یہ دنیا رنگ و بو کا ایک ایسا دلکش گلشن ہے جہاں ہر شے اپنی جداگانہ حقیقت اور گہری معنویت کی حامل ہے۔ انسان جب آنکھ کھولتا ہے تو اسے ایک ایسی کائنات کا سامنا ہوتا ہے جو بیک وقت حیرت، آزمائش اور حکمت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر دل نورِ ہدایت سے منور نہ ہو تو علم کی تمام تر چمک بھی اندھیرے کا احساس دلاتی ہے۔ آج کا مسلمان ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے؛ ایک جانب جدید تعلیم کی وہ چکاچوند ہے جو نگاہوں کو خیرہ کر دیتی ہے، اور دوسری جانب دینی علوم کی وہ تابندہ روشنی ہے جو دل کو سکون اور روح کو قرار بخشتی ہے۔ اگر ان دونوں میں توازن قائم نہ رہے تو انسان یا تو مادّیت کا اسیر بن جاتا ہے یا زمانے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے، اور یوں ”نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم“کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
 حقیقت یہ ہے کہ دین اور دنیا ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ دین انسان کو اس کے مقصدِ حیات سے روشناس کراتا ہے، اسے اخلاق، صبر، شکر اور خوفِ خدا کی دولت سے مالا مال کرتا ہے، جبکہ عصری تعلیم اسے شعور، فہم اور تدبیر عطا کرتی ہے تاکہ وہ اس دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ ہمارے اسلاف نے ہمیشہ اسی توازن کو اپنایا؛ ان کے دل اللہ کی یاد سے سرشار ہوتے تھے اور ان کے دماغ زمانے کی حکمتوں سے روشن۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جہاں عبادت گزار تھے وہیں بہترین مفکر، سائنسدان اور رہنما بھی تھے۔ آج ہمیں بھی اسی روشن راہ کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسا علم دیں جو ان کے دلوں کو نرم کرے اور ذہنوں کو جِلا بخشے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کو سینے سے لگاتے ہوئے جدید علوم میں مہارت حاصل کرنا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں فکری انتشار سے نکال کر ایک متوازن، باوقار اور کامیاب زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہی توازن دراصل ایک مسلمان کی پہچان اور اس کی اصل کامیابی ہے۔ یہی فکر ہمیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ ہم تعلیم کے ایسے نظام پر غور کریں جو اس مقصد کو حقیقت کا روپ دے سکے۔
 جس طرح تمہید میں یہ حقیقت واضح کی گئی کہ دین اور دنیا ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں، اسی طرح ایک ایسا تعلیمی نظام ناگزیر ہے جو دینی بصیرت اور عصری شعور کو ایک لڑی میں پرو دے۔ محض کتابی علم یا صرف دنیاوی مہارت انسان کو مکمل نہیں بناتی؛ بلکہ ایک ایسا جامع نظام درکار ہے جو دل کو نورِ ہدایت سے منور کرے اور دماغ کو فہم و فراست سے آراستہ کرے۔”علم وہی ہے جو عمل میں ڈھل جائے“ یہی اصول اس متوازن تعلیم کی بنیاد ہے، اور یہی وہ عملی راستہ ہے جو ہمارے تعلیمی خواب کو ایک زندہ حقیقت میں بدل سکتا ہے۔
 دینی بصیرت انسان کے اندر خوفِ خدا، اخلاقی پاکیزگی اور مقصدِ حیات کا شعور پیدا کرتی ہے، جبکہ عصری شعور اسے زمانے کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ جب یہ دونوں صفات ایک ہی شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ فرد نہ صرف اپنی ذات کے لیے مفید ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک روشن مثال بن جاتا ہے۔ ایسا نظامِ تعلیم ہی دراصل ایک”ہمہ جہت شخصیت“کی تعمیر کرتا ہے، جو عبادت میں بھی کامل ہو اور معاملات میں بھی ماہر۔
 اس توازن کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے اپنے نصاب اور تدریسی نظام میں ہم آہنگی پیدا کریں۔ ایک طرف قرآن و حدیث، فقہ اور اخلاقیات کی تعلیم دی جائے تو دوسری طرف سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کو بھی مناسب اہمیت دی جائے۔ اساتذہ بھی ایسے ہوں جو صرف علم دینے والے نہ ہوں بلکہ کردار سازی کرنے والے ہوں، تاکہ طلبہ کے اندر دین کی محبت اور دنیا کی سمجھ بیک وقت پروان چڑھے۔ یوں جب دینی بصیرت اور عصری شعور ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں تو ایک ایسا باوقار، متوازن اور کامیاب انسان سامنے آتا ہے جو نہ صرف اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے بلکہ دنیا میں بھی عزت و وقار کے ساتھ اپنی پہچان بناتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط امت اور روشن مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔
 اسی مناسبت سے ایک بات عرض کر دوں کہ میری پہچان، میری شان، اور میرے علم کا اصل سرچشمہ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی ہے۔ یہ وہ عظیم درسگاہ جو مسلکِ اہلِ سنت والجماعت، بالخصوص مسلکِ اعلیٰ حضرت کی روشن تعلیمات کی امین ہے، اور فقہِ شافعی کے اصولوں پر قائم ایک تابندہ علمی مینار ہے۔ یہ ادارہ محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ ایک ایسا”علمی گلشن“ ہے جہاں دینی و عصری علوم کا حسین سنگم بہتا ہے۔ یہاں ہزاروں طلبہ ایک ہی وقت میں علم کی شمع سے اپنے دل و دماغ کو روشن کرتے ہیں۔ ایک طرف ریاضی، سوشل سائنس، جغرافیہ اور سیاسیات جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں، تو دوسری جانب تفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور تصوف کے نور سے بھی طلبہ کو منور کیا جاتا ہے۔ گویا یہاں ”ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سائنس“کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔
 اس جامعہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سے فارغ ہونے والا طالب علم نہ صرف دین کا فہم رکھتا ہے بلکہ دنیا کے تقاضوں کو بھی بخوبی سمجھتا ہے۔ وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ قوت، یہی وہ بصیرت ہے جو دارالہدیٰ اپنے طلبہ کو عطا کرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کے فارغین ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ دین و دنیا دونوں میں سرخرو ہو، علم و عمل کا پیکر بنے، اور ایک باوقار مستقبل کی طرف قدم بڑھائے، تو دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی آپ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔ یہاں تعلیم نہیں، بلکہ ایک مکمل زندگی کا شعور دیا جاتا ہے۔
 آپ ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ انسان کی شخصیت محض معلومات کے انبار سے نہیں بنتی، بلکہ اس کے باطن کی آبیاری اور فکر کی بالیدگی سے پروان چڑھتی ہے۔ اگر دل بے چین ہو اور روح بے قرار، تو علم کی کثرت بھی سکون نہیں دے سکتی۔ اسی لیے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ نئی نسل کی تعمیر کے لیے روحانی تربیت اور فکری ترقی کا ایک حسین سنگم ناگزیر ہے۔”جیسا بیج بوؤ گے ویسا ہی پھل کاٹو گے“۔ اگر ابتدا ہی میں بچوں کے اندر پاکیزہ اقدار اور بلند خیالات کو راسخ کر دیا جائے تو ان کی زندگی خود بخود سنور جاتی ہے۔ روحانی تربیت کا مقصد صرف عبادات کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان کے اندر اخلاص، تحمل، عاجزی اور حسنِ اخلاق کو پیدا کرنا ہے۔ جب ایک طالب علم کے دل میں یہ اوصاف جاگزیں ہو جاتے ہیں تو وہ زندگی کے نشیب و فراز میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔ دوسری جانب فکری ترقی اس کے اندر سوال کرنے، غور و فکر کرنے اور حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ ایسا ذہن اندھی تقلید کا شکار نہیں ہوتا بلکہ دلیل اور بصیرت کی روشنی میں اپنا راستہ متعین کرتا ہے۔
 نسلِ نو کی متوازن شخصیت سازی کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ایسے ماحول میں پروان چڑھایا جائے جہاں مثبت سوچ، تخلیقی صلاحیت اور اعلیٰ اخلاق کو فروغ ملے۔ گھروں میں والدین کی تربیت، اساتذہ کی رہنمائی اور معاشرے کا مجموعی رویہ اس عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کو صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ عملی نمونوں سے سکھایا جائے، کیونکہ ”عمل، قول سے زیادہ اثر رکھتا ہے“۔ جب روحانیت کی لطافت اور فکر کی گہرائی ایک ساتھ جمع ہو جاتی ہے تو ایک ایسا فرد وجود میں آتا ہے جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے باعثِ رحمت بن جاتا ہے۔ یہی متوازن شخصیت دراصل اس قابل ہوتی ہے کہ وہ زندگی کے عملی میدان میں اپنے علم اور کردار کا حقیقی مظاہرہ کر سکے۔
  یہ بھی جاننا نہایت ضروری ہے کہ زندگی کا اصل امتحان محض علم کے حصول میں نہیں بلکہ اس علم کو عملی میدان میں برتنے میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک تربیت یافتہ اور متوازن شخصیت اپنی اصل پہچان قائم کرتی ہے۔ ایک طرف وحیِ الٰہی کی رہنمائی ہے جو انسان کو حق و باطل میں تمیز سکھاتی ہے، اور دوسری طرف زمانے کے بدلتے تقاضے ہیں جو انسان سے حکمت، بصیرت اور حسنِ تدبیر کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسے میں کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جو ان دونوں دھاروں کو باہم ہم آہنگ کر کے اپنی زندگی کا لائحہ عمل ترتیب دیتا ہے۔”ہاتھ میں چراغ ہو تو راستے خود روشن ہو جاتے ہیں“یہی کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب قرآنی ہدایت انسان کے اعمال کی بنیاد بن جائے، اور یوں اس کی زندگی علم، عمل اور حکمت کا ایک خوبصورت امتزاج بن جاتی ہے۔
  قرآن کریم انسان کو اعتدال، عدل اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی اصول جب جدید زندگی کے معاملات پر منطبق کیے جاتے ہیں تو ایک ایسا متوازن طرزِ عمل وجود میں آتا ہے جو نہ افراط کا شکار ہوتا ہے نہ تفریط کا۔ مثلاً معاملاتِ معاش میں دیانت و امانت کو اختیار کرنا، سماجی زندگی میں رواداری اور انصاف کو اپنانا، اور پیشہ ورانہ میدان میں محنت و ذمہ داری کو شعار بنانا یہ سب وہ عملی اصول ہیں جو ایک مسلمان کو ہر دور میں کامیاب بناتے ہیں۔
 اس ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے روزمرہ کے فیصلوں میں شعوری طور پر یہ دیکھے کہ اس کا ہر قدم اخلاقی و دینی اقدار کے مطابق ہو۔ جدید ذرائع، ٹیکنالوجی اور علوم کو محض سہولت کے طور پر استعمال کیا جائے، نہ کہ انہیں مقصدِ حیات بنا لیا جائے۔ یوں انسان دنیا کے ہنگاموں میں رہتے ہوئے بھی اپنے اصل راستے سے نہیں بھٹکتا۔ جب قرآنی تعلیمات کو عملی زندگی میں اس حکمت کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے تو انسان کے اندر ایک ایسا توازن پیدا ہوتا ہے جو اسے ہر حال میں مضبوط اور باوقار رکھتا ہے۔ یہی وہ اصولی ہم آہنگی ہے جو ایک مسلمان کو نہ صرف کامیاب انسان بناتی ہے بلکہ اسے معاشرے کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ بھی بنا دیتی ہے، اور اسی راہِ اعتدال پر چلنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کے طور پر میں، فقیر قادری یعنی یہ ناچیز، فی الحال جامعہ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی میں مفتی مستقیم احمد اشرفی فیضی شاذلی کی زیرِ نگرانی تخصص فی الفقہ کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ امیدِ واثق ہے کہ اسی متوازن تعلیم اور تربیت کے فیض سے اپنے معاشرے، اپنے سماج اور دینِ متین کی خدمت کے لیے ایک بہتر عالمِ دین بن سکوں گا؛ لہٰذا آپ تمام حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس ناچیز کو اپنی مخلص دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری 
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا