📚*عنوان*📚
 *•اورایک سال گزر گیا•*
نیا اسلامی سال اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ فگن ہو رہا ہے۔
 ہم نئے سال میں قدم رکھ کر حیات مستعار سے ایک سال کا قیمتی عرصہ گنوا چکے ہیں۔ زمانے کے موجودہ حالات، دنیا میں انسانوں کے ہاتھوں انسانیت کی خوفناک تباہی، ظلم و بربریت ،شراب و کباب، عیاشی وفحاشی، نیکیوں کا زوال، بدی کا عروج ،
ہماری نظروں کے سامنے ہے ۔
ایسے حالات میں نئے سال میں قدم رکھتے ہوئے ہمیں کن باتوں کا خیال رکھنا ہے؟ کن چیزوں کو اختیار کرنا ہے؟ اور کن چیزوں سے کنارہ کش ہونا ہے؟ یہ جاننا اور سمجھنا ہمارے لیے بے حد ضروری ہے .
۱۔ *توبہ و استغفار*
اپنے گزشتہ گناہوں ،خطاؤں پر شرمندگی اور توبہ ۔
حدیث پاک میں ارشاد ہے۔
التائب من الذنب كما لا ذنب له (ابن ماجه )
*ترجمه*.. گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔
نیکیوں کی طرف سبقت، احکام خداوندی کا اہتمام سنتوں کی پابندی غرض کے اپنا ہر دن زندگی کا اخری دن سمجھ کر اللہ کی طرف رجوع کرنا ،
۲۔ *نفس کا محاسبہ*
اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ يا ايها الذين امنوا اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد (الحشر)
*ترجمہ* اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے؟۔۔
 مومن کو چاہیے کہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے.
 یہ ہمارے ایمان کو تازہ ،خوف الہی کو قائم ،اور فکر اخرت کو زندہ رکھتا ہے ۔
ایک مومن کا یہ ایمان ہے کہ روز محشر اللہ تعالی ہماری زندگی کا حساب لیں گے۔ جیسا کہ مخبر صادق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے ۔
لا تزول قدما عبد حتى يسال. عن عمره فيما افناه؟ وعن علمه فیما فعل فيه؟ وعن ماله من اين اكتسبه؟ واين انفقه؟ وعن جسمه فيما ابلاه؟ (الترمذي)
*ترجمه* قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے سوال کیا جائے گا اس کی عمر کہاں گزری؟ ،اس کے علم پر کتنا عمل کیا ؟،اس نے مال کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا ؟اور اس کے جسم کو کہاں کھپایا ؟
اس لیے ! اللہ کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے سے پہلے ہم اپنا احتساب کریں تاکہ روز قیامت رب کے اور سب کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے کیونکہ یہ زندگی ایک مرتبہ ملی ہے دوبارہ نہیں ملے گی ہم چاہ کر بھی دوبارہ اس زندگی میں نہیں لوٹ سکتے۔
 فرمان باری تعالی ہے ۔
ربنا ابصرنا فارجعنا نعمل الصالحا انا موقنون (السجده)
*ترجمه* اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں اب ہمیں یقین آگیا،
سدا دور دورہ دکھاتا نہیں 
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں 
لیکن اس وقت کا افسوس اس وقت کی شرمندگی کسی کام نہ ائے گی اس لیے وقت سے پہلے بیدار ہو جائیں اور اپنے نفس کا محاسبہ کر لیں ۔
*مستقبل کا لا ئحہ عمل*
اپنی خود احتسابی کے بعد بہترین مستقبل کی تعمیر کے لیے خود کو تیار کرنا ۔
 اپنی کمزوریوں کا حل تلاش کرنا، اس کو ختم نہیں تو کم کرنے کی فکر کرنا، دینی اور دنیاوی دونوں طرح کے معاملات کو درست کرنے کی فکر کرنا، آخرت کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے۔
 جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔
وان ليس للانسان الا ما سعى وان سعيه سوف يرى ثم يجزاه الجزاء الاوفى (سوره النجم) 
  *ترجمه* اور ہر انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کوشش کی اور بے شک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ 
*خلاصہ*
خلاصہ یہ ہے کہ ہر نیا سال خوشی کے بجائے ایک حقیقی انسان کو بے چین کر دیتا ہے اس لیے کہ اس کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ میری عمر رفتہ رفتہ کم ہو رہی ہے۔ اور برف کی طرح پگھل رہی ہے۔ وہ کس بات پر خوشی منائے؟ بلکہ اس سے پہلے کہ زندگی کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے کچھ کر گزرنے کی تمنا اس کو بے قرار کر دیتی ہے. اس کے پاس وقت کم اور کام زیادہ ہوتا ہے.
 ہمارے لیے نیا سال وقتی لذت یا خوشی کا لمحہ نہیں ہے۔ بلکہ گزرے ہوئے وقت کی قدر کرتے ہوئے آنے والے لمحات زندگی کا صحیح استعمال کرنے کا عزم و ارادے کا موقع ہے۔ اور ازسر نو عزائم کو بلند کرنے اور حوصلوں کو پروان چڑھانے کا وقت ہے ۔
*دعا*
اخیر میں اللہ رب العزت سے یہی دعا ہے کہ ہمارے لیے یہ نیا سال خیر و برکت۔ اور حفظ و امان کا سال رہے۔ جب تک زندگی باقی رہے اپنے احکام پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اپنی کوتاہیوں پر معافی اور آئندہ اطاعت کی توفیق نصیب فرمائے۔
 امین یا رب العالمین ۔
*کاوش قلم۔ محمد تنویر عاصی*