نیت کا فرق... زندگی کا سکون 🕯️
18 مئی، 2026
جب کام صرف ایک دنیاوی ضرورت، مجبوری یا معمول بن جائے،تو انسان اکثر ذہنی طور پر پریشان ہو جاتا ہے۔
قدم قدم پر تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے،
ذمہ داریوں کا بوجھ پہاڑ لگنے لگتا ہے ۔
اور دل و دماغ پر ایک عجیب سی اکتاہٹ مسلط ہو جاتی ہے۔
ہم روز اٹھتے ہیں،
روز وہی لکیر پیٹتے ہیں،
اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی لامتناہی چکر میں پھنس چکے ہیں جہاں سکون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ہم زندگی کی اس بھاگ دوڑ
کو صرف دنیا کے ترازو میں تول رہے ہوتے ہیں۔ ہم یا تو اسے محض اپنی پیٹ کی آگ بجھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، یا پھر لوگوں کی سطحی واہ واہ اور خیرخواہی حاصل کرنے کی ایک لاحاصل کوشش۔
لیکن ذرا سوچیے! اگر اسی کام کے پیچھے "رضائے الٰہی" اور مخلوقِ خدا کی سچی خدمت کی نیت شامل ہو جائے،
تو کتنا بڑا انقلاب آ سکتا ہے؟
جب نیت یہ ہو کہ میرا یہ عمل، میری یہ محنت اللہ کے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے گی، ان کی زندگی کو سنوارے گی تاکہ وہ سکون سے اپنے پروردگار کی عبادت کر سکیں... تو وہی روزمرہ کا بوجھ ایک خوبصورت اور بابرکت عبادت بن جاتا ہے۔
جب نیت بدلتی ہے، تو کام کا معیار اور دل کا حال بھی بدل جاتا ہے۔ پھر وہی کام جو پہلے نچوڑ لیتا تھا، اب روح کو تازگی اور دل کو ایک انوکھا، غیر مرئی سکون دینے لگتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ عمل کا دارومدار صرف اور صرف نیتوں پر ہے۔
کام کبھی نہیں بدلتا،
بدلتی ہے تو بس ہماری سوچ۔
اور جب سوچ میں اخلاص آ جائے،
تو جسم کی تھکن،
روح کے اطمینانِ قلب میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ازقلم: زا- شیخ ✍️