*شریکِ حیات، شریکِ حیات ہے خادمہ نہیں*

زندگی کے سفر میں جب دو لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک آگے بڑھے اور دوسرا پیچھے ہٹتا رہے، نہ یہ کہ ایک حکم دے اور دوسرا چپ چاپ چلتا رہے، ازدواج محض ساتھ رہنے کا معاہدہ نہیں، یہ دلوں کا اتحاد ہے، احساسات کا اشتراک ہے، اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم ہے، مگر افسوس آج بہت سے گھروں میں اس مقدس رشتے کی روح کھو چکی ہے۔

کچھ مرد خود کو حاکم سمجھتے ہیں اور اپنی بیوی کو خادمہ، ملازمہ یا اپنے آرام کے لیے مقرر کردہ خدمت گزار وہ بھول جاتے ہیں کہ بیوی گھر میں ہمسفر بن کر آتی ہے، محبت و راحت کا مرکز بن کر، اولاد کی ماں بن کر، اور دل کی سکونت بن کر، وہ اس لیے نہیں آتی کہ برتنوں کی کھنکھناہٹ میں گم ہو جائے یا چولہے کے دھوئیں میں اپنی زندگی سیاہ کر لے، کچھ مرد شادی کو سہولت سمجھ بیٹھے ہیں، جیسے کسی نے گھر میں نوکرانی رکھی ہو، جو کھانا پکائے، کپڑے دھوئے، بچوں کی دیکھ بھال کرے، اور اگر کبھی تھکن کا اظہار کر دے تو اس پر احسان بھی جتلایا جائے۔

میرے عزیز : آپ کو کس نے حق دیا کہ آپ اسے خادمہ سمجھیں؟

آپ کو کس نے حق دیا کہ کپڑے نہ دھلنے پر بگڑ بیٹھیں؟

کس نے اجازت دی کہ آپ کی زبان اسے طعنے دے، اور آپ کا رویہ اسے بھٹکتے ہوئے سایوں میں بدل دے؟

اگر آپ اسلامی نظریات کو دیکھنا چاہتے ہو تو آپکو حقیقت کا پتہ چل جائے گا کہ بیوی کون ہے اور کس طرح زندگی اس کے ساتھ میں گزارنا ہے کس طرح اسکے ساتھ رویہ عمل رکھنا ہے، کیا وہ اپنے والدین کو چھوڑ کے تمہارے گھر نوکری کرنے آئی ہے اپنی بہنوں کو چھوڑ کر تمہارے گھر کپڑا دھلنے آئی ہے؟ وہ اپنے پریوار کو چھوڑ کر، اپنے باپ کے گھر لاڈ و پیار سے پل کر تمہارے گھر وہ خادمہ بننے آئی ہے خدارا اسلام کا نظریہ فکر یہ ہے کہ بیوی بھی اسی شخصیت کی مالک ہے جس کا شوہر ہے اور اجازت یہاں تک ہے اسلام کی جانب سے کہ وہ اپنے وجود سے جننے والے بچے کو بھی دودھ پلائے تو اسکی اجرت لے سکتی ہے شوہر سے، اور یہ بھی ہے اگر چاہے تو نا پلائے کیوں کہ یہ اسکی ذمّے داری نہیں یہ شوہر کی ذمّے داری ہے، باقی آپ ذی شعور لوگ ہیں خود سمجھ سکتے ہیں۔

اسکو بیان کرنے کی وجہ:

کچھ دن پہلے میری ملاقات ایک خاتون سے ہوئی دو بچوں کی ماں، سادگی میں لپٹی ہوئی، چہرے پر تھکن،ہم دونوں ٹرین میں ہمسفر تھے خوابوں کی منزلوں کی طرف جاتی پٹری پر گاڑی اٹک اٹک کر بڑھتی رہی، اور ہمارے درمیان آہستہ آہستہ گفتگو کا سلسلہ بھی، خاتون برقع میں تھی اور تنہا تھی بچوں کے ساتھ میں نے ہلکی آواز کے ساتھ پوچھا: اپپی آپ اکیلی دو بچوں کے ساتھ سفر کر رہی ہیں؟ مشکل نہیں ہوتا؟ وہ لمحہ بھر خاموش رہیں، پھر آہ بھری مگر چہرے پر صبر کی چادر برقرار رہی،انہوں نے کہا: بھائی یہ میرے دو بچے ہیں اور ان کے ابو بہت مشغول رہتے ہیں کاموں میں، اللہ کا شکر ہے رزق خوب ہے، گھر اچھا ہے، پہننے اوڑھنے میں کوئی کمی نہیں لیکن، یہ کہنے بعد ان کی آواز بوجھ بن کر ڈاؤن ہو گئی۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھی: اور بولیں بس گھر میں میری ضرورت کم ہوتی ہے، ان کے نزدیک میرا مقام جیسے صرف کام تک محدود ہے، کپڑے دھو دیے تو اچھی، کھانا پک گیا تو تعریف، مگر کبھی بیمار پڑ جاؤں تو پوچھنے والا کوئی نہیں بچوں کو سنبھال لوں تو فرض، لمحہ بھر آرام مانگوں تو شکوہ، رزق تو بہت ہے، مگر دل کا رزق؟ وہ کبھی نہیں ملا،کہنے لگیں میں گریجویٹ ہوں تعلیم یافتہ ہوں، اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا، پھر بولیں بھائی مسئلہ یہ نہیں کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے، محبت کرتے ہیں میری باتوں کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں گریجویٹ ہو کر بھی صرف پورا دن گھر کے کام میں لگی رہتی ہوں، کبھی بچوں کو سنبھالنا کبھی، کھانا بنانا، کبھی کپڑا دھلنا اور بہت سارے کام ہوتے ہیں گھروں میں، اور حالت یہ ہے کہ میری دو نند (شوہر کی بہنیں ) ہیں اور ایک اور لڑکی رہتی ہے پورا دن فون کی یوزنگ، اور کچھ کام نہیں لیکن کبھی کام میں ہاتھ نہیں بٹاتیں، میں بہت بار ساسو ماں کو بولیں ہوں امی ان لوگوں سے کہہ دو کہ میرا ہاتھ بٹا دیا کریں امی کہتی ہیں لیکن کوئی اثر نہیں ہسبینڈ سے کہوں تو وہ یہ سمجھتے ہیں میری بہنوں سے کام کرانا چاہتی ہے اور خود آرام سے کھانا چاہتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ لوگ اس طرح سے بولتیں ہوں اپنے بھائی سے، بھائی بتاؤ یہ خادمانہ زندگی نہیں، میں کچھ کرنا چاہتی ہوں اپنی دم پر لیکن وہ کچھ کرنے ہی نہیں دیتے کہتے ہیں صرف گھر کام کرو آپکو باہر کام کرنے ضرورت نہیں، حاصل یہ ہوا انہوں نے بتایا کہ میں بیوی کی شکل میں خادمہ، اور محبت سے درکنار لڑکی ہوں جسے زندگی کے اس جال میں جھوکا گیا ہے جس کی وہ حقدار نہیں تھیں پھر رونے لگیں🥹

میں نے ان کی آنکھوں میں ایک ایسا درد دیکھا جو الفاظ سے زیادہ چیختا تھا، یہ وہ درد تھا جو اکثر گھروں کی دیواروں میں دبا ہوا ہے، مگر سنائی صرف اسی کو دیتا ہے جو دل سے سننے آئے، اور حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہر انسان کو بہت قریب سے دیکھنا پڑتا ہے جبکہ مجھے انکی سب باتیں اچھی لگیں، اور محبت کرنا خادمہ نا سمجھنا عزت دینا یہ انکا حق بھی ہے شرعی اعتبار سے، اور انہوں نے یہی بات کہی تھی کہ بھائی میں ان سے خفا نہیں، بس چاہتی ہوں کہ وہ مجھے بیوی سمجھیں خادمہ نہیں۔

یہ کہانی صرف ایک عورت کی نہیں، یہ ہزاروں گھروں کی آہ ہے، جہاں مرد معاشی کفالت کو اپنی جانب سے پورا دین سمجھ لیتے ہیں، اور عورت کی محنت، جذبات، اور وجود صرف خانگی خدمات تک محدود کر دیتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ محبت پیسوں سے بدل جاتی ہے، حالانکہ محبت وقت مانگتی ہے، لحاظ مانگتی ہے، احترام مانگتی ہے، اسکا یہ حق مانگنا بجا ہے، اسلیے کہ خود نبی کریم ﷺ ارشاد فرمایا، جسکا مفہوم یہ ہے کہ تمہارے والدین کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے بچوں کا حق، پھر ایک جملہ ارشاد فرمایا تو ہر حق والے کو اسکا حق دے دو۔

کیا یہ انصاف ہے کہ عورت سارا دن چرخے کی طرح گھومتی رہے،

اور شام کو اسے صرف خاموش دیواریں ملیں؟

کیا یہ رشتہ ہے یا معاہدہء مزدوری؟

کیا شریکِ حیات اس لیے دی جاتی ہے کہ جوتے سامنے رکھے، یا اس لیے کہ زندگی کے کانٹوں میں ساتھ سے سہارا بنے؟

خدارا ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اسلام نے ہمیں کیا حقوق دیئے ہیں میں ابھی ازدواجی زندگی سے متعلق نہیں ہوا ہوں تو ممکن ہے کہ کچھ خامی ہو گئی ہو، لیکن بھائی مجھ میں خامی ہو سکتی ہے، اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق بخشے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ شوہر گھر کا بادشاہ نہیں گھر کا محافظ ہے،

بیوی نوکرانی نہیں گھر کی ملکہ ہے

رشتہ حکم سے نہیں، محبت سے چلتا ہے، اگر وہ تمہارے لیے جان کھپاتی ہے تو تم بھی اس کا ساتھ دو، اگر وہ تھک جاتی ہے تو اسے تکیہ بن کر سہارا دو، اگر اس کی آنکھ نم ہو جائے تو اس کا قہقہہ بحال کرو، کیونکہ شریکِ حیات، شریکِ زندگی ہے خادمہ نہیں۔

عزت دو، محبت دو، زبان نرم رکھو، اور اگر کبھی اختلاف ہو، تو یاد رکھو

زخم لفظوں سے بھی لگتے ہیں، اور مرہم بھی لفظوں سے لگایا جاتا ہے، یقینا محبت وہ انداز ہے جس سے کسی بھی سخت انسان کو اپنا بنایا جا سکتا ہے، بھائی خدا کے لیے اس کو سمجھنا ہوگا، اور میں تو کچھ ظالم لوگوں کو یہاں تک سنا ہوں کہ وہ ہانڈی کو چولہے سے پھینک دیتے تھے اگر کھانا لیٹ ہو گیا تو، اور طرح طرح کی اذیت دیتے تھے، اور حالت یہ بیوی انکے ارد گرد خادمہ کی طرح گھومتی تھی، لیکن پھر میں انکا انجام بھی پڑھا ہوں، خدا وحدہ لا شریک نے انکو ایسے مقام پر کھڑا کر دیا کہ اپنے ماضی کے ہر لفظ پر انکے خود کے آنسو نکل آتے تھے، خدارا عزت دیں اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے عزت کی بات کی اور عزتیں دیں ورنہ تمام مذاہب میں عورت کو آج بھی خادمہ درجہ دیا جاتا ہے، پھر ہم خود سوچ سکتے ہیں ہم کس مقام پر کھڑے ہوئے لوگ ہیں، اگر آپ پڑھیں کہ عورت مرد کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا ہے تو اس میں حکمت کیا ہے تب آپکو سمجھ آ جائے گا اسلام کا نظریہ۔

اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق بخشے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*