الفروسیہ 

کتنا ہی پیارا نام ہے۔
یہ فرس سے ہے ۔
اس کا مطلب ہے گھوڑا ،انسان کا، گھوڑے، سے تعلق ؛صدیوں سے ہے۔
ماضی میں گھوڑوں پر سواری ننگی پیٹھ پر کی جاتی تھی۔
پھر تھوڑی سی ،ترقی ہوئ۔
زین،رکھنے لگے۔
پھر اسی طرح سے رکاب وغیرہ ۔
اگر گھوڑے کے مزاج کی بات کی جائے ،تو یہ اپنے آپ میں خوش رہتا ہے ۔
مالک سے ،محبت۔
متکبر۔
غرض یہ کہ اگر کوئ،شخص گھوڑے کی تربیت کرے ،تو وہ بہت ہی جلد ،انسانوں، کے مزاج؛ کو سمجھ جاتا ہے۔
انبیاء کرام کو بھی گھوڑوں سے محبت تھی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،ایک مرتبہ اپنے دامن میں "جو" ڈال کر گھوڑے کو کھلا رہے تھے۔
اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ٫نے 
فرمایا٫ یارسول اللہ 
آپ ہمیں٫ حکم دیتے ،ہم اسے کھلا دیتے۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم، نے فرمایا کہ، کیامجھے ثواب کی ضرورت نہیں ہے؟ ۔
آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس ،تقریبا،سات گھوڑے تھے۔
اور ایک روایت میں ہے ۔
کہ دس تھے۔
ان میں سے چند ٫ایک کہ نام ٫میں آپ کو بتا دیتا ہوں ۔
باقی آپ ٫خود ہی جستجو،کریں اور مزید نام ڈھونڈیں۔
السکب۔
اللزاز۔
اللحیف۔
المرتجز۔
الضرب۔
باقی آپ تلاش کریں ۔

بقلم 
طوفان احمری