لمحات قسط 14
اظفر منصور
09/05/2026 بروز ہفتہ
نوٹ! یہ قسط ذرا طویل ہے مگر معلومات درسی و غیر درسی سے لبریز ہے۔ ضرور پڑھیں اور تاثرات سے نوازیں۔ 

کچھ لمحے قبل جو فلک اپنے آبگینوں پر محوِ ناز تھا، جن فضاؤں کو خنک و شیریں ہواؤں کے جھونکوں پر فخر تھا، ظلمت و تاریکی جس کی شان تھی، جس کی بانہوں میں قدموں کی چاپ محسوس کر لینا ہی دراصل معراجِ طفلِ مکتب تھی، وہی منظر اب آہستہ آہستہ اجالوں کی ردا اوڑھنے لگا تھا۔ یعنی شب کی سیاہ زلفیں سمٹ رہی تھیں، ستاروں کی انجمن خاموشی سے رخصت ہو رہی تھی، اور افق کے کناروں سے صبح اپنی پہلی کرنوں کے ساتھ طلوع ہونے کو بےتاب تھی۔ عین انہیں حالات میں میں نے محسوس کیا کہ نیند کی وادیوں سے بیداری کی صدائیں ابھر رہی ہیں۔ طلبہ کا اپنے اپنے بستروں کو چھوڑنے کی آہٹیں ایک جانب میری کھڑکی سے راز و نیاز کی باتیں کر رہی ہیں دوسری طرف وضو خانوں کی جانب بڑھتے قدموں کی چاپ ماحول میں ایک روحانی ترنم پیدا کر رہی ہے۔ تو کہاں کسی خارجی طاقت کو دخل کہ وہ ارادہ صلاۃ کے پائے ثبات میں لغزش بھی پیدا کر سکے۔ نرم و گرم بستر باوجود کہ قدموں میں بیڑیاں ڈالنے کی سعی لاحاصل کر رہا تھا ہم بیدار ہوئے، ادائے فجر کے لیے خود کو تیار کیا، جبہ ڈالا اور مسجد کے لیے روانہ ہوئے، صبح کا یہ ماحول اس قدر خوشگوار و سدا بہار تھا کہ معلوم محسوس ہوتا ہے نسیم صبح کے یہ دلنواز جھونکے اپنے پروں کو کھولے ہمارے استقبال کو دونوں سمت دست بستہ کھڑے ہوں۔ نہایت فخر کے احساس کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے، جماعت قائم ہو چکی تھی۔ امام فجر جناب قاری ریاض صاحب مظاہری ندوی دامت برکاتہم العالیہ کی دلسوز قرأت نے نور و نکہت کا سماں پیدا کر دیا تھا۔ بعد الصلاۃ سورہ یس شریف کی تلاوت کی، چونکہ نگران محترم کی جانب سے ایک اصول طے پایا ہے کہ کوئی بھی طالب علم جماعت فجر، سماعت حدیث کے بعد فوراً کمرے آنے کے بجائے کم از کم پانچ منٹ مسجد میں اذکار و تلاوت میں گزارے، تاکہ ان منٹوں میں وہ طلباء جو نماز ترک کر کے کمرے میں پڑے رہے ان کے نام نوٹ کئے جا سکیں۔ صبح کی تلاوت بالیقین انسانی عقل کی صحت کے لئے بہت مفید ہے، اور جب اس تلاوت میں سورہ یس شریف شامل ہو جائے تو نور علی نور۔
سورہ یس کی فضیلت (مختصر)
جس طرح جمیع جوارح انسانی میں دل کو رئیس الاعضاء کہا گیا ہے، کہ اگر یہ اپنا کام صحیح طریق و رفتار سے نہ کرے تو جسم اس قدر ناکارہ ہو جائے کہ روح کو بھی طوعاً و کرہاً پرواز کا ارادہ بنانا پڑ جائے۔ اسی طرح قرآن مجید کا دل سورہ یس کو کہا گیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث شریف کے الفاظ یوں ہیں "إن ‌لكل ‌شيء ‌قلبا، ‌وقلب ‌القرآن يس"۔ دل کی اس مثال سے یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ مجموعہ قرآن مجید میں اس کی کیا اہمیت و فضیلت ہو سکتی ہے۔ 
درجہ میں!!!
پہلا گھنٹہ!!!
ابوداؤد شریف
ہفتے کے ابتدائی تین ایام پہلا گھنٹہ کارگزار مہتمم جناب مولانا عبدالعزیز صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ کا ہے، گزشتہ سالوں میں مولانا کا معمول تھا کہ آپ وقت سے تقریباً دس پندرہ منٹ پہلے درجہ تشریف لے آتے تھے، رواں سال بھی پہلے دن مولانا نے یہی کہا تھا۔ مگر طبیعت کی علالت کے سبب اب عین وقت پر آتے ہیں۔ البتہ میرا معمول گزشتہ سالوں سے پہلے گھنٹے میں وقت سے پہلے پہنچنے کا ہے، اسی عادت کے سبب آج جب 07:20 پر کلاس پہنچا تو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ پورے فلور پر کوئی نہیں تھا، ایسا محسوس ہوا دروازے کھولنے کے لئے آنے والوں ملازمین کے بعد میری آمد مقدم ہوگئی۔ 
دھیرے دھیرے لڑکے آتے رہے اور چند لمحوں میں ہی پورا کلاس طلبہ سے بھر گیا۔ وقت ہوا مولانا تشریف لائے۔ اور ابوداؤد شریف سے کتاب الادب کا درس شروع کیا۔ مولانا کے ذمہ یہ باب بہت ججچتا ہے، کیونکہ مولانا کی تدریس تمام اساتذہ سے مختلف اور سطروں پر مکمل گہرائی کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث سے مسائل یوں بیان فرماتے ہیں گویا ہم ہی اس کے اصل مصداق ہوں۔ اس کے علاوہ تربیت و اصلاح کا بھی مولانا خاص اہتمام فرماتے ہیں۔ مثلاً درجے میں بیٹھنے کا سلیقہ، سونے سے گریز، درس کو ضبط تحریر لانے کی نصیحت، مطالعہ پر توجہ جیسے موضوعات خصوصاً آپ کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ مولانا دوران درس جو کچھ فرماتے ہیں وہ نہ صرف قابل تحریر ہوتے ہیں بلکہ اس کا تعلق ہماری روزمرہ کی زندگی سے بھی ہوتا ہے، مثلاً مولانا کا مشہور فقرہ ہے "ماضی میں شر کا تسلسل مستقبل کے خیر کے لیے مانع ہے"۔ آج کے درس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہماری کامیاب زندگی کی کلید ہے، "غر کریم خب لئیم"۔ اس پر جتنا لکھا اور بولا جائے کم ہے۔ کیونکہ یہی دراصل ہماری زندگی کا معیار طے کرنے والی ہے۔ اس حدیث کے ضمن میں یہ چند سطریں پیش ہیں۔ 
"غِرٌّ كَرِيمٌ، خِبٌّ لَئِيمٌ "
دیگر کتب احادیث میں اس حدیث کے الفاظ یوں بھی ہیں "الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ " ترجمہ! مؤمن بھولا بھالا ہوتا ہے جبکہ فاجر شخص کمینہ خصلت اور چالباز ہوتا ہے۔ یعنی ایک مسلمان اس قدر بھولا بھالا ہوتا ہے کہ کوئی بھی اسے نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ وہ دنیاوی منفعت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ لیکن اس کے مقابلے میں فاجر و کافر کے دن رات کا شیوہ یہی ہوتا ہے کہ کس طور سے وہ بس مال و دولت جمع کر لے، اس راہ میں چالبازی و کمینگی سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ایک مؤمن کی شان یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اتحاد قومی و فلاح ملت کے لیے اپنے حق سے بھی دستبردار ہو سکتا ہے۔ اسی کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں غر کریم کہا گیا ہے۔ 

دوسرا گھنٹہ!!! 
 گھنٹہ خالی ہونے کی باعث ناشتہ وغیرہ کے علاوہ مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب جہان دیدہ کے چند صفحات پڑھے۔ 
تیسرا گھنٹہ!!! 
العقیدۃ الواسطیۃ 
یوں تو سارے گھنٹے ہی گویا عقائد سے متعلق ہیں مگر اس کے باوجود ہفتے میں ایک دن عقیدہ کی یہ کتاب العقیدۃ الواسطیۃ از امام ابن تیمیہ نصاب میں شامل ہے، یہ کتاب مختصر مگر جامع ہے۔ اس کے مباحث کسی اور موقع سے ان شاءاللہ۔
چوتھا گھنٹہ!!! 
تعبیر 
مولانا سید اصطفاء الحسن صاحب ندوی کاندھلوی ہمارے استاد تعبیر و انشاء ہیں۔ مولانا سے سال گزشتہ ترمذی اول سے کتاب البیوع پڑھنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ مولانا نے گزشتہ ہفتے یہ بتایا تھا کہ "ہم نے تعبیر حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم (مولانا سعید الرحمن صاحب اعظمی ندوی دام ظلہ) سے پڑھی ہے، مہتمم صاحب کے پڑھانے کا جو انداز تھا وہ ندوہ میں موجود ایک ایک طالب بخوبی جانتا ہے۔ 
پانچواں گھنٹہ!!! 
شمائل ترمذی
مولانا کمال اختر صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ شمائل ترمذی پڑھاتے ہیں، یہ ایسی کتاب ہے جسے پڑھنے کا شوق عرصہ دراز سے دل میں موجود تھا۔ وہ شوق اس سال پورا ہوا۔ اور حسین سلسلہ شروع ہوا۔ 
چھٹا گھنٹہ!!!
بخاری شریف 
یہ ایک ایسا گھنٹہ ہے جس کا انتظار رہتا ہے، بار بار نظریں گھڑی سے ٹکراتی ہیں اور شکوہ کناں ہو کر کہتی ہیں کہ کیسے یہ وقت گزرے کہ بخاری شریف کا گھنٹہ شروع ہو۔ اس گھنٹے کی خاصیت جہاں بخاری شریف کی وجہ سے ہے وہیں اس میں اضافے کا سبب استاذ گرامی جناب مولانا عمیس صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ کا انداز تدریس ہے۔ مولانا کیا پڑھاتے ہیں۔ وااااااہ۔ مزا آ جاتا ہے۔ 
ان دنوں ایمان اور اس کے متعلقات پر بحث چل رہی ہے، کتاب الایمان شروع کرنے سے قبل مولانا نے جو مقدمہ باندھا وہ حرفاً حرفاً قید تحریر میں لانے کے قابل تھا، مگر افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ البتہ اس وقت جو کچھ ذہن میں ہے اس کو چند الفاظ میں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔ 
کتاب الایمان پر استاذ گرامی کا مقدمہ!!! 
"ایمان" یہ امن سے بنا ہے، جس مطلب سکون، امن، اطمینان، بھروسہ کرنا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو چیزیں آئی ہیں اس کو تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے۔ 
ایمان کے سلسلے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں۔ کہتے ہیں کہ 
ایمان کی دو قسمیں ہیں۔ 
 1. ایمان مرکب (جس کے اجزاء ہو سکیں)
 2. ایمان بسیط ( جس کے اجزاء نہ ہو سکیں)
 1. ایمان بسیط
 فرقہ مرجیہ کا موقف ہے کہ ایمان بسیط ہے، یعنی اگر اقرار باللسان کر لیا تو اب وہ ہر صورت جنت میں جائے گا۔ نیکی، بدی، گناہ، ثواب وغیرہ کچھ بھی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یعنی زبان کا اقرار یہ لازم کر دے گا کہ اب جنت واجب ہوگئی۔ مزید کسی اعمال و افعال وغیرہ کی چنداں حاجت نہیں۔ (لاتضرہ المعاصی و لا تنفعہ الصالحات)۔ 
1. ایمان مرکب 
اس بارے میں فرقہ معتزلہ و خوارج میدان انتشار میں ہیں۔ یہ ایمان کو اجزاء میں تقسیم کرتے ہیں، اور 1. اقرار باللسان 2. تصدیق بالقلب 3. عمل بالجوارح کے مجموعے کو ایمان کا نام دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بھی چھوٹا تو خوارج کی نظر میں وہ مکمل کافر ہوگیا۔ معتزلہ ذرا ہلکا ہاتھ رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ خرج من الایمان تو ہوا مگر دخل فی الکفر نہیں ہوا۔ بلکہ وہ ایمان و کفر کے درمیان معلق ہوگیا۔ گویا ایمان سے نکلنے کے معاملے میں دونوں فریق متفق ہیں مگر نتیجہ میں اختلاف ہے۔ 

ان دونوں کے بیچ ایک تیسرا طبقہ بھی ہے اہل سنت والجماعت۔ جس کے ہم سب پیروکار ہیں۔ یہ طبقہ اعتدال و توازن کا طبقہ ہے۔ اس معاملے میں بھی بیچ کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس کے علماء (امام اعظم، امام بخاری، امام شافعی وغیرہ) نے کچھ باتیں پیش کی ہیں۔ ان حضرات نے بھی ایمان کو بسیط اور مرکب میں تقسیم کیا ہے، مگر تعریف میں فرق ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ایمان کو بسیط فرمایا ہے۔ لیکن مرجئہ کی طرح فقط اقرار باللسان کو کامیابی کی کلید نہیں مانتے۔ بلکہ اعمال نیک و بد پر منحصر ہے کہ ایمان کتنا مفید ہے۔ اگر اعمال اچھے ہیں تو جزاء بھی اچھی ہوگی، اعمال برے ہیں تو سزا ہوگی، مگر اس سے ایمان پر حرف نہیں آئے گا۔ امام صاحب کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنے اچھے اعمال ہوں گے نفس ایمان میں اتنا ہی حسن پیدا ہوتا جائے گا۔ اس کو استاذ گرامی نے ایک مثال سے یوں سمجھایا کہ ایک تیس بائی بیس کا نیم تیار شدہ کمرہ ہے، جس کی دیواروں میں پلاسٹر نہیں، حفاظت کے لئے دروازہ نہیں، راحت کے لیے پنکھے وغیرہ نہیں، خوبصورتی کے لئے رنگ و آہنگ نہیں۔ مگر پھر اس میں دروازہ لگتا ہے، پلاسٹر و رنگ سازی کا کام ہوتا ہے، اے سی فریج وغیرہ لگتے ہیں۔ یوں دھیرے دھیرے جو کمرہ کچھ دیر پہلے بوسیدہ دکھ رہا تھا وہ لگژری روم میں بدل جاتا ہے۔ مگر جب غور کریں تو کمرے کی اصل ساخت یعنی لمبائی چوڑائی وغیرہ میں کوئی فرق نہیں آیا۔ چھت کی اونچائی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، تبدیلی ہوئی ہے تو بس اس کے حسن میں، اس کی زیبائش میں، اس کے ظاہری اسباب میں۔ اور کمرہ جوں کا توں کھڑا رہا۔ اب اگر اس میں مزید کچھ اضافہ یا کمی کرتے ہیں تو کمرے کے حسن و زیبائش میں کمی یا زیادتی ہوگی اصل ہیئت کمرے میں نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان ایک حالت پر رہتا ہے مگر ہمارے اعمال سے اس میں نکھار یا بدنمائی پیدا ہوتی ہے۔ 
اسی طرح امام بخاری و ائمہ ثلاثہ کی مانیں تو ایمان مرکب ہے، ہمارے اعمال اس کے اجزاء غیر لازمہ ہیں۔ (معتزلہ و خوارج اجزاء کو لازم مانتے ہیں) یعنی اعمال اس بات پر دال ہیں کہ ہمارا ایمان کیسا ہے، زیادہ ہے، کم ہے، وغیرہ وغیرہ۔ امام بخاری چونکہ ایمان بسیط کی تردید کرتے ہیں اس لیے کئی ایک دلیلیں اس ضمن میں پیش کر دیتے ہیں۔ مگر سب کا حاصل یہ ہے کہ امام اعظم کے موقف بسیط پر اس سے کوئی حرف نہیں آتا، بلکہ مرجئہ زد میں آتے ہیں۔ اسی طرح امام بخاری و ائمہ ثلاثہ کے ایمان مرکب کے بیان کو معتزلہ و خوارج کی تعریف سے نہیں جوڑ سکتے کیونکہ دونوں میں بہت فرق ہے۔ اور یہی فرق دراصل امام ابوحنیفہ و دیگر ائمہ اہل سنت والجماعت بھی کرتے ہیں۔ بس اختیار تعبیر کا فرق ہے۔ وغیرہ وغیرہ 
مولانا نے اس مسئلہ کو مزید مضبوط انداز میں محکم دلائل کے ساتھ پیش کیا تھا جسے ہم ترک کر کے آگے بڑھ رہے ہیں۔ 


ساتواں گھنٹہ!!! 
الادب العربی بین عرض و نقد 
مولانا وصاف صاحب ندوی دامت برکاتہم کے ذمہ یہ کتاب اپنے ایام پورے کر رہی ہے۔ استاذ گرامی نہایت کم گو ہیں۔ نفس مضمون سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، گزشتہ سال مولانا سے تفسیر پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ امسال پھر سابقہ پڑا ہے، انداز وہی پرانا مگر عام فہم ہے۔ ترجمہ کراتے ہیں گویا اپنی زبان بول رہے ہوں۔ مولانا کا چونکہ آخری گھنٹہ ہے تو کافی راحت ہو جاتی ہے، کہ وقت سے دس پندرہ منٹ پہلے چھٹی مل جاتی ہے۔ ورنہ ساتویں گھنٹے تک تو حالت غیر ہو جاتی ہے۔ ہم مولانا کے گھنٹے کو اپنے لیے انعام ربانی سمجھتے ہیں۔ 
اختتام درس کے بعد سورج کی تپش کے طمانچے کھاتے، نظریں جھکائے کمرے کا رخ کیا۔ کمرے پہنچتے ہی ایک ٹھنڈی آہ بھری اور لیٹ گئے یہ ضروری تھا۔ ورنہ وہ نشاط و چستی جس کی ضرورت تھی ماند پڑ جاتی۔ 
ــــــــــــــــــــــ
یہ عجیب اور خوبصورت اتفاق ہے کہ جب سورج ردائے آسمانی چاک کر کے دنیا کو روشن کرنے کا ارادہ بناتا ہے تو ہم طلبہ بستروں کو چھوڑ کر محض رب کی خوشنودی کے لئے مسجد کو بھاگتے ہیں اور پھر جب یہی سورج دن بھر کی اپنی تابانیوں کو سمیٹ کر روپوش ہونا چاہتا ہے تو پھر ہم لوگ اسے لمحے مسجد کی جانب خراماں خراماں بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ دلکش تصور ہے۔ جس میں بلا کی راحت اور کشش ہے۔ بعد المغرب مسجد میں ہی ہمارا ہال لگتا ہے، جس میں حاضری ضروری ہے۔ یہ منظر ایک نرالا سماں پیدا کرتا ہے۔ جگہ جگہ مذاکرات کے حلقے، حفظ کے طلبہ کی محنت، اور ہمارے ہاسٹل کے ساتھیوں کی ترتیب سے پوری مسجد کسی ایک مجلس علمی کا تصویر پیش کرتی ہے۔ 
عشاء بعد کچھ دیر خارجی مطالعہ و دیگر مصروفیات کا دور رہتا ہے، جس میں سیر و سیاحت اور چائے جیسی چیزیں بھی شامل ہیں۔ 
ان دنوں مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کا سفر نامہ جہان دیدہ مطالعہ میں ہے۔ یہ کتاب سفر نامہ کم اور تاریخ و سیرت کی کتاب زیادہ لگتی ہے۔ مفصل تاثر ان شاءاللہ مکمل پڑھنے کے بعد دیں گے فی الحال اسی کا ایک اقتباس جو ہم نے دیگر گروپوں میں بھی شئیر کیا تھا چسپاں کر کے اس چودہویں قسط کی تکمیل کرتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ جب کوفہ تشریف لے گئے تو اپنی کتاب جہان دیدہ میں وہاں کے حالات میں جامع کوفہ کا تذکرہ کرنے کے بعد اس سے متصل موجود دارالامارہ کا بھی تذکرہ کیا۔ جس کے ضمن میں ایک ایسا عبرت ناک واقعہ لکھا کہ جسم پر کپکی طاری ہوگئی۔ ذیل میں وہ واقعہ مع حوالہ پیش ہے۔
مفتی صاحب لکھتے ہیں: 
 عبد الملک بن عمیر لیثی نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبد الملک بن مروان اس دار الامارہ میں ایک چار پائی پر لیٹے ہوتے تھے، میں نے ان سے کہا کہ میں نے اس امارت میں سب سے پہلے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد کے سامنے ایک ڈھال پر رکھا ہوا دیکھا، پھر اسی قصر میں عبید اللہ بن زیاد کا کٹا ہوا سر مختار بن عبید ثقفی کے سامنے دیکھا، پھر اسی قصر میں مختار کا کٹا ہوا سر مصعب بن عمیر کے سامنے دیکھا، پھر اسی جگہ مصعب بن عمیر کا کٹا ہوا سر آپ کے سامنے دیکھا۔ عبد الملک پر یہ سن کر خوف سا طاری ہوگیا۔ اور وہ یہاں سے منتقل ہوگئے۔ 
جہان دیدہ صفحہ نمبر 71
مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ
جــــــــاری........

https://whatsapp.com/channel/0029VaADSM1HFxOzJzSqLm1Y/2191