جب حضرتِ شیخ راغب نے اپنی زوجۂ محترمہ نجیہ کو پہلی مرتبہ طلاق دی تو نہایت سنجیدہ لہجے میں فرمایا:
“اپنے میکے چلی جاؤ!”
نجیہ نے سکون و وقار کے ساتھ عرض کیا:
“نہ میں میکے جاؤں گی اور نہ اس گھر سے باہر قدم رکھوں گی، جب تک میری جان باقی ہے!”
حضرتِ شیخ نے فرمایا:
“میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں، اب تم سے میرا کوئی تعلق نہیں، لہٰذا گھر سے نکل جاؤ!”
نجیہ نے ادب و متانت کے ساتھ جواب دیا:
“میں نہیں نکلوں گی، اور شریعت بھی آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ عدّت مکمل ہونے سے پہلے مجھے گھر سے نکال دیں۔ اس دوران میرا نان و نفقہ بھی آپ ہی کے ذمہ ہے۔”
حضرتِ شیخ کو یہ جواب ناگوار گزرا، چنانچہ فرمایا:
“یہ طرزِ گفتگو مناسب نہیں!”
نجیہ نے نہایت احترام سے عرض کیا:
“میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہی، بلکہ یہ ربِّ کریم کا فرمان ہے:”
ترجمہ:
“اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدّت کے وقت پر طلاق دو، اور عدّت کا شمار رکھو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں، اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔”
(سورۃ الطلاق: 1)
یہ سن کر حضرتِ شیخ خاموش ہو گئے، اپنی عباء سنبھالی اور کچھ برہمی کے عالم میں باہر تشریف لے گئے، زبان پر بے اختیار یہ الفاظ جاری تھے:
“اللہ کی پناہ! یہ خاتون تو بڑی ثابت قدم نکلی!”
مگر نجیہ گویا صبر و حکمت کا پیکر تھی۔
اس نے نہ شکوہ کیا، نہ آہ و فغاں۔ بلکہ روزانہ گھر کو خوشبوؤں سے معطر کرتی، خود کو آراستہ رکھتی، اور جب بھی حضرتِ شیخ گھر میں داخل ہوتے یا باہر تشریف لے جاتے، وہ وقار و محبت کے ساتھ سامنے موجود ہوتی۔
چند ہی دن گزرے تھے کہ حضرتِ شیخ کے دل کی سختی موم ہونے لگی، اور پانچویں دن انہوں نے رجوع فرما لیا۔
ایک روز نجیہ سے ناشتہ تیار کرنے میں کچھ تاخیر ہوگئی۔ حضرتِ شیخ نے فرمایا:
“یہ میرے حق میں کوتاہی ہے، اور ایک مؤمنہ کے شایانِ شان نہیں!”
نجیہ نے نرمی سے عرض کیا:
“اپنے مؤمن بھائی کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا اہلِ ایمان کی بہترین صفت ہے۔ جو لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے، وہ ان کے دل جیت لیتا ہے۔”
حضرتِ شیخ نے فرمایا:
“یہ بات تمہاری کوتاہی کا عذر نہیں بن سکتی۔ کیا تم پسند کرو گی کہ میں بغیر ناشتہ کیے گھر سے نکلوں؟”
نجیہ مسکرائی اور بولی:
“سچا مؤمن وہ ہے جو اللہ کے عطا کردہ تھوڑے پر بھی قناعت کرے۔”
پھر اس نے حدیثِ مبارک کا مفہوم بیان کیا:
“کامیاب وہ شخص ہوا جو اسلام لایا، اسے بقدرِ کفایت رزق ملا، اور اللہ نے اسے اپنے عطا کردہ پر قناعت نصیب فرمائی۔”
(صحیح مسلم: 1054)
حضرتِ شیخ نے فرمایا:
“اچھا! تو پھر میں کچھ نہیں کھاؤں گا!”
نجیہ نے تبسم کے ساتھ عرض کیا:
“تو پھر گویا آپ نے حدیث سے ابھی پورا سبق حاصل نہیں کیا!”
حضرتِ شیخ خاموشی اختیار فرما کر باہر تشریف لے گئے۔ واپس آئے تو بھی خاموش رہے۔ رات کو انہوں نے اپنا بستر چھوڑ دیا اور نیچے فرش پر آرام فرمانے لگے۔ یہ سلسلہ دس دن تک جاری رہا۔
مگر نجیہ نے نہ خدمت میں کمی آنے دی اور نہ محبت میں۔
دن میں وہ حضرتِ شیخ کے تمام کام انجام دیتی، کھانا تیار کرتی، پانی پیش کرتی، اور رات کو خوشبو میں بسی، خوبصورت لباس زیبِ تن کیے اپنے بستر پر سکون سے لیٹ جاتی، مگر دانستہ طور پر کوئی گفتگو نہ کرتی۔
گیارہویں رات حضرتِ شیخ حسبِ معمول نیچے لیٹے، پھر کچھ دیر بعد خاموشی سے اٹھے اور اپنے بستر پر تشریف لے آئے۔
نجیہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“حضرت! یہ واپسی کیسے ہوئی؟”
حضرتِ شیخ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:
“I am sorry… میں پلٹ آیا ہوں!”
نجیہ نے شوخی سے کہا:
“کششِ ثقل تو یہ کہتی ہے کہ لوگ اوپر سے نیچے آتے ہیں، آپ نیچے سے اوپر کیسے تشریف لے آئے؟”
حضرتِ شیخ ہنس پڑے اور فرمانے لگے:
“کششِ ثقل سے زیادہ طاقتور ایک اور کشش ہوتی ہے… شریکۂ حیات کی کشش!”
پھر محبت بھرے انداز میں فرمایا:
“اگر دنیا کی تمام خواتین تم جیسی ہوتیں اے نجیہ! تو نہ گھروں میں طلاق ہوتی، نہ رشتوں میں تلخی باقی رہتی۔”
پھر انہوں نے ایک روایت کا مفہوم بیان فرمایا:
“جو عورت اپنے شوہر کی سخت مزاجی پر صبر کرے، اللہ تعالیٰ اسے حضرت آسیہ بنت مزاحمؑ کے برابر اجر عطا فرماتا ہے۔”
اس کے بعد حضرتِ شیخ نے نہایت محبت سے فرمایا:
“اے نجیہ! تم میرے لیے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بہترین معاون ثابت ہوئیں۔ اللہ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے، اور ہمارے درمیان کبھی جدائی نہ آئے۔”
یوں حلم، حکمت، صبر اور محبت نے ایک بکھرتے ہوئے گھر کو سنبھال لیا، اور یہ حقیقت روشن ہوئی کہ نرم خوئی وہ تاثیر رکھتی ہے جو سختی کبھی پیدا نہیں کر سکتی۔
نوٹ۔برادر صغیر مولوی معاذ نے یہ مضمون عربی میں بھیجبا تھا بندہ نے اس کا ترجمہ ناظرین کے سامنے پیش کیا ہے
محمد مصعب پالنپوری