بسم اللہ الرحمن الرحیم

قربانی کی فضیلت قرآن وحدیث کی روشنی میں


عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا ایک عظیم الشان تیہوار ہے ، جس میں قربانی کرنا شعائر اسلام میں سے ہے ، جس کا قرآن وحدیث میں جابہ جا حکم کیا گیا ہے ، قربانی کے بہت سے فضائل نصوصِ شرعیہ میں موجود ہیں ؛ چناں چہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: " فصل لربک وانحر "(سورۃ کوثر ، آیت /٢ ) آپ اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے- اور ارشاد ہے:" والبدن جعلنٰھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیر "(سورۃ الحج ، آیت / ٣٦ ) قربانی کے اونٹ اور گائے کو ، اسی طرح بکری اور بھیڑ کو بھی ہم نے اللہ کے دین کی یاد گار بنایا ہے - ان کی قربانی سے اللہ کی عظمت اور دین کی رفعت ظاہر ہوتی ہے ، اس حکمت کے علاوہ ان جانوروں میں تمھارے لیے اور بھی فوائد ہیں - مثلاً دنیوی فائدہ: کھانا ، کھلانا اور اخروی فائدہ: اجرو ثواب........-

قربانی کے متعلق احادیث نبویہ:
جس طرح خداوند کریم نے قرآن پاک میں قربانی کا حکم اور اس کے فضائل بیان فرمائے ہیں ، ویسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی احادیث مبارکہ میں قربانی کے فضائل بیان فرمائے ہیں اور قربانی سے انحراف اور روگردانی کرنے والوں کے خلاف سخت وعیدیں احادیث میں موجود ہیں ؛ چناں چہ ایک حدیث میں آپ ارشاد فرماتے ہیں ، حسین بن علی سے روایت ہے کہ : " جو شخص قربانی کرے ، اس طرح کہ اس کا دل خوش ہو اور وہ اپنی قربانی میں ثواب کی نیت رکھتا ہو ، تو وہ قربانی اس شخص کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائے گی" - ( احکام قربانی ، ص ٢٣ بہ حوالہ طبرانی کبیر )

ایک اور حدیث میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد ہے ، حضرت علی ر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ، آپ نے ارشاد فرمایا: " اے فاطمہ! اٹھ ، اور ذبح کے وقت اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو ؛ کیوں کہ قربانی کا پہلا قطرہ جو زمین پر گرتا ہے ، اس کے ساتھ ہی تیرے لیے تمام گناہوں کی مغفرت ہوجائے گی - اور یاد رکھو ، کہ قیامت کے دن اس قربانی کا گوشت اور خون لایا جائے گا اور تیرے میزان عمل میں ستر گنا بڑھا کر رکھ دیا جائے گا اور ان سب کے بدلے نیکیاں دی جائیں گی " - ( احکام قربانی ، ص ٢٣ بہ حوالہ اصبہانی)

قربانی نہ کرنے والوں کے لیے وعید:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : " جو شخص قربانی کی گنجائش رکھے ( یعنی صاحب نصاب ہو) اور قربانی نہ کرے ، سو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے" - ( احکام قربانی ، ص ٢٤ بہ حوالہ حیاۃ المسلمین)

مذکورہ حدیث میں اس عظیم الشان امر خداوندی سے منھ موڑنے والوں کے لیے کس قدر سخت وعید ہے ، کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام بے حد ناراض ہیں ، کیا کوئی مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی برداشت کرسکتا ہے ؟ ؛ اسی لیے اس امر عظیم سے انحراف کرنا اور باوجود وسعت و استطاعت کے قربانی نہ کرنا انتہائی بے غیرتی کی بات ہے!! -

آخرًا دعا گو ہوں کہ اللہ ربّ العزت ہمیں اس عظیم امر کو بجالانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی ناراضگی سے بچائے ، آمین ثم آمین -

از قلم : عبیداللہ صندل مظفر نگری
متعلم : شعبۂ تحقیق وتالیف " شیخ الہند اکیڈمی" دار العلوم دیوبند