وداعی نامہ براۓ امروہہ
_______________________________
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
متعلم : دارالعلوم دیوبند
١٨ذوالقعدہ١٤٤٧ھ
بروز بدھ
______________________________
مجھے یاد ہے جب میں کاندھلہ میں زیر تعلیم تھا تو استاذ محترم حضرت مولانا مفتی شمشاد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے القرأۃ الواضحہ کے گھنٹہ میں استاذ محترم حضرت مولانا مفتی سید محمد عفان صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا تذکرہ کرتے ہوۓ مدرسہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ کا ذکر فرمایا ،مجھے کیا معلوم تھا کہ میری تعلیم کا مابقیہ حصہ وہیں سے جڑی ہے،اور میں وہاں کا خوشہ چیں بنوں گا -
خیر !لاک ڈاؤن کےطویل راحت کے بعد مدرسہ کا رخ کیاتو شاہی جانا ہوا واپسی پر امروہہ پڑتا ہے (امروہہ ہندوستان کی تاریخی شہروں میں سے ایک ہے ،جہاں کے لوگوں نے علم و ادب ، حکمت وطب ،شعر وسخن ، پارسائی ،درویشی اور خداترسی میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے،یہ شہر علم و حکمت میں نمایاں مقام رکھتا ہے ، یہ بستی تقریباً ایک ہزار سال سے آباد ہے
یہاں کی تاریخی عمارتیں ،بلند مناریں ،شاندار قدیم مساجد اس کی واضح علامت ہے -
یہ شہر اولیاء کامرکز ہے ، یہ صاحب نسبت و ولایت بزرگوں کی قربانیوں کا مسکن ہے ،چنانچہ شاہ ولایت اسی کی ایک نشانی ہے، جہاں بہت سے اہل اللہ وبزرگان دین آرام پذیر ہیں -
شہر امروہہ کو حکومتی سطح پر بھی بہت مقبولیت حاصل رہی ہے، چنانچہ وہاں موجود سراۓ اور چوپال حکام وزارء کا آرام گاہ دارالندوہ ہوتاتھا ،آج کل وہ محلہ کی شکل تقسیم ہے-
ماحاصل !یہ کہ دانش وروں صاحب علم صاحب مسند کا شہر ہے) سوچا وہاں چلے جاؤں اور دیکھوں کہ یہ شہر کیسا ہےتو امروہہ
اسٹیشن پہ فروکش ہوا -
وہاں کی قدیم خوب صورت بلند وبالا آسمان کو لمس کرتی بلند گنبد مینار تاریخی جامع مسجد کی زیارت کی ، شہر کے لوگوں کو دیکھا تھوڑی دیر قیام رہا پھر دیوبند کےلیے واپسی ہوئی -
امروہہ اور مراد آباد کا یہ میرا پہلا سفر تھا،جس میں بہت دیکھا سیکھا ،ایک سال بعد خدا نے مجھے وہاں قیام کا موقع دیا ،یہ میری سعادت تھی کہ معروف و مشہور دینی درسگاہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ میں مجھے زانوۓ تلمذ تہہ کرنے کاموقع ملا-
(یہ مدرسہ تقریباً تین صدی سے بشکل مکتب آباد تھا پھر اس کی نشأۃ ثانیہ حجۃالاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے دست مبارک سے ہوئی اور حجۃ الاسلام کے مایہ ناز شاگرد سید العلماء حضرت مولانا سید احمد حسن محدث امروہوی کے زیر نگرانی اس کی آبیاری ہوتی رہی اور یہ ادارہ روز بروز ترقی کی طرف گامزن رہا،اس کو اکابر علماء کرام جن میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ،حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ،حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ،حضرت مولانا قاری طیب رحمہ اللّٰہ کی توجہات اور سرپرستی ہمیشہ سے حاصل رہی ہے،حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے یہاں کی مسند حدیث کو زینت بخشی -
اس درسگاہ سے بڑے بڑے جید علماء کرام نکلے ہیں ،اسی جامعہ میں رہ کر حضرت مولانا قاری طیب صاحب رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اپنی باطنی اصلاح فرمائی)عربی چہارم میں راقم نے اس جامعہ میں داخلہ لیا ،اور مکمل تین سال وہاں کے مشفق وجید اور صاحب نسبت اساتذۂ کرام سے کسب فیض کیا ،علمی وعملی زندگی کو تابناک و روشن بنایا،اپنے زبان وقلم کو مضبوط کیا ،وہاں کی آغوش تربیت میں رہ کر اساتذۂ کرام کے زیر نگرانی دینی وفکری کتب کا مطالعہ کیا، جس کا خاطر خواہ فائدہ الحمدللہ راقم نےمحسوس کیا -
جامع مسجد امروہہ اکابر کی یادوں حسین مرکز ہے ،وہاں کی خدمات ملک ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی موجود ہیں جس کا اعتراف علماء کرام ہمیشہ کرتے رہے ہیں -
سرزمین امروہہ میری یادوں کا نگر ہےجس کو چاہ کر بھی نہیں بھلایا جاسکتا ،امروہہ میں بیتے تین سال لمحہ لمحہ میری نظروں میں ہے جسے یاد کرکے سکون سرور ملتا ہے اگر یہ کہا جاۓ تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ تین سال میرےلیے بہت نافع ثابت ہوا کیوں کہ اسی گلشن سے گل بن کر مہکنے اور اسی چمن سے چہچہانے کا ہنر ملا اسی قندیل سے میری فکری شعور کو روشنی ملی، میری خوابیدہ صلاحیتیں اجاگر ہوئیں-
لیکن یہ بات مسلم ہے کہ جہاں رفاقت ہوتی ہے وہاں مفارقت بھی ہوتی ہے ،کبھی نہ کبھی جدائی ہوتی ہی ہے اس کا بھلا کون انکار کرسکتا ہے ، کیوں کہ دنیا کسی کے لیے دائمی رفاقت و قرابت نہیں ،جدائیگی اس کا حصہ ہے ،اس کے رگ و ریشہ میں مرثیہ کے نغمے وترانے موجود ہے-
زندگی میں اس کا بارہا مشاہدہ ہوتا ہے، وطن مالوف سبھی کو محبوب ہوتاہے ،آباؤ اجداد ،اولاد واحفاد،عزیز واقارب ،دولت وثروت کسے محبوب نہیں مگر اپنی چاہت کے باوجود ہمیشہ وہ نہیں رہ پاتا کیوں کہ جدائی زندگی کا حصہ ہے تاریخی روایات اس کا شاہد ہے -
امروہہ کےلیے رخصت نامہ اور وداعی لکھنا میرےلیے آسان نہیں، پر لکھ رہا ہوں کیوں کہ اگر یہ بھی نہ کروں تو مجھ سے بڑا ناسپاس وناشکراکون ہوگا ؟اور' من لم یشکرالناس لم یشکراللہ" کا حقیقی مصداق کون ہوگا؟ کہ جہاں سے علم وفن کی شمعیں روشن ہوئیں اسی کو بھلادوں -
یہ چند بے ڈھب سطور اور بےمزہ الفاظ میرے قلم سے رقم ہوۓ جواس کی کماحقہ ترجمانی کبھی نہیں کر سکتا ،میں نے کوشش
کی ہےکہ کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے کہ کچھ ہوجاۓ
خیر ! راقم وہاں کےتمام اساتذہ کرام کا شکریہ ادا کرتاہے جس کے زیر نگرانی کسب فیض کیا
وہاں موجود احباب کا بھی شکریہ ادا کرتاہے جس معیت میں راقم نے تین سال کا یہ سفر بحسن وخوبی طے کیا
جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین آمین ثم آمین