محبت کا کرشمہ ۔۔۔۔۔۔۔ قسط اول
13 مئی، 2026
ہجرت کی تیسری صدی قریب الاختتام ہے، بغداد کے تخت خلافت پر المقتصد باللہ عباسی متمکن ہے، معتصم کے زمانہ سے دارلخلافہ کا شاہی اور فوجی مستعقر "سامرہ میں منتقل ہو گیا ہے ، پھر بھی سر زمین بابل کے اس نئے بابل میں پندرہ لاکھ انسان بستے ہیں، ایران کے اصطحر ، مصر کے رئیس ، اور یورپ کے روم کے بعد اب دنیا کا تمدنی مرکز بغداد ہے۔
چوتھی صدی ہجری کا بغداد دنیا کا سب سے بڑا شہر اور انسانی تمدن کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ انسانی آبادی و تمدن کے یہ تمام لازمی نتائج موجود ہوتے، گندگی میں مکھیاں اور دلدل میں مچھر اس تیزی سے پیدا نہیں ہوتے ہیں جس تیزی سے شہروں کی آب و ہوا جرم اور مجرموں کو پیدا کرتی ہے۔ بغداد کے قید خانے مجرموں سے بھرے ہوئے تھے مگر پھر بھی اس کی آبادی میں مجرموں کی کمی نہ تھی۔
بغداد میں جس طرح آج کل حضرت شیخ جنید بغدادی کی بزرگی کی شہرت ہے ،
اس طرح ابن ساباط کی چوری و عیاری بھی مشہور ہے پہلی شہرت نیکی کی ہے ، دوسری بدی کی، دنیا میں بدی نیکی کی طرح اس کی شہرت کا بھی مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ اگر چہ کر نہیں سکتی۔ دس برس سے ابن ساباط مدائن کے قید خانہ میں ہے ، اس کے خوفناک حملوں سے لوگ محفوظ ہو گئے ہیں تاہم اس کی عیاریوں اور بیباکیوں کے افسانے لوگ بھولے نہیں، وہ جب کبھی کسی دلیرانہ چوری کا حال سنتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں۔ یہ دوسرا ابن ساباط ہے “ اس دس برس کے اندر کتنے ہی نئے ابن ساباط پیدا ہو گئے ہیں مگر پرانے ابن ساباط کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ بغداد والوں کی بول چال میں وہ جرائم کا شیطان اور برائیوں کا عفریت تھا۔
ابن ساباط کے خاندانی حالات عوام کو بہت کم معلوم ہیں، جب وہ پہلی مرتبہ سوق التجارین میں چوری کرتا ہوا گرفتار ہوا تو کو توالی میں اس کے حالات کی تفتیش کی معلوم ہوا یہ بغداد کا باشندہ نہیں ہے ، اس کے ماں باپ ”ڈس“ سے ایک قافلے کے ساتھ آ رہے تھے ، راہ میں بیمار پڑے اور مر گئے ، قافلہ والوں کو رحم آیا اور اپنے ساتھ بغداد پہنچا دیا۔ یہ اب سے دو برس پیشتر کی بات ہے ، یہ دو برس اس نے کہاں اور کیونکر بسر کئے ؟ اس کا حال کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ گرفتاری کے وقت اس کی عمر پندرہ برس کی تھی، کو توالی کے چبوترے پر لٹا کر اسے تازیانے مارے گئے اور چھوڑ دیا گیا۔
اس پہلی سزا نے اس کی طبیعت پر کچھ عجیب طرح اثر ڈالا ، وہ اب تک ڈرا سہما کمسن لڑکا تھا، اب اچانک ایک دلیر ، بیباک مجرم کی روح اس کے اندر پیدا ہو گئی۔ گویا اس کی تمام شقاوتیں اپنے ظہور کے لئے تازیانے کی ضرب کی منتظر تھیں۔ مجرمانہ اعمال کے تمام بھید اور بدیوں ، گناہوں کے تمام مخفی طریقے جو کبھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں گزرے تھے اب اس طرح اس پر کھل گئے گویا ایک تجربہ کار اور مشاق مجرم کا دماغ اس کے سر میں اتار دیا گیا۔ تھوڑے ہی دنوں کے اندر وہ ایک اپکا عیار اور چھٹا ہو ا جرائم پیشہ انسان تھا۔
اب چھوٹی چھوٹی چوریاں نہیں کرتا تھا۔ پہلی مرتبہ جب اس نے چوری کی تھی تو دو دن کی بھوک اسے نان بائی کی دوکان پر لے گئی تھی۔ لیکن اب وہ بھوک سے بے بس ہو کر نہیں بلکہ جرم کے ذوق سے وارفتہ ہو کر چوری کرتا تھا۔ اس لئے اس کی نگاہیں نان بائی کی روٹیوں پر نہیں بلکہ صرافوں کی تھیلیوں اور سوداگروں کے ذخیروں پر پڑتی تھیں۔ دن ہو، رات ہو، بازار کی منڈی ہو ، یا امیر کا دیوان خانہ ، ہر وقت، ہر جگہ ، اس کی کارستانیاں جاری تھیں اس کے اندر ایک فاتح کا جوش تھا، سپہ سالار کا سا عزم تھا، سپاہی کی مردانگی تھی، مدیر کی سی دانشمندی تھی لیکن دنیا نے اس کے لئے یہی پسند کیا کہ وہ بغداد کے بازاروں کا چور ہو۔ اس لئے اس کی فطرت کے تمام جواہر اسی میں نمایاں ہونے لگے۔ افسوس فطرت کس فیاضی سے بخشتی ہے اور انسان کس بے دردی سے برباد کرتا ہے۔ ابن ساباط کے ہاتھ کا کٹنا، کٹنا نہ تھا۔ بلکہ سینکڑوں ہاتھوں کو اس کے شانوں سے جوڑ دینا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے سارے شیطان اور عفریت اس واقعہ کے انتظار میں تھے جو نہی اس کا ہاتھ کٹا، انھوں نے اپنے سینکڑوں ہاتھ اس کے حوالے کر دیئے۔ اب اس نے عراق کے تمام چور اور عیار اکٹھے کر کے اپنا اچھا خاصا جتھا بنالیا اور فوجی سامان کے ساتھ لوٹ مار شروع کر دی۔ تھوڑے ہی عرصے کے اندر اس کے دلیرانہ حملوں نے تمام عراق میں تہلکہ مچادیا۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد مصعب پالنپوری