🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

یہ تین مختصر الفاظ—"میں ٹھیک ہوں"—بظاہر سکون، اطمینان اور توازن کی تصویر پیش کرتے ہیں مگر حقیقت کے آئینے میں جھانکا جائے تو اکثر یہ ایک ادھورا سچ، ایک چھپی ہوئی فریاد، اور ایک دبے ہوئے طوفان کی خاموش صدا ہوتے ہیں۔ انسان کی فطرت عجیب ہے وہ اپنے دکھوں کو لفظوں کے پردے میں چھپا لینے کا ہنر خوب جانتا ہے۔ وہ مسکراتا ہے، حالانکہ اس کے اندر ٹوٹنے کی آوازیں گونج رہی ہوتی ہیں۔

میں ٹھیک ہوں"
—یہ جملہ اکثر اس وقت ادا کیا جاتا ہے جب دل بے سکونی کی انتہا پر ہو، جب آنکھیں نم ہوں مگر آنسوؤں کو اجازت نہ ہو کہ وہ بہہ سکیں، جب زبان خاموش ہو مگر دل چیخ رہا ہو۔ یہ الفاظ ایک ڈھال بن جاتے ہیں، ایک ایسا نقاب جس کے پیچھے انسان اپنے دکھ، اپنی ناکامیاں، اپنی محرومیاں اور اپنے خوف چھپا لیتا ہے۔ گویا یہ جملہ ایک ایسا پردہ ہے جو دل کے زخموں کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھتا ہے۔

 زندگی کے سفر میں ہر انسان کو ایسے موڑ ملتے ہیں جہاں وہ خود سے بھی نظریں چرانے لگتا ہے۔
 وہ اپنے درد کو معمول سمجھ لیتا ہے، اپنی تکلیف کو تقدیر کا  حصہ مان کر قبول کر لیتا ہے، اور پھر ہر سوال کے جواب میں صرف یہی کہتا ہے: "میں ٹھیک ہوں"۔ مگر یہ "ٹھیک ہونا" درحقیقت ایک فریب ہوتا ہے، ایک ایسا فریب جو انسان خود کو دیتا ہے تاکہ وہ ٹوٹنے سے بچ سکے۔

انسانی معاشرہ بھی کسی حد تک اس ادھورے سچ کا ذمہ دار ہے۔ ہم نے ایک ایسی دنیا تشکیل دے لی ہے جہاں کمزوری دکھانا عیب سمجھا جاتا ہے، جہاں آنسوؤں کو کمزوری اور درد کے اظہار کو ناتوانی کی علامت مانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے دل کی حالت بیان کرنے کے بجائے ایک مختصر سا جملہ ادا کر دیتے ہیں—"میں ٹھیک ہوں"—تاکہ سوالوں کا سلسلہ وہیں رک جائے، اور ان کی اندرونی دنیا کسی کی دسترس میں نہ آئے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان جتنا اپنے جذبات کو دباتا ہے، وہ اتنا ہی اندر سے کھوکھلا ہوتا جاتا ہے۔ دل کے زخم اگر لفظوں میں نہ ڈھلیں تو وہ خاموشی میں ناسور بن جاتے ہیں۔ احساسات کو قید کر دینا وقتی سکون تو دے سکتا ہے، مگر مستقل سکون نہیں۔ اصل سکون اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اپنے دل کی بات کسی مخلص ہستی کے سامنے بیان کر دے، جب وہ اپنے بوجھ کو بانٹ لے، جب وہ یہ تسلیم کر لے کہ وہ واقعی ٹھیک نہیں ہے۔

یہ ادھورا سچ ہمیں ایک اہم سبق بھی دیتا ہے ہمیں دوسروں کے "میں ٹھیک ہوں" کو ہمیشہ مکمل سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بسا اوقات یہ الفاظ ایک مدد کی پکار ہوتے ہیں، ایک خاموش درخواست کہ کوئی ان کے حال کو سمجھے، ان کی آنکھوں کی نمی کو پڑھے، اور ان کے دل کی کیفیت کو محسوس کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کے چہروں کے پیچھے چھپی کہانیوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان کے الفاظ کے پیچھے چھپے جذبات کو پہچانیں، اور ان کے لیے آسانی کا سبب بنیں۔

اور سب سے بڑھ کر، انسان کو خود سے بھی سچ بولنا سیکھنا چاہیے۔ اپنے دل کے زخموں کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ ہمت کی علامت ہے۔ اپنے درد کو مان لینا شکست نہیں، بلکہ شفا کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب انسان اپنے آپ سے کہہ دیتا ہے کہ "میں ٹھیک نہیں ہوں"، تب ہی وہ ٹھیک ہونے کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔

 "میں ٹھیک ہوں" کا جملہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے، ہر خاموشی کے اندر ایک شور چھپا ہوتا ہے، اور ہر مضبوط نظر آنے والا انسان اندر سے کہیں نہ کہیں کمزور بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں بلکہ اپنے لیے بھی سچائی کا دروازہ کھولیں۔

کیونکہ بعض اوقات…"میں ٹھیک ہوں" کہنا سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے،اور "میں ٹھیک نہیں ہوں" کہنا سب سے بڑی سچائی۔

یہی وہ سچ ہے جو دل کو آزاد کرتا ہے،اور یہی وہ اعتراف ہے جو انسان کو حقیقی سکون کی طرف لے جاتاہے