یہ نیو ورلڈ آرڈر جو میں آپ کے سامنے بیان کررہا ہو وہ کیا ہے ؟ اور اس کے مہلک اثرات ہمارا کیا نقصان پہنچا سکتے ہے ائیے ہم جانتے ہیں اس کی چند قسطیں میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہو امریکہ اور روس دونوں مل کر دنیا میں ایک نئی تبدیلی اور ایک نئی صورتحال اور ایک نیا مذہب پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان دونوں میں اس پر اتفاق ہے اور بدقسمتی سے ان دونوں کے علاوہ دوسری بڑی طاقتیں بھی جاپان سمیت ان کے ساتھ متفق ہیں۔ صرف چین تھوڑا سا ہٹا ہوا ہے، پتا نہیں ہٹا رہتا ہے یا ساتھ چلتا ہے، لیکن تمام طاقتیں جو بڑی کہلاتی ہیں وہ اس نیو ورلڈ آرڈر پر متفق ہیں۔

*نیو ورلڈ آرڈر کیا ہے؟*

دجال کے انے سے پہلے یہودی بینکار دنیا میں ایک نیا عالمی مذہب نافذ کرنا چاہتے تھے چنانچہ 1992 ء میں نیو ورلڈآرڈر کے نام سے دنیا میں اس نظام کو متعارف کرایا گیا یہ در حقیقت ایک نیا مذہب ہے جسکی بنیاد خواہشات پر قائم ہے۔ عالمی ادارے ساری دنیا میں اس نۓ مذہب کو رائج کرنے کے لئے متحرک ہوئے اور آپ سوچ کر حیران ہونگے کہ 1902 ء کے بعد کتنی تیزی کے ساتھ زندگی کی ہر شعبے میں تبدیلی آتی ہے۔
ظاہرا یہ نظام اگر چہ دنیا کی اقتصادی (Economical) صورت حال سے تعلق رکھتا ہے یقیہ اس نظام کو ایک ضابطہ حیات کے طور پر مسلط کیا گیا۔ اخلاقیات اور دینی اعتبار سے اسکے انے میں واحد رکاوٹ چونکہ اسلام تھا چنانچہ اسلام کی ان تعلیمات کو یکسر ختم کرنے پر زور دیا گیا جو اس نئے مذہب کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی تھیں۔
لوگوں کی طرز زندگی کو مکمل اس نئے مذہب کے سانچے میں ڈھالنا عالمی اداروں کا ہدف تھاآپ دیکھ سکتے ہیں کہ معاشرے کے نظام کو تبدیل کرنے کے لئے ہر شعبے میں محنت کی گئی لوگوں کا پہناوا کھانے پینے کے اوقات سونا جاگنا طرزرہائش انسان کی ذاتی زندگی ، شادی کب ہونی چاہئے ، بچے کتنے ہوں، خواہشات میں اضافہ ، تعلقات کی بنیاد ، کاروبار کے طور و طریقہ، ان تمام باتوں میں لوگوں کو کھینچ کر اس نۓ مذہب میں داخل کیا گیا۔
صرف یہی نہیں کہ عالمی اداروں نے اسکو بد معاشی سے دنیا میں نافذ کرایا بلکہ اسکے علاوہ کسی اور مذہب کو بحیثیت طرز زندگی یا ضابطہ حیات کے اختیار کرنے پر باقاعدہ جنگوں کا اعلان کیا گیا اور ان قوموں کا کھانا پانی بند کرنے سے لے کر ادویات تک اور پھر ان ممالک پر قبضہ کر کے وہاں اپنا کی نیا مذہب طاقت کے زور پر نافذ کیا گیا ۔ جیسا کہ اج کل ہم غزہ کا مشاہدہ کررہے ہے اسکے بعد اسکی حفاظت کے لئے تمام دنیا کی فوج کو وہاں تعینات کر دیا گیا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک اس نئے مذہب کی شریعت پر عمل کرنے کا پابند ہے ورنہ اس کو دہشت گرد قرار دیکر اس کو پتھر کے دور میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ سمجھنے کے لئے ایک بہت معمولی مثال آپ کو دے دیتے ہیں۔
یہودی اداروں کی تیار کردہ مشروبات کو ہی لے لیجئے۔ مثلا پیپسی، کوک اور منرل واٹر ۔ انکا استعمال اس نۓ مذہب میں لازمی قرار پایا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی ملک اپنے ہاں ڈاکٹر حضرات کی تحقیقات کے بعد اسکے نقصانات کو دیکھتے ہوئے اس پر پابندی لگانا چاہے تو دنیا کی کوئی حکومت ایسا نہی کر سکتی۔ خواہ اسکے لئے اس ملک کے خلاف پابندیاں عائد کرنی پڑیں۔ یہ بات الگ ہے کہ وہ مذہب کا حصہ کہ کرنافذ نہیں کرتے بلکہ اسکو ایک دوسرا نام آزادانہ عالمی تجارت کے منافی قرار دے کر بزور قوت اس کو مسلط کرتے ہے (جاری)

ابو تراب خلیلی پالنپوری