*کزنوں کے ساتھ بےتکلفی اور اس کے نقصانات*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
_______________________________
آج کل ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہوتی جارہی ہے کہ لوگ اپنے کزنوں جیسے ماموں زاد خالہ زاد پھوپھی زاد اور چچا زاد بہن بھائیوں کے ساتھ حد سے زیادہ بےتکلف ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ شریعتِ اسلامیہ نے ان تعلقات میں بھی حدود و آداب قائم کیے ہیں جن کی رعایت کرنا نہایت ضروری ہے۔

اکثر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ چونکہ یہ رشتہ دار ہیں اس لیے ان سے ہر قسم کی بےتکلفی جائز ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی بہن وہی ہوتی ہے جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔ باقی تمام کزنوں سے نکاح جائز ہوتا ہے اسی لیے ان تعلقات میں احتیاط کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

بعض اوقات یہی بےاحتیاطی فتنہ کا سبب بن جاتی ہے۔ گھنٹوں فون پر گفتگو ہنسی مذاق دل لگی اور تنہائی میں بیٹھنا رفتہ رفتہ دلوں میں ایسی کیفیت پیدا کردیتا ہے جو بعد میں ندامت اور پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض والدین بھی اس معاملہ کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں حالانکہ اولاد کی دینی و اخلاقی حفاظت ان کی اہم ذمہ داری ہے۔

 کزنوں کے ساتھ تعلقات میں شریعت کے دائرے کو ملحوظ رکھا جائے بلا ضرورت میل جول اور بےجا بےتکلفی سے بچا جائے اور حتی الامکان تنہائی اور غیر ضروری رابطوں سے اجتناب کیا جائے۔ ضرورت کے مطابق ادب و احترام کے ساتھ تعلق رکھنا یقیناً درست ہے لیکن حدود سے تجاوز کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو پاکیزہ زندگی گزارنے اپنی نگاہوں اور تعلقات کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔