انسانی وجود جذبات کا مجموعہ ہے، اور کبھی کبھار یہ جذبات اس قدر غالب آ جاتے ہیں کہ انسان بڑی سے بڑی غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔ لیکن اگر ہم انبیاء کرام علیہم السلام کے طرزِ حیات کا مطالعہ کریں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہمیشہ حکمت اور نرمی سے کام لینے کا حکم دیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال موسیٰ علیہ السلام کی فرعون کو دعوت ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا: "پھر اس سے نرم بات کہنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔" (سورہ طٰہٰ: 44)۔ یہ دعوتِ دین میں حکمت اور نرم دلی کی اہمیت کا ایک عظیم نمونہ ہے۔ لہٰذا، ایک داعیِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ حکمت اور نرمی کا پیکر ہو۔ اسی طرح، مسلمانوں کو جب بھی کسی دینی مسئلے کا سامنا ہو، تو انہیں جذباتی ہونے کے بجائے حکمت سے کام لینا چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں یہ بات اور بھی اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ غیر قومیں اکثر مسلمانوں کے جذبات کا غلط استعمال کر کے انہیں فسادات اور انتشار کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: "نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے، اور جس چیز سے بھی نکال لی جاتی ہے اسے عیب دار کر دیتی ہے۔" (صحیح بخاری)۔
خلاصہ یہ کہ جذبات اور حکمت دونوں زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ جذبات زندگی کا نمک ہیں، جب کہ حکمت زندگی کا رہنما ہے۔ بہترین راستہ توازن کا ہے، جہاں جذبات کو حکمت کے تابع کیا جائے اور حکمت کے ساتھ جذبات کا اظہار کیا جائے۔
ازقلم: زا -شیخ