آزمائشوں کا دور اور جلاوطنی:
امام بخاری رحمہ اللہ کو خدمتِ حدیث کے طفیل اتنی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی کہ جہاں جاتے وہاں کے علما اور طلبہ اپنی پلکیں بچھا کر آپ کا استقبال کرتے، آپ کے درسِ حدیث میں شامل ہوتے ، آپ سے استفادہ کرتے ، اور ہر جگہ آپ کو علما اور عوام سب اپنی آنکھوں پر بٹھاتے، چناں چہ جب آپ نیشاپور تشریف لے گئے، تو خود وہاں کے شیخ محمد ابن یحیی ذہلی ایک جمِ غفیر کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے شہر سے دو تین منزل دور آگئے ۔امام مسلم رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ” نیشاپور میں آپ کی تشریف آوری پر شاہانہ استقبال کیا گیا، میں نے اپنی زندگی میں کسی محدث کی اتنی تعظیم و توقیر نہیں دیکھی، جتنی لوگ امام بخاری کی کرتے ہیں “۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کے حاسدین اور متعصبین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہا ، جس کے نتیجے میں آپ کو بڑے سخت مصائب اور طرح طرح کی آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا ، جب آپ نیشاپور میں تھے، تو حاسدین نے” خلقِ قران“ کو مسئلہ بنا کر غلط اور بے بنیاد بات آپ کی طرف منسوب کر کے سازش کا جال بچھایا، اور آپ کے خلاف نیا فتنہ کھڑا کر دیا ، جس کی وجہ سے علما ، طلبہ اور خود والئ شہر بھی آپ کی مخالفت پر آمادہ ہو گئے ، اور آپ کو نیشاپور سے جلا وطن کر دیا گیا ۔ احمد بن سلمہ کہتے ہیں کہ ”امام بخاری رحمہ اللہ جب نیشاپور سے جا رہے تھے ، تو میرے سوا امام بخاری کو الوداع کہنے والا کوئی نہیں تھا“ لوگوں کی عقیدت کی بے ثباتی دیکھیے ! انقلابِ زمانہ اور قدرت کی نیرنگیاں دیکھیے! اور”وتلك الأيام نداولها بين الناس “ کا منظر دیکھیے! کہ کہاں وہ وقت کہ پورا شہر آپ کے استقبال کے لیے امنڈ آیا تھا ، اور کہاں اب کہ رخصت ہو رہے ہیں اور الوداع کے لیے ایک آدمی کے سوا کوئی نہیں۔
زمین چمن اگاتی ہے گل کیا کیا ★
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
آپ کی دعا :
جب آپ نیشاپور سے جلاوطنی کے بعد دوبارہ اپنے شہر بخارا آئے، تو کچھ عرصے کے بعد امیر ِشہر نے آپ کے خلاف پروپیگنڈہ کیا ، اور بالاخر آپ کو یہاں سے بھی ہجرت کرنی پڑی۔ یہ بخارا سے تیسری مرتبہ جلاوطنی تھی ، جب اس آخری اخراج کا علم اہلِ سمرقند کو ہوا ، تو انھوں نے اپنے یہاں آنے کی دعوت دی ؛ لیکن ابھی سمرقند کے قریب ”خرتنگ“ نامی بستی میں پہنچے تھے، کہ اطلاع ملی کہ آپ کی تشریف آوری پر اہل سمرقند میں اختلاف ہو گیا ہے، دل برداشتہ ہوکر خرتنگ ہی میں ہی اپنے عزیز کے پاس قیام کیا ، اور رات میں اٹھ کر دنیاوی ہنگاموں سے اکتا کر بارگاہِ رب ذوالجلال میں دعا کی کہ” اللّهم ضاقت علي الأرض بما رحبت فاقبضني إليك “ اے اللہ یہ زمین اپنے تمام تر و سعتوں کے باوجود مجھ پر تنگ ہو گئی ہے ، اب مجھے اپنی طرف ہی اٹھا لیجئے ! “
دشت وفا میں جب نہ ملا کوئی آشنا ★
پہروں کرتے رہے دعا ہم افتادگی کے ساتھ
سانحۂ ارتحال:
ادھر سمرقند سے امام کی آمد پر اتفاقی فیصلہ کی اطلاع آئی ، اور ادھر خالقِ کون و مکاں نے اپنا فیصلہ سناکر عزرائیل علیہ السلام کو پروانہ دے کر بھیجا ، اور جب یکم شوال ٢٥٦ ہجری کو خوشیوں کا تحفہ لے کر ماہ تاب ِعید نمودار ہوا، اسی رات زمانہ اور اہل زمانے کی بے قدری کا داغ لیے حدیثِ نبوی کی لافانی خدمت کرنے والے اس عظیم انسان کی زندگی کا آفتاب ِتاباں وہاں غروب ہوا، جہاں زندگی کے ہر آفتاب کا مدفن ہے ۔ اسی مقام پر آپ کی تجہیز و تکفین ہوئی ، دفن کرنے کے بعد آپ کی قبر مبارک سے خوشبو پھوٹی ، اور قبر کی سیدھ میں آسمان کی جانب ایک روشن خط نظر آنے لگا ، لوگ مٹی پر ٹوٹ پڑے ، مخالفین بھی نادم ہو کر آئے اور توبہ کی۔ الغرض امام بخاری رحمہ اللہ دنیا سے پردہ فرما گئے؛ لیکن صدیاں گزر گئیں امام بخاری کی یادیں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گی۔
آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو★
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
✍️: محمد شاہد گڈاوی