گزشتہ چھ سات دنوں سے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کا سفر نامہ "جہان دیدہ" زیر مطالعہ ہے۔ یہ میری ان پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ہے جس سے شناسائی کو سال دو سال نہیں بلکہ مکمل آٹھ سال گزر چکے ہیں، اول مرتبہ یعنی ثانویہ ثانیہ یا ثالثہ میں اس سے میرا تعارف یوں ہوا تھا کہ رفیق درس فرحان وسیم نے اس مطالعہ کیا اور اس سے منتخب شدہ تعبیرات، اصطلاحات، معلومات، اشعار، الفاظ و معانی وغیرہ کو کاپی پر نقل کرنے کے لئے مجھے دیا۔ جب کتاب ہاتھ آئی تو متعینہ کام کیا کرتا بس ادھر ادھر سے پڑھنا شروع کر دیتا اور اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا۔ مگر پھر موصوف رفیق درس کا اصرار بڑھتا تو لکھنا شروع کرتا۔ اس طرح کئی ماہ گزر گئے مگر کام مکمل نہیں ہوا اور انہوں نے کتاب واپس لے لی۔ شاید کتب خانہ میں جمع کرانی ہوگی۔ اس دور میں کتابیں پڑھنے کا تو شوق تھا مگر خریدنے کا نہیں۔ بھائیوں کے ذریعے جو کتابیں وراثت میں ملی تھیں انہیں ہی پڑھ کر وقت گزرتا گیا۔ مگر جہان دیدہ سے کسی طرح فرار ممکن نہیں رہا۔ تھک ہار کر دو سال قبل یہ مکتبہ ندویہ سے حاصل کی اور اب بتوفیق الہی اس کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہو کہ جب اتنی ہی پسندیدہ کتاب تھی تو یہ آٹھ سال کی طویل مدت تک انتظار کس بات کا ؟ تو اس کا پیشگی جواب یہ ہے کہ اس کی ضخامت تقریباً چھ سو صفحات کی ہے، اس لیے جب بھی پڑھنے کو اٹھایا تو دل نے پکارا کہ کتاب مکمل پڑھ کر چھوڑو گے بس ایسے ہی ؟ چونکہ کتابوں کے ساتھ اکثر ایسا معاملہ ہوتا ہے کہ جس کتاب کو آپ پڑھ رہے ہیں اگر کسی وجہ سے اسے درمیان میں چھوڑ دیا تو پھر وہ کتاب بوسیدہ تو ہو جاتی ہے مگر دوبارہ پڑھنے کی توفیق نہیں ملتی، اسی ڈر سے اسے ایسے وقت و حالات پر مؤخر کرنا بہتر تھا جب اسے اگر شروع کیا جائے تو مکمل کئے بغیر کوئی چارہ کار بھی نہ ہو۔
مفتی صاحب کا یہ سفر نامہ سفر نامہ کم اور معلومات کا خزانہ زیادہ ہے، تمام مقامات کا تفصیلی تعارف، تاریخی حیثیت، اہمیت وغیرہ روایات کی روشنی میں بیان کرتے ہیں جس سے مصدقہ معلومات بھی ملتی ہے اور بالیقین شواہدات بھی۔ چونکہ مفتی صاحب محقق و محدث بھی ہیں تو ان کے لکھنے کا انداز واقعات کی ثقاہت وغیرہ پر بحث بھی اسی طرز کی کی ہے۔ جہان دیدہ پڑھ کر کوئی دید جہان کو نکلے تو وہ خستہ حال عمارات کو صرف بنظر حسرت نہیں دیکھے گا بلکہ اس کی نوحہ گری بھی محسوس کرے گا، بلند و بالا عمارتوں اور مساجد کی میناروں سے بلند ہوتی داستانِ دل گرفتہ بھی سنے گا۔
ابھی فی الحال اس کا مطالعہ جاری ہے، اس دنیائے فانی میں کیسے کیسے انقلابات آئے اس کی فلم چل رہی ہے۔ نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ اللہ حضرت شیخ الاسلام صاحب کو اس قیمتی سرمایہ کو مرتب کرنے کے عوض میں جزائے خیر عطا فرمائے ۔
اظفر منصور
15/05/2026
8738916854