انسان زندگی مختلف تجربات، احساسات اور یادوں کا مجموعہ ہے۔ وقت کا پہیہ مسلسل گردش کرتا رہتا ہے اور زندگی کے بے شمار لمحات ہمارے سامنے آتے اور گزر جاتے ہیں۔ کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو وقتی طور پر دل کو مسرور کردیتے ہیں اور پھر بھلا دیے جاتے ہیں، جبکہ بعض لمحات اپنی مٹھاس، خوبصورتی اور معنویت کے سبب ہمیشہ کے لیے دل میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ یہی یادگار اور گزرے ہوئے اوقات لمحاتِ رفتہ کہلاتے ہیں۔
زندگی میں خوشی اور غم دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ جب کوئی چیز ہماری خواہش اور امید کے مطابق حاصل ہو جاتی ہے تو دل پر سرور کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، اور جب حالات توقعات کے برخلاف ہوں تو دل میں ملال پیدا ہوتا ہے۔ یہی اتار چڑھاؤ زندگی کو دلچسپ اور بامعنی بناتے ہیں۔
*بچپن سے لے کر آج تک زندگی کے بے شمار لمحات ہم پر گزرے ہیں۔ ان میں کچھ لمحات ایسے بھی ہیں جنہیں یاد کرکے آج بھی دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ جب ان دنوں کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے تو ان کی بازگشت دل و دماغ میں سنائی دینے لگتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کے وہ حسین ایام دوبارہ ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گئے ہوں۔ ان یادوں کے ساتھ ایک میٹھی سی حسرت بھی جنم لیتی ہے کہ کاش وہ گیا وقت پھر واپس آجاتا ، اور ہم انہی حسین گزرے ہوئے لمحات میں زندگی گزار سکتے
میری زندگی کے سب سے خوبصورت اور یادگار لمحات طالب علمی کے زمانے سے وابستہ ہیں۔ وہ دور اپنی سادگی، بے فکری اور لطافت کی وجہ سے آج بھی دل کو بھاتا ہے۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی فکر علم حاصل کرنا، کتابوں کا مطالعہ کرنا اور اساتذۂ کرام سے استفادہ کرنا تھا۔ دن کا بڑا حصہ درس و تدریس میں گزرتا اور راتیں سبق کی تیاری میں بسر ہوتیں۔ ہم اپنے روشن مستقبل کے خواب دیکھتے اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے محنت کرتے تھے۔
مدرسے کے ساتھیوں کے ساتھ گزارے گئے لمحات بھی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ دوستوں کے ساتھ کی گئی گفتگو، کھیل کود، ہنسی مذاق اور تعلیمی سرگرمیاں آج بھی یاد آتی ہیں تو دل مسکرا اٹھتا ہے۔ ان خوشگوار یادوں کی مہک آج بھی ہمارے دل و دماغ کو معطر کر دیتی ہے۔ اگرچہ وہ دن گزر چکے ہیں، لیکن ان کے نقوش آج بھی ہمارے دلوں پر ثبت ہیں اور وقت گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑے
وقت کے ساتھ انسان کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آتی ہیں۔ طالب علمی کی بے فکری کی جگہ عملی زندگی کی ذمہ داریاں لے لیتی ہیں۔ جو فکر کبھی سبق یاد کرنے اور امتحان کی تیاری کی ہوا کرتی تھی، وہ اب گھریلو، معاشرتی اور معاشی ذمہ داریوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ زندگی کی مصروفیات انسان کو ماضی سے دور تو کر دیتی ہیں، لیکن یادوں کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
لمحاتِ رفتہ اگرچہ واپس نہیں آ سکتے، لیکن ان کی یادیں انسان کے لیے حوصلے، خوشی اور سکون کا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہ یادیں ہمیں اپنے ماضی سے جوڑے رکھتی ہیں اور زندگی کے خوبصورت پہلوؤں کا احساس دلاتی ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے حال کو بھی اس طرح گزارنا چاہیے کہ آنے والے وقت میں یہی لمحات ہماری خوبصورت یادوں کا حصہ بن جائیں اور ہم انہیں یاد کرکے خوشی محسوس کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کو نیکی، علم اور اچھے اعمال کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
✍🏻: فارغہ مدرسہ اسلامیہ رحیمیہ للبنات بھیرہ ولید پور