*کیا ناد علی شرک نہیں ہے؟*
تحریر: عبدالجبار سلہری، جویا شریف
عملیات کے میدان میں شرکیہ اعمال اس قدر کثرت سے رائج ہو چکے ہیں کہ عام لوگوں کو چھوڑیں، وہ حضرات بھی جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں اور علم و فہم کا دعویٰ رکھتے ہیں، اسی گرداب میں گرفتار دکھائی دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک تحریر نظر سے گزری، جس میں عقائد کی بنیادی حقیقتوں کو سمجھے بغیر چند دعوے بڑے اعتماد کے ساتھ پیش کیے گئے تھے۔ یہ صورتِ حال اس امر کی متقاضی تھی کہ ان علمی بے ضابطگیوں اور فکری انحرافات کا سنجیدہ محاسبہ کیا جائے، ورنہ اندیشہ ہے کہ سادہ لوح عوام کے ایمان کے ساتھ یہی کھیل جاری رہے گا۔
زیرِ بحث مسئلہ “نادِ علی”، اولیاء سے استعانت، اور دم و تعویذات کے جواز سے متعلق ہے۔ بعض حضرات، خصوصاً نور زمان شاذلی صاحب، اسے ایک مجرب دعا، روحانی وظیفہ اور صدیوں سے جاری معمول قرار دیتے ہوئے اس کے جواز بلکہ استحسان کے قائل ہیں؛ جب کہ دیگر اہلِ علم، خواہ وہ سنی ہوں یا شیعہ، اسے غیر ثابت بلکہ بعض صورتوں میں عقیدۂ توحید کے منافی قرار دیتے ہیں۔
موصوف نے اپنے موقف کے اثبات میں چند نکات پیش کیے، جن کا خلاصہ یہ ہے: نادِ علی کو بلا تحقیق شرک کہا جاتا ہے؛ یہ صدیوں سے رائج ہے؛ اس میں کوئی صریح شرکیہ پہلو نہیں؛ یہ کشف کے ذریعے امام جعفر صادقؒ سے منقول ہے؛ اولیاء کو پکارنا جائز ہے؛ اور بدعت و شرک کو خلط کیا جا رہا ہے۔
یہ دعوے بظاہر دلکش ضرور محسوس ہوتے ہیں، لیکن علمی میزان میں ان کی قدر و قیمت اسی وقت متعین ہو سکتی ہے جب یہ قرآن، سنت اور منہجِ سلف کے اصولوں پر پورے اتریں۔
یہاں چند بنیادی اصطلاحات کی وضاحت ناگزیر ہے تاکہ مسئلہ پوری طرح واضح ہو سکے:
شرک:
اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات یا افعال میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔
(المفردات للراغب، ص: 259)
دعا:
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
“الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ”
(سنن ترمذی، حدیث: 2969)
استغاثہ:
کسی کو پکار کر مدد طلب کرنا۔ اگر یہ غیر اللہ سے ہو اور غیبی نوعیت رکھتا ہو تو شرک کا قوی احتمال پیدا ہو جاتا ہے۔
قرآنِ مجید اس باب میں نہایت واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے:
“وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا” (سورۃ الجن: 18)
یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
اسی طرح ارشاد ہوتا ہے:
“إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ”
(سورۃ الفاتحہ: 5)
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ”
(سنن ترمذی، حدیث: 2516)
جب سوال کرو تو صرف اللہ سے کرو۔
ائمۂ سلف کے اقوال بھی اسی حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں:
“غیر اللہ کو نہ پکارا جائے”
(الفقہ الاکبر)
امام نوویؒ لکھتے ہیں:
“دعا صرف اللہ سے کی جائے”
(شرح صحیح مسلم، 17/28)
ابن تیمیہؒ کا قول ہے:
“جو غیر اللہ کو پکارتا ہے وہ مشرک ہے”
(مجموع الفتاویٰ، 1/124)
اب پیش کردہ دعوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
پہلا دعویٰ: نادِ علی کو بلا تحقیق شرک کہا جاتا ہے۔
یہ دراصل اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ عمل قرآن و سنت سے ثابت ہے یا نہیں۔ اگر ثبوت نہیں تو محض دعویٰ کوئی وزن نہیں رکھتا۔
دوسرا دعویٰ: یہ صدیوں سے رائج ہے۔
محض رواج کسی عمل کے حق ہونے کی دلیل نہیں۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ اکثریت بھی گمراہ ہو سکتی ہے۔
(سورۃ الأنعام: 116)
تیسرا دعویٰ: اس میں شرک کہاں ہے؟
اگر نادِ علی میں حضرت علیؓ سے مدد طلب کی جا رہی ہے تو یہ استغاثہ ہے، اور جب استغاثہ غیر اللہ سے ہو تو یہ توحید کے منافی ہو جاتا ہے۔
چوتھا دعویٰ: یہ شرکیہ الفاظ سے پاک ہے۔
یہ جزوی دفاع ہے، کیونکہ اصل اعتبار الفاظ سے زیادہ اعتقاد اور مفہوم کا ہوتا ہے؛ اور خود الفاظ میں بھی شرکیہ پہلو پایا جاتا ہے۔
پانچواں دعویٰ: یہ کشف کے ذریعے امام جعفر صادقؒ سے حاصل ہوا۔
کشف شریعت کی دلیل نہیں، اور امام جعفر صادقؒ کی طرف اس نسبت کی کوئی مستند سند بھی موجود نہیں۔
چھٹا دعویٰ: اولیاء زندہ ہیں، اس لیے انہیں پکارنا جائز ہے۔
حیاتِ برزخی اپنی جگہ مسلم ہے، مگر قرآن کہتا ہے:
“إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى” (سورۃ النمل: 80)
مزید یہ کہ صحابۂ کرامؓ نے نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد کبھی آپ کو اس انداز میں نہیں پکارا جس طرح ناد علی میں ہوتا ہے۔
ساتواں دعویٰ: بدعت اور شرک الگ ہیں۔
یہ اصولی طور پر درست ہے، لیکن جب غیر اللہ سے مدد طلب کی جائے تو معاملہ صرف بدعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ شرک کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔
دم و تعویذات کا مسئلہ:
نبی کریم ﷺ سے دم کرنا اور لعابِ دہن کا استعمال ثابت ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 5745؛ صحیح مسلم، حدیث: 2194)
لیکن یہ براہِ راست عمل تھا، اس میں غیر اللہ کو نہیں پکارا گیا؛ لہٰذا نادِ علی پر اس کا قیاس درست نہیں۔
نادِ علی کا کوئی صحیح شرعی ثبوت موجود نہیں۔
اس کی بنیاد کشف اور غیر مستند روایات پر ہے۔
اگر اس میں غیر اللہ سے مدد طلب کی جائے تو یہ شرک ہے۔
اولیاء کی حیات کا عقیدہ اپنی جگہ، مگر انہیں پکارنا جائز نہیں۔
دم کے دلائل کو اس پر منطبق کرنا قیاسِ مع الفارق ہے۔
نادِ علی کو بطورِ استغاثہ پڑھنا شرعاً ثابت نہیں، اور اگر اس میں غیر اللہ سے مدد طلب کی جائے تو یہ توحید کے منافی ہے۔
مزید برآں، تاریخی و حدیثی تحقیق سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ “نادِ علی” کے نام سے مشہور اشعار یا حدیث اہلِ سنت کے نزدیک بے اصل اور موضوع ہیں۔ علامہ ملا علی قاریؒ اور علامہ عجلونیؒ لکھتے ہیں:
“وكذا من مفتريات الشيعة الشنيعة حديث: ناد عليا…”
(الأسرار المرفوعة، ص: 385؛ كشف الخفاء، 2/447)
شیعہ مصادر میں بھی ان اشعار یا حدیث کا سراغ نویں صدی ہجری سے قبل نہیں ملتا۔ شیخ ابراہیم کفعمی نے اپنی کتاب “المصباح” (ص: 182-183) میں انہیں بطورِ وظیفہ ذکر کیا، مگر نہ انہیں حدیث کہا اور نہ کسی مستند ماخذ کی طرف نسبت کی۔
بعد کے علماء نے اگرچہ انہیں رسول اللہ ﷺ یا ائمۂ اہلِ بیت کی طرف منسوب کیا، لیکن ان کے پاس بھی کوئی قدیم اور معتبر سند موجود نہیں۔ اس بنا پر اس نسبت کو علمی معیار پر درست نہیں کہا جا سکتا۔
متن کے اندرونی اسلوب میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے، جس کی نشاندہی خود “بحار الانوار” کے حاشیہ نگار نے کی ہے کہ آخری جملہ سابقہ کلام سے ہم آہنگ نہیں اور غالباً بعد کی زیادتی ہے۔
(حاشیہ بحار الانوار، 20/73)
“نادِ علی” نہ تو معتبر حدیث ہے، نہ اس کا ثبوت ابتدائی مصادر سے ملتا ہے، اور نہ ہی اس کے مضامین عقیدۂ توحید کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس لیے اسے رسول اللہ ﷺ یا ائمۂ اہلِ بیت کی طرف منسوب کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ انبیاء و اولیاء سے مشروع توسل، خصوصاً سیدِ عالم ﷺ کی ذاتِ اقدس کے وسیلے سے دعا کرنا، اہلِ سنت کے ہاں باعثِ برکت اور موجبِ سعادت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے وسیلے سے دنیا و آخرت کی خیر و برکت نصیب فرمائے۔
بندہ کی اس تحریر کو آپ نے غور سے پڑھ لیا ہے۔ ابھی جاتے جاتے ناد علی کو بھی پڑھتے جائیں۔ ان کا ترجمہ بھی ساتھ لکھا جا رہا ہے. اسے پڑھیں اور خود فیصلہ کریں کہ اگر اسے مان بھی لیا جائے تو کیا اہل ایمان کے لیے پڑھنا جائز ہو جائے گا؟ لیجیے، پڑھیں:
نادِ علیا مظہر العجائب تجدہ عونا لک في النوائب
کل ہم وغم سینجلي بنبوتک یا محمد وبولایتک یا علي
اس کا ترجمہ گچھ یوں بنتا ہے:
علی کو پکارو جو عجائبات ظاہر کرنے والے ہیں، تم مشکلات میں ان کو اپنا مددگار پاوٴگے، سارے رنج وغم دور ہوجائیں گے اے محمد آپ کی نبوت اور اے علی آپ کی ولایت کی بدولت۔
اب بتائیں کہ "علی کو پکارو" کا کیا مطلب ہے؟ حالانکہ ہر مشکل میں پکارنا تو فقط الہ العالمین کو ہی چاہیے نہ کہ علی کو۔
دوسرا... یہ الفاظ دیکھیں: "تم مشکلات میں ان کو اپنا مددگار پاؤ گے۔" کیا ہر مشکل میں اللہ رب العزت خالق کائنات کی مدد شامل حال ہوتی ہے یا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی؟ نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدنا علی کو طائف کے خارزاروں میں کیوں نہ پکارا؟ بدر و احد، احزاب و حنین میں کیوں نہ پکارا؟ لے دے کر خیبر ہی رہ جاتا تھا پکار کے لیے؟ واقعہ افک جیسے سخت معاملہ ہی میں پکار لیتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لطلب یہ کہ اللہ رب العزت کے علاوہ کسی کو بھی پکارنا صریحا شرک ہے۔
اب شعر کا آخری حصہ بھی ملاحظہ فرمائیے: "اے علی آپ کی ولایت کی بدولت۔"
کیا آپ جانتے ہیں کہ اہل السنہ کے اصول دین کتنے ہیں اور روافض کے کتنے؟ یہ جملہ اہل السنہ کو ان کے عقائد کے بارے میں جھنجھوڑ رہا ہے۔یاد رکھیں کہ اہل السنہ کے ہاں اصول دین یعنی جن پر دین کی بنیاد کھڑی ہے، فقط تین ہیں:
توحید
رسالت
آخرت
اگر ان میں سے کسی کے بارے میں بھی ایمان متزلزل ہوا تو مسلمان، کافر ہو جاتا ہے۔ ان تین کے علاوہ چوتھی کوئی چیز نہیں ہے جو مسلمان کو کافر بنا دے۔ اگر فقہا کچھ چیزیں ذکر کرتے ہیں تو وہ انھی کے اردگرد گھومتی ہیں۔ جبکہ روافض ان تین کے ساتھ ولایت و امامت کو بھی شامل کرتے ہیں۔ بظاہر ولایت و امامت اچھے الفاظ ہیں لیکن درحقیقت اپنے اندر ایک بڑا مفہوم رکھتے ہیں۔چنانچہ ایک مشہور شیعہ عالم دین اپنی کتاب حیات القلوب کی جلد 3 صفحہ 3 پر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "و حق این است کہ در کمالات و شرائط و صفات فرق میان پیغمبر و امام نیست" یعنی حق بات یہ ہے کہ کمالات، شرائط اور صفات میں پیغمبر و امام کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے. اسی طرح اسی کتاب کے صفحہ 81 جلد 3 پر ہے: "نیز امامت فی الحقیقت نبوت است" اس فارسی تحریر کا اردو ترجمہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے.
امام انقلاب ایران آیت اللہ خمینی صاحب نے لکھا ہے: "از ضروریات مذہب ما است کہ کسے بہ مقامات معنوی ائمہ نمیرسد حتی ملک مقرب و النبی مرسل۔ ایں جزء اصول مذہب ما است۔" (ولایت فقیہہ صفحہ 81) یعنی:" ہمارے مذہب کی ضروریات میں سے یہ بات شامل ہے کہ کوئی شخص بھی ائمہ کے روحانی مقامات تک نہیں پہنچ سکتا، حتیٰ کہ مقرب فرشتہ اور بھیجا ہوا نبی بھی نہیں۔ یہ ہمارے مذہب کے اصولوں میں سے ایک حصہ ہے۔"
یعنی روافض کے ہاں عقیدہ امامت بنیادی ضروریات دین میں سے ہے جس کا تذکرہ ناد علی میں کیا گیا ہے کہ" اے علی آپ کی ولایت (أمامت) کی بدولت۔''
اب بتائیں کہ شاذلی صاحب اس بارے میں کیا فرمائیں گے؟ کیا اب بھی وہ فتوی دیں گے کہ اس منتر کو پڑھنے سے عقائد و نظریات پر کوئی زد نہیں پڑتی؟ پھرتو عقیدہ نہ ہوا، موم کی ناک ہو گئی جسے جس جانب چاہو، موڑ دو... اس کی ماہیت میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ العیاذ باللہ
***