"عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قیل لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أی النساء خیر؟ قال التی تسرہ إذا نظر، وتطیعہ إذا أمر، ولا تخالفہ فی نفسہا ولا مالہا بما یکرہ." (مشکوٰۃ ص ۲۸۳)
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون عورت بہتر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورت، شوہر اسے دیکھے تو اسے خوش کرے، جب کوئی کام کہے تو اس کی اطاعت کرے، اور اپنی عزت کی حفاظت کرے، اور اس کی مرضی کے خلاف مال خرچ نہ کرے۔"
(مشکوٰۃ ص ۲۸۳، تنقیح ج ۲ ص ۲۱۷)
فائدہ: مطلب یہ ہے کہ ایسی خوش مزاج اور خوش اخلاق ہو کہ شوہر جب گھر میں آئے، بیوی سے ملاقات و گفتگو کرے تو اس سے رنجی نہ ہو، بلکہ محبت سے مسکرا کے بات کرے، اگر وہ پریشان ذہن بھی آئے تو اسے حسن برتاؤ و حسن اخلاق سے خوش کرے۔ ایسا نہ ہو ہر وقت میکاپ بن ٹھن کے رہے، شوہر پر پچھلے قصے اور شکایتوں کا انبار کر دے، چھٹکارے کی آگ بھڑکائے، رات کی راگنی کو پہاڑ بنا کر دکھائے، منافقہ آرائی جھوٹ اور بے حیائی کی بنیاد پر، ادھر ادھر سے سنی لگائی اس کے ذہن کو پریشان کرے۔
چنانچہ بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جہاں شوہر گھر میں داخل ہوا، شکایتوں کا انبار اس کے سامنے لگا دیا، یہ ہماری اس نے ایسا کیا، بھابی نے یہ معاملہ کیا، بھاوج نے اس طرح ظلم کیا، چنانچہ عورت کی میٹھی چال سے شوہر پریشان ہو جاتا ہے، اور ماں بہن کا مخالف ہو کر لڑائی اور جھگڑے کا ایک لمبا سلسلہ قائم کر دیتا ہے۔ ایسی عورت شوہر کو خوش کرنے والی نہیں! اسے جہنم میں ڈالنے والی ہے کہ اس نے اسے خوش کرنے کے بجائے رنجیدہ کر دیا۔ سو سنو! اے خوش اخلاق اور اپنی پیاری گفتگو سے خوش کرو، شکایتیں بنا کر رنجیدہ نہ کرو، اور گھبرا مت کراؤ، خدا کے نزدیک اچھی اور عقلی بہادر کی اور جنت پاؤ گی۔