شہرِ خاموشاں کا مسافر
15 مئی، 2026
زندگی بھی عجب کاروانِ حیرت ہے۔ کبھی انسان ہجومِ شہر میں رہ کر بھی تنہائی کے صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے، اور کبھی خاموشی کے کسی ویران گوشے میں بیٹھ کر اپنی ذات کی صدائیں سن لیتا ہے۔ میں بھی مدتوں اسی شوریدہ بستی کا ایک مسافر رہا، جہاں ہر چہرہ مسکراہٹ کا نقاب اوڑھے ہوئے تھا مگر ہر دل اپنے اندر ایک شکستہ قیامت چھپائے بیٹھا تھا۔
پھر ایک شب، جب شام کی زرد چادر آہستہ آہستہ زمین پر اتر رہی تھی اور افق کے کنارے سورج اپنی آخری کرنوں کو سمیٹ رہا تھا، میں بے اختیار شہرِ خاموشاں کی طرف نکل پڑا۔ وہاں نہ بازاروں کا شور تھا، نہ خواہشات کی ہنگامہ آرائی، نہ زر و جاہ کی کشمکش؛ فقط سکوت تھا، ایسا سکوت جو انسان کے باطن میں اتر کر روح کے دریچے کھول دیتا ہے۔
ہوا میں عجب سی بُوئے فنا تھی۔ شکستہ قبروں کے درمیان اگے ہوئے خودرو پودے یوں محسوس ہوتے تھے گویا وقت نے اپنی تھکی ہوئی انگلیوں سے زمین پر سبز اشعار لکھ دیے ہوں۔ کہیں کوئی چراغ نہ تھا، مگر عجب بات یہ تھی کہ وہاں اندھیرا بھی روشنی کا پیام دیتا محسوس ہوتا تھا۔
میں آہستہ آہستہ چلتا رہا۔ ہر قبر ایک داستان تھی، ہر کتبہ ایک خاموش مرثیہ۔ کسی پر نام ثبت تھا، کسی پر صرف مٹی کی خاموش تہہ۔ یوں لگتا تھا جیسے یہاں آکر تمام تعارف، تمام القاب، تمام تفاخرِ دنیا خاک میں تحلیل ہوچکے ہوں۔ نہ کوئی امیر تھا، نہ فقیر؛ نہ حاکم، نہ محکوم۔ فقط انسان… اور اس کے اعمال کی خاموش بازگشت۔
اسی سکوت میں مجھے پہلی بار اپنی آواز سنائی دی۔ انسان جب دنیا کے شور میں رہتا ہے تو خود اپنے وجود سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ مگر شہرِ خاموشاں انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔ یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی تمام رونقیں عارضی ہیں؛ اقتدار، شہرت، محبت، آرزو—سب وقت کے بے رحم سمندر میں بہہ جانے والے نقوش ہیں۔ باقی رہتی ہے تو فقط کردار کی خوشبو یا بدعملی کا دھواں۔
رات گہری ہورہی تھی۔ چاند اپنی سیمگوں روشنی قبروں پر بکھیر رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے فلک بھی ان خاموش مکینوں پر نوحہ کناں ہو۔ میں نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا تو دل کے اندر ایک عجیب لرزش پیدا ہوئی۔ انسان کس قدر کمزور، کس قدر فانی، اور کس قدر غافل ہے!
میں دیر تک وہاں بیٹھا رہا، اپنے ماضی کے اوراق الٹتا رہا۔ کتنے لوگ تھے جو کبھی محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے، آج خاموش مٹی کے نیچے سو رہے ہیں۔ کتنی آوازیں تھیں جو کبھی گونجتی تھیں، آج ہوا بھی ان کا سراغ نہیں جانتی۔ دنیا واقعی ایک سرائے ہے، اور ہم سب محض چند روزہ مسافر۔
واپسی کے وقت میں نے مڑ کر شہرِ خاموشاں کو آخری بار دیکھا۔ وہاں اب بھی خاموشی تھی، مگر وہ خاموشی خوف کی نہیں، حکمت کی تھی۔ یوں محسوس ہوا جیسے قبریں مجھے پکار پکار کر کہہ رہی ہوں:
"اے مسافرِ دنیا! اپنے سفر کو سنوار لے، اس سے پہلے کہ تو بھی اس شہر کا ایک خاموش مکیں بن جائے۔"
محمد مصعب پالنپوری