چالاکی نہیں، دیانت داری… اور دیانت کے ساتھ چالاکی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (98)
معاشرے میں ایک عام غلط فہمی یہ پھیل چکی ہے کہ چالاکی اور دھوکہ ایک ہی چیز ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چالاکی بذاتِ خود ایک مثبت صفت، ایک ذہنی مہارت اور ایک فطری صلاحیت ہے، جو انسان کی عقلمندی، حاضر دماغی اور معاملہ فہمی کی دلیل ہوتی ہے۔ اصل خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں چالاکی کو دھوکہ، فریب اور خیانت کے لیے استعمال کیا جائے۔ یوں ایک اعلیٰ وصف کو بدنام کر دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ چالاکی کو دیانت داری کے ساتھ جوڑا جائے، نہ کہ اس کے مقابل رکھا جائے۔
چالاکی کو اگر ہم درست تناظر میں دیکھیں تو یہ دراصل “حسنِ تدبیر” کا نام ہے۔ ایک ایسا ہنر جو انسان کو مشکل حالات میں بہتر فیصلہ کرنے، نقصان سے بچنے، اور محدود وسائل میں بہترین راستہ نکالنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ وہی صفت ہے جسے عرفِ عام میں اسمارٹ ہونا؛؛ '' یا “حاضر جواب ہونا” کہا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی چالاکی کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے،جھوٹ بولنے، یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہو، تو وہ چالاکی نہیں رہتی بلکہ کھلا دھوکہ بن جاتی ہے۔ مسئلہ چالاکی میں نہیں، اس کے استعمال میں ہے جیسے ایک تاجر اپنی مصنوعات کو بہتر انداز میں پیش کرتا ہے، گاہک کو قائل کرتا ہے، اور مناسب منافع کماتا ہے—یہ چالاکی ہے، اور جائز ہے۔ لیکن اگر وہی تاجر ناقص مال کو اچھا ظاہر کر کے بیچ دے، تو یہ چالاکی نہیں بلکہ دھوکہ ہے۔
ملازمت کی دنیا میں:
ایک ملازم اپنے کام کو بہتر طریقے سے منظم کرتا ہے، وقت بچاتا ہے، اور اپنی کارکردگی بڑھاتا ہے—یہ ذہانت اور چالاکی ہے۔ مگر اگر وہ دوسروں کا کام اپنے نام سے پیش کرے یا حقیقت چھپائے، تو یہ خیانت ہے۔
روزمرہ زندگی میں:
اگر کوئی شخص مشکل حالات میں اپنی بات حکمت کے ساتھ رکھے، جھگڑے سے بچے، اور اپنا حق بھی حاصل کر لے—یہ مثبت چالاکی ہے۔ لیکن اگر وہی شخص دوسروں کو الجھا کر، بات گھما کر، اپنا مفاد نکالے—یہ منفی رویہ ہے۔
ایک طالب علم کم وقت میں زیادہ سیکھنے کے لیے بہتر طریقہ اختیار کرے، یادداشت کے طریقے اپنائے—یہ ذہانت ہے۔ مگر نقل کر کے کامیابی حاصل کرے، تو یہ بددیانتی ہے۔
چالاکی اگر دیانت داری کے دائرے میں رہے تو وہ “حکمت” بن جاتی ہے، اور اگر اس دائرے سے نکل جائے تو “فریب” بن جاتی ہے۔ گویا چالاکی ایک تلوار ہے—اسے آپ حفاظت کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں اور نقصان کے لیے بھی۔
اسلامی اور اخلاقی تعلیمات بھی ہمیں یہی سکھاتی ہیں کہ عقل، تدبیر اور حکمت کو اپناؤ، مگر سچائی اور امانت کو نہ چھوڑو۔ ایک مومن نہ سادہ لوح ہوتا ہے کہ ہر کوئی اسے دھوکہ دے جائے، اور نہ ہی ایسا مکار کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان ہوشیار بھی ہو اور دیانت دار بھی۔ وہ اپنے مفاد کا تحفظ بھی کرے مگر کسی کے حق پر دست درازی نہ کرے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ “چالاکی نہیں، دیانت داری کرو” ایک ادھورا جملہ ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ:“چالاکی کرو، مگر دیانت داری کے ساتھ کرو”۔ معاشرہ تب ہی متوازن ہوگا جب ہم چالاکی کو برا کہہ کر رد نہ کریں، بلکہ اسے صحیح سمت دیں۔ ہمیں نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ ذہانت اور دیانت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ بہترین امتزاج ہیں۔لہٰذا “چالاکی اگر دیانت کے ساتھ ہو تو حکمت ہے، اور اگر دیانت کے بغیر ہو تو محض فریب ہے۔...... شعر:
عقل ہو، فہم ہو، تدبیر بھی ہو ہاتھوں میں
پھر بھی لازم ہے کہ سچ دل میں بسا رکھا جائے
چالاکی بھی ہے نعمت، یہ سمجھ لو اے دوست
بس اسے ظلم و فریب سے بچا رکھا جائے
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com