عید الاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی کرنا ہمارے عظیم پیغمبر سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی وہ مبارک اور لازوال سنت ہے، جس کا مقصد امتِ مسلمہ میں جذبۂ ایثار و تسلیم کو قیامت تک زندہ رکھنا ہے۔ یہ اللہ کا حکم اور اسلام کا ایک عظیم الشان شعار ہے جس کی اہمیت رہتی دنیا تک مسلم ہے۔
لیکن اس عظیم ظاہری قربانی کے ساتھ ساتھ، اسلام ہمیں باطنی قربانی کا درس بھی دیتا ہے۔ اس بار جب ہم سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرتے ہوئے جانور قربان کریں، تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اندر کی انا کو بھی ذبح کریں!
وہ رحم کے رشتے اور خون کے تعلق، جو محض وراثت کی تقسیم یا دنیاوی مال و دولت کے باعث آپس میں تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں؛ آئیے اس عید پر اس تقسیم کی دیوار کو ہمیشہ کے لیے قربان کر دیں اور رشتوں میں دوبارہ محبت کا جوڑ پیدا کریں۔
آئیے! جانور کی شرعی قربانی کے ساتھ ساتھ، اپنے وجود سے ہم قربانی دیں:
اپنے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کی
اپنے نفس کی بے لگام خواہشات کی
دنیاوی فائدے پر مبنی غلط ترجیحات کی
اپنی ضد، نفرت اور تکبر کی
اور نیکیوں میں چھپے ریاکارانہ دکھاوے کی!
آئیے! اس مبارک موقع پر یہ عہد کریں کہ جانور کی قربانی دے کر ہم نے جس جذبے کو اپنے دلوں میں زندہ کیا ہے، کل کو اگر دینِ اسلام کو ہماری محنت، ہمارے وقت، ہماری صلاحیتوں یا ہماری کسی بھی قربانی کی ضرورت پڑی، تو ہم اپنی عزیز سے عزیز تر چیز بھی اللہ کی راہ میں نچھاور کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یاد رکھیے..!
اللہ پاک کا فرمانِ عالی شان ہے کہ تم ہرگز نیکی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجے کو نہیں پا سکتے، جب تک کہ تم اپنی سب سے پسندیدہ اور عزیز ترین چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دو۔
سنت بھی زندہ رہے، باطن بھی بیدار ہو
ہر اک عمل ہمارا، اب طالبِ دیدار ہو
ازقلم: زا- شیخ ✍️