ماہ ذی الحجہ کی فضیلت واہمیت
_____________________________
گل رضاراہی ارریاوی
متعلم : دارالعلوم دیوبند
١٩ ذوالحجہ ١٤٤٧ھ
_______________________________
اسلام نے اپنے متبعین کوخوشی کے اظہار کیلیے دو دن مقرر فرماۓ ایک عید الفطر جو ماہ رمضان پورے ہوتی ہی یکم شوال کو ہوتاہے،اور دوسرا عیدالاضحی،
ان دنوں میں رب کریم کی جانب سے بندوں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے ،ان کے رزق میں فراخی اورخصوصی برکت ہوتی ہے_
اسلامی سال کی ابتدا محرم سے ہوکر ذی الحجہ پر پوراہوجاتاہے ،ماہ ذوالحج اسلامی ان مہینوں میں سے ایک ہےجن کی فضیلت و اہمیت اورعظمت کی وجہ سے ہر مومن کیلیے ان کاادب واحترام لازم اورضروری ہے،
رب کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے ! حقیقت یہ ہیکہ اللہ کے نزدیک مہینون کی تعداد بارہ ہے جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ )کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ زمین وآسمان کو پیدا کیا ان میں سےچار مہینہ حرمت والے ہیں ،یہی دین کا سیدھا راستہ ہے، پس تم اپنے آپ پر ظلم مت کرو ،،
(آسان ترجمہ قرآن سورہ ،توبہ آیت ۳۶)
وہ چار ماہ ذوالقعدہ،ذوالحج ومحرم لگاتار ہے اورایک رجب کا مہینہ ہے _
ان مہینوں کی عظمت کا تقاضہ اوراحترام کا مطلب یہ ہےکہ ان میں خوب عبادات کی جائیں اوراللہ کو راضی کیاجاۓ ،
ذوالحج کے پہلے عشرے کی فضیلت کےلئے یہی کافی ہےکہ اللہ رب العزت نےذوالحج کی پہلی دس راتوں کی قسم کھائی ہے ،والفجر ولیال عشر (سورہ فجر ۲،۱)قسم ہے صبح کے وقت کی اور دس راتوں کی _"آپ ؐ نےفرمایا_ ان دس دنوں میں اللہ کونیکی جتنا زیادہ پسندیدہ ومحبوب ہے کسی اور دن میں اتنا پسندیدہ نہیں_
صحابہ کرام نے عرض کیا:یا رسول اللہ !اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں ؟فرمایا جہادبھی نہیں _
ہاں وہ شخص جو اپنی جان مال کےکر نکلااور کچھ لیکر نہیں لوٹا
(ترمذی شریف :-۷۵۷،عن ابن عباس )
حضرت ابوہریرہؓ نےفرمایا:"ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں ،جس کی عبادت اللہ کو زیادہ پسندہو ،اس کے ہردن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہےاور اس کے ایک ایک رات کا قیام شب قدر کے قیام برابر ہے،مامن ایام احب الی اللہ ان یتعبد لہ فیھا من عشر ذی الحجہ ،یعدل صیام کل یوم منھا بصیام سنۃ،وقیام کل لیلۃ منھا بقیام لیلۃ القدر
(۔مسجد کورس ،ترمذی :۷۵۸-عن ابی ھریرۃ )
حضرت علی ؓسے روایت ہیکہ نبی کریم ؐنے فرمایاجس شخص نے دل کی خوشی کے ساتھ ثواب کی امید رکھتے ہوۓقربانی کی وہ قربانی دوزخ سے آڑ بن جائےگی،
(المعجم الکبیر للطبرانی :۱۸۲/۳،رقم:۲۶۸)
ایام قربانی میں قربانی سےزیادہ افضل کوئی عمل نہیں_
قربانی ہمیں اس دن کی یاد دلاتی ہے جس میں ایک پدرمطیع اپنے لخت جگراور فرمانبردار فرزند ارجمند کواحکام الہی پہ عمل کرنے کیلیے قربان کرنے پربھی تیار ہیں ،یہ کام وہی کرسکتاہےجس کے دل میں محبت الہی کا ایک وافرحصہ موجود ہو ،ورنہ کون ہےوہ جو اپنے بڑھاپے کے سہارے کو جو کہ کئی سالوں کی آہ وزاری کا رہین منت ہو ،پھر اسے ایک خواب کی وجہ سے قربان کرنے کیلیے تیار ہو،
جد امجد ابراہیم علیہ السلام کی یہ قربانی ہمیں یہ سبق دیتا ہےکہ احکام الہی کو بروۓکار لانے کیلیے جس حد تک جانا ممکن ہو دریغ نہیں کرناچاہیے _
باری تعالی ہم سب کو اس ماہ کے فیوض و برکات سےہمکنار فرماۓ،ہماری مساعی جمیلہ قبول فرماۓاور امت مسلمہ کیلیے آسانی کی راہ ہموار فرماۓ آمین