛ جس کا اس کو ڈر تھا ۔(قرآن 28:6)
3)بھارت کی حاکموں کو بھی یہ ڈر ہے کہ مسلمان غزوہ ہند کریں گے اور ان کی حکومت چلی جائے گی
4)فرعون کی قوم اکثریت میں تھی اور بنی اسرائیل اقلیت میں تھے ۔(قرآن ،26:54،56)
4)بھارت میں بھی حاکم قوم اکثریت میں ہے اور ہم مسلمان اقلیت میں ہیں ۔
5)فرعون بادشاہ ہونے کی وجہ سے اس کے پاس جنگی سامان اور فوج وغیرہ بہت تھا جبکہ بنی اسرائیل بے سر و سامانی کی حالت میں تھے ۔
5)بھارت کی حکومت کے پاس بھی بہت جنگی سامان ہے اور مسلمان بے سر و سامان ہیں ۔
6)فرعون کی قوم اور بنی اسرائیل الگ الگ قوم کے تھے
6)ہم بھارت میں مسلمان بہت پہلے ایمان لائے ہیں اور اب الگ الگ قوم ہو چکے ہیں ۔ان چھ نکات پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا زمانہ فرعون کے زمانے سے بہت ملتا جلتا ہے ۔قران پاک میں سورہ قصص کی پانچویں چھٹی ایت میں اللّه تعالی خود فرماتا ہے ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بے حد کمزور کر دیا گیا تھا۔ اور ہم انہی کو پیشوا اور زمین کا وارث بنائے اور یہ بھی کہ ہم انہیں زمین میں قدرت وہ اختیار دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ دکھائیں جس سے وہ ڈر رہے ہیں 20:5،6
تو اللّه تعالی نے موسی علیہ السلام جیسے نبی کو پیدا کیا ۔اور جب انہیں نبوت دی تو کہا کہ جاؤ موسی علیہ السلام کی طرف اس نے بڑی سرکسی مچا رکھی ہے ۔20:43
یعنی موسی علیہ السلام کو ڈائریکٹ فرعون کے پاس دعوت دینے کے لیے اور بنی اسرائیل کی رہائی کے لیے بھیجا ۔(یہ نہیں کہا کہ بنی اسرائیل کی اصلاح کرو ،انہیں کتاب بھی فورا نہیں دی یعنی احکام بھی نہیں ائے ،نا انہیں طاقت جٹانے کو کہا ،نہ اتحاد بنانے کو کہا ،نہ علم حاصل کرنے کو کہا ۔)
اس واقعے سے اور اس موازنہ سے نتیجہ نکلا کہ ہمیں قران پاک سے جو ہدایت کی کتاب ہے ہدایت لیتے ہوئے اس وقت کے حاکموں کو یعنی نریندر مودی امت شاہ اور ار ایس ایس کے لیڈروں کو ایمان کی اسلام کی دعوت دینی چاہیے ۔اور جم کر ہمت سے دعوت دینی چاہیے ۔پھر نتیجہ اللّه تعالی پر چھوڑ دینا چاہیے چاہے انہیں ہدایت ملے ،چاہے وہ سرکشی کرنے لگے اور ہمارے ساتھ اللّه کی مدد آئے یا ہم کام میں آ جائیں ۔
.محمد عرفان