*کاش ہم بھی حرم کے مسافروں میں شامل ہوتے*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
___________________________________
اے حرم کے مسافرو جب تم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی پاک سرزمین کی طرف رواں دواں ہو تو ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہمارا بھی سلام عرض کر دینا۔ ان مقدس راستوں پر چلتے ہوئے جہاں ہر قدم رحمتوں اور برکتوں میں ڈوبا ہوتا ہے ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔
 حج کا بابرکت مہینہ قریب آ رہا ہے اور لاکھوں خوش نصیب اپنے دلوں میں عقیدت آنکھوں میں اشکِ شوق اور لبوں پر تلبیہ لیے حرمین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کوئی اپنے سامان کی تیاری میں مصروف ہے کوئی رخصتی کے لمحات میں اپنے پیاروں سے گلے مل رہا ہے اور کوئی خاموشی سے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر اس عظیم سفر کی قبولیت کی دعائیں مانگ رہا ہے۔
ایسے میں جب ہم کسی کو دیکھتے یا سنتے ہیں کہ وہ اس مقدس سفر پر جا رہا ہے تو دل بے اختیار مچل اٹھتا ہے۔ ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے خوشی بھی حسرت بھی اور ایک گہری آرزو بھی آنکھوں کے سامنے وہ مناظر گھومنے لگتے ہیں خانۂ کعبہ کا دیدار روضۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حاضری اور وہ پرسکون لمحے جب بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔
دل بار بار یہی سوچتا ہے کہ کاش ہمارا نام بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہوتا۔ کاش ہمیں بھی وہ سعادت نصیب ہوتی کہ ہم بھی لبیک اللهم لبیک کی صداؤں میں شامل ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے اپنے دل کی دنیا بدلتے اور ایک نئی روحانی زندگی کے ساتھ واپس لوٹتے۔
مگر یہ بھی ایک یقین ہے کہ جس کے دل میں یہ تڑپ یہ چاہت اور یہ سچی آرزو ہو وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔ اللہ ربّ العزت اپنے بندوں کے دلوں کی کیفیت کو خوب جانتا ہے اور وہ وقت بھی ضرور آتا ہے جب وہ اپنے گھر کی حاضری کا شرف عطا فرماتا ہے۔
 اے حرم کے مسافرو جب تم ان مقدس در و دیوار کے درمیان کھڑے ہو تو ہمیں نہ بھولنا۔ ہمارے لیے بھی دعا کرنا کہ اللہ ربّ العزت ہمیں بھی جلد اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائے اور حرمین شریفین کی حاضری ہمارے مقدر میں لکھ دے۔ آمین یارب العالمین ۔