ہندوستان کی سرزمین پر بعض علاقے ایسے بھی گزرے ہیں جنہیں زمانہ ایک معمولی بستی سمجھتا تھا، مگر قدرت نے انہی مٹی کے ذروں میں ایسے جواہر چھپا رکھے تھے جن کی چمک بعد میں عالمِ اسلام کے افق کو منور کرنے والی بنی۔
انہی خطوں میں ایک نام پالنپور کا بھی ہے۔
یہ وہ علاقہ تھا جو ایک زمانے میں جہالت، غفلت، اور دینی بے حسی کی دبیز چادروں میں لپٹا ہوا تھا۔ نہ علمی مجالس کی رونق تھی، نہ دینی بیداری کی کوئی واضح کرن۔ ایمان کی حرارت مدھم، اور قوم کی فکری حالت پژمردہ تھی۔ گویا یہ خطہ ایک ایسی خاموش وادی تھا جہاں علم کے قافلے ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ لوگ دنیا کی ظاہری مصروفیات میں گم تھے اور روحانی زندگی زوال کا شکار تھی۔
مگر ربِّ کریم جب کسی قوم پر فضل فرمانا چاہتا ہے تو اس قوم میں ایسے رجالِ حق پیدا فرما دیتا ہے جو اپنے اخلاص، علم، اور مجاہدانہ عزم سے تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔
پالنپور کی قسمت بھی اُس وقت جاگی جب اس سرزمین پر حضرت مولانا نذیر میاں صاحب رحمہ اللہ جیسی عظیم المرتبت ہستی نے قدم رکھا۔
وہ صرف ایک عالم نہ تھے بلکہ ایک تحریک تھے، ایک بیداری تھے، ایک روحانی انقلاب تھے۔
انہوں نے قوم کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگایا، دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی، اور علمِ دین کی ایسی بنیاد رکھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے پالنپور کی فضا بدلنے لگی۔ ان کے وعظ میں درد تھا، ان کی نگاہ میں تاثیر تھی، اور ان کے سینے میں امت کا غم موجزن تھا۔ انہوں نے قوم کو صرف نصیحت نہیں کی بلکہ عملاً ان کی تربیت فرمائی۔ ان کی محنتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ علاقہ جو کبھی جہالت کی علامت سمجھا جاتا تھا، آہستہ آہستہ علم و دیانت کا گہوارہ بنتا چلا گیا۔
پھر اس گلشنِ علم و عرفان میں ایک اور خورشید طلوع ہوا، جس کی تابانی نے دنیا بھر کے اہلِ علم کو متوجہ کر لیا۔ وہ حضرت مولانا عمر صاحب پالنپوری رحمہ اللہ تھے۔
اللہ اکبر! کیا شان تھی ان کی۔
سادگی میں وقار، گفتگو میں حکمت، مزاج میں انکسار، اور دل میں امت کا درد۔
انہوں نے ہزاروں ویران دلوں کو آباد کیا۔ ان کی مجلسیں صرف درسگاہیں نہ تھیں بلکہ تربیت گاہیں تھیں۔ ان کے پاس بیٹھنے والا علم کے ساتھ ساتھ اخلاص، خشیت، اور حسنِ عمل بھی سیکھتا تھا۔ وہ اپنے کردار سے دعوت دیتے تھے۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ جو ایک بار دیکھ لیتا، اُس کے دل میں ان کی محبت جاگزیں ہو جاتی۔ دنیا ان کے علم پر عش عش کرتی تھی، مگر وہ خود عاجزی و تواضع کا پیکر تھے۔
پھر زمانے نے وہ مبارک دور بھی دیکھا جب افقِ پالنپور سے ایک ایسا آفتاب طلوع ہوا جس نے علومِ نبوت کی خدمت میں اپنی مثال آپ قائم کر دی۔ وہ نامِ گرامی حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری رحمہ اللہ کا ہے۔
وہ ایک فرد نہ تھے بلکہ ایک مکمل علمی انجمن تھے۔
محدث بھی، مفسر بھی، فقیہ بھی، اصولی بھی، ادیب بھی، محقق بھی۔
ایسا محسوس ہوتا تھا گویا علوم و فنون ان کی زبان پر رواں ہوں۔
انہوں نے مشکل ترین کتابوں کو اس انداز سے آسان کیا کہ طلبۂ علومِ نبوت کے لئے دشوار علمی مباحث بھی سہل معلوم ہونے لگے۔ ان کی تصانیف محض کتابیں نہیں بلکہ علمی چراغ ہیں، جن سے آج بھی ہزاروں طالبانِ علم اپنے دل و دماغ کو روشن کر رہے ہیں۔
انہوں نے “ہدایۃ القرآن” جیسی عظیم تفسیر لکھ کر اُمت پر ایک بہت بڑا احسان فرمایا۔ اس تفسیر میں علم بھی ہے، درد بھی، سلاست بھی، اور حکمت بھی۔
پھر “تحفۃ الألمعی شرح ترمذی” تحریر فرما کر حدیثِ نبوی کے دقیق نکات کو نہایت آسان اور دلنشیں انداز میں واضح فرمایا۔ اسی طرح “تحفۃ القاری شرح بخاری” لکھ کر صحیح بخاری جیسے عظیم الشان ذخیرۂ حدیث کو طالبانِ علم کے لئے مزید قابلِ فہم بنا دیا۔
اور جب انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق کتاب “حجۃ اللہ البالغہ” کی شرح “رحمۃ اللہ الواسعۃ” لکھی تو گویا علمی دنیا میں چار چاند لگا دیئے۔
علمی دقائق، اسرارِ شریعت، حکمتِ دین، اور معارفِ نبوت کو جس حسنِ ترتیب اور سہل انداز میں انہوں نے بیان فرمایا، وہ ان کے غیر معمولی تبحرِ علمی کی روشن دلیل ہے۔
وہ دار العلوم دیوبند جیسے عظیم علمی مرکز کے شیخ الحدیث رہے، اور لاکھوں طلبہ نے ان کے علم کے سمندر سے فیض حاصل کیا۔ ان کا درس صرف معلومات نہ دیتا تھا بلکہ روح کو جلا بخشتا تھا۔
آج اگر پالنپور کا نام عزت و وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے، اگر اس سرزمین کو علم و عرفان کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے، تو اس کے پس منظر میں انہی اکابر کی شبانہ روز محنتیں، دعائیں، اور قربانیاں کارفرما ہیں۔
یہ وہ نفوسِ قدسیہ تھے جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے اس قوم کی آبیاری کی۔
اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کی قبروں کو انوارِ رحمت سے منور فرمائے، اُن کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، اور اُن کی علمی و روحانی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے۔
اللہ رب العزت ہماری قوم کو بھی انہی اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے دلوں میں علمِ دین کی محبت، اخلاص، عمل، اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا فرمائے، اور ہمیں اُن پاکیزہ ہستیوں کا سچا وارث بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

محمد مصعب پالنپوری