آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے رابطے جتنے بڑھتے جا رہے ہیں، جتنی دور دور تک ہماری رسائی ممکن ہو گئی ہے، ہمارے دل اتنے ہی ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ واٹس ایپ کی چیٹس، فیس بک کے لائکس، اور انسٹاگرام کے فالوورز نے ہمیں ایک ایسی وہمی دنیا میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ہمارے پاس "لوگوں" کا ہجوم تو ہے، مگر "اپنوں" کی شدید کمی ہے۔
ہم روزانہ سینکڑوں اسٹیٹس اور اسٹوریز دیکھتے ہیں، لوگوں کی خوشیوں پر مصنوعی دل (Heart Emojis) بھیجتے ہیں اور غم پر اداسی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اسکرین کے پیچھے چھپی اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی اداسی اور کتنا درد ہے، یہ جاننے کی فرصت اب کسی کے پاس نہیں ہے۔ ہم بھیڑ کا حصہ ہو کر بھی اندر سے بالکل اکیلے ہیں۔
رابطوں کی فراوانی نے احساس کی نایابی کو جنم دیا ہے۔ آن لائن لوگوں کی کثرت، اپنوں سے محرومی کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اب رشتوں کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ کوئی ہمارے دکھ سکھ میں کتنا شریک ہے، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کس نے ہماری پوسٹ پر پہلے کمنٹ کیا، کس نے لائک کیا اور کس نے صرف اور صرف "سین" کر کے کوئی بھی ری ایکشن نہیں دیا۔ ہماری خوشیاں اور غم بھی اب ان کے ری ایکٹس سے ہی منسلک ہو گئے ہیں۔ جب تک ہم آن لائن ہیں، ہم سب کے عزیز ہیں؛ اور جیسے ہی اسکرین آف ہوتی ہے، تنہائی کا ایک گہرا سمندر ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
ان مجازی (Virtual) تعلقات کے شور میں ہم اپنے حقیقی رشتوں کو، اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ کو کھو چکے ہیں۔ ہم مخلص دلوں کو چھوڑ کر ان لوگوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جن کی ترجیحات میں ہم صرف ایک نوٹیفکیشن (Notification) سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہیں۔
ہاں! یہ سچ ہے کہ اس ورچوئل دنیا میں ہر چیز سراب نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اسی فضا میں ہمیں کچھ ایسے مخلص اور صالح دینی دوست بھی مل جاتے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے ہم سے جڑتے ہیں، جو ہمارے دلوں کو دنیا کی مصلحتوں سے نکال کر دین کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ایسے نیک اور ہم مزاج ساتھی یقیناً اللّٰہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں جو اس دورِ فتن میں بہترین دوست ثابت ہوتے ہیں۔
مگر ہمیں مجموعی طور پر یہ سمجھنا ہوگا کہ دل کا اصل سکون اسکرین پر چمکنے والے لائکس میں نہیں، بلکہ مخلص انسان کی آنکھوں میں جھلکتی سچی فکرمندی اور خاموش دعاؤں میں ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ مصنوعی دنیا ہمیں اندر سے بالکل بنجر کر دے، ہمیں اپنے حقیقی رشتوں کو وقت دینا ہوگا۔
یاد رکھیے! جو بات اپنوں کے ساتھ مل بیٹھ کر گپ شپ کرنے، ہنسی مذاق، اور سچی خوشی یا غم کا تبادلہ کرنے میں ہے، وہ کسی بھی سوشل میڈیا کے تعلقات میں نہیں؛ کیونکہ لفظوں کا تبادلہ تو کوئی بھی کر سکتا ہے، مگر احساس کا تبادلہ صرف مخلص لوگ ہی کرتے ہیں۔
ان اسکرینوں کے پیچھے بس اک سراب ہے
رابطے تو بہت ہیں، مگر ہر دل خراب ہے 🥀
ازقلم: زا- شیخ ✍️