*تبصرۂ کتاب: ازبلا — ایک مسیحی لڑکی کی المناک مگر ایمان افروز داستان*
*مؤلف۔ مفتی اقتدار احمد خان نعیمی*
*تبصرہ نگار ۔محمد مصعب پالنپوری*




ازبلا ایک مسیحی لڑکی کی المناک، درد انگیز اور فکر و تحقیق سے بھرپور داستان ہے۔ اس کتاب کا تعارف دورۂ حدیث کے سال بخاری شریف کے سبق میں حضرت مفتی مفتی عباس بسم اللہ ڈابھیلی نے اپنے دلنشین انداز میں کروایا تھا، جبکہ ابو داؤد کے درس میں حضرت مفتی مفتی حفظ الرحمن سملکی دامت برکاتہم نے بھی اس کتاب کا تذکرہ فرمایا تھا۔ اسی وقت سے اس کتاب کے مطالعے کا شدید اشتیاق دل میں پیدا ہو گیا تھا، مگر موقع نہ مل سکا۔ دو دن قبل کاروانِ احمدان میں ایک درسی ساتھی نے یہ کتاب ارسال کی تو اسے پڑھنا شروع کیا، اور پھر اس کے اسلوب، واقعات اور تجسس نے ایسا اسیر کیا کہ کتاب سے مناسبت بڑھتی ہی چلی گئی۔ بعض لوگوں پر تل ابیب سے جادو ہوتا ہے، مجھ پر کتابوں کے اسلوب اور مطالعے کا جادو ہوتا ہے
یہ کتاب درحقیقت ایک ایسی داستان ہے جس میں حق کی تلاش، مذہبی تحقیق، فکری کشمکش اور قربانی کے مراحل نہایت مؤثر انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ مصنف نے ایک عیسائی خاندان کی تعلیم یافتہ اور باشعور لڑکی کے ذریعے عیسائیت کے عقائد، مذہبی رسوم اور کلیسائی نظام کا ایسا جائزہ پیش کیا ہے جو قاری کو ابتدا ہی سے اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔
اس کے مرکزی کردار ازبلا اور اس کی چند سہیلیاں ہیں جو متشدد مسیحی ماحول میں پروان چڑھی ہیں، جبکہ ان کے مقابل عمر لحمی اور معاذ ہیں جو قرطبہ کے رہنے والے مسلمان نوجوان ہیں۔ ازبلا ایک تعلیم یافتہ، سنجیدہ، باوقار اور حقیقت کی متلاشی عیسائی خاتون ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جو محض آبائی عقائد کو بلا تحقیق قبول کر لیتے ہیں، بلکہ ہر مذہبی مسئلے کو عقل و استدلال کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتی ہے۔ اس کا والد ایک بڑا پادری ہے جو اسے انجیل مقدس کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ ازبلا شادی نہ کرے بلکہ ننوں کے گروہ میں شامل ہو کر تجرد اور رہبانیت کی زندگی گزارے۔ اگرچہ حسن و جمال، ذہانت اور فطری کشش نے اسے گویا حورِ جنت بنا رکھا ہے اور بہت سے امراء اور مذہبی پیشوا اس سے نکاح کے خواہش مند ہیں، لیکن اس کا باپ اسے حضرت مریم کے نقشِ قدم پر چلانے کا عزم رکھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ وہ کسی کے عقد میں آئے۔
چونکہ ازبلا کو مذہبی تعلیم دی جاتی تھی، اس لیے اسے مذہبی مباحث سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ ایک دن باغ کے ایک گوشے میں، گلاب کے پھولوں کی کیاریوں کے درمیان چند مسلمان، جو بظاہر علماء معلوم ہوتے تھے، کسی مذہبی مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا:
"پولادس رسول نے لکھا ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے اور مسیح علیہ السلام آ کر ہمیں اس لعنت سے نجات دلانے والے ہیں، آخر اس کا مطلب کیا ہے؟"
دوسرے شخص نے قہقہہ لگا کر جواب دیا:
"آپ اس عبارت کا مطلب مجھ سے پوچھتے ہیں، حالانکہ خود عیسائی پادری بھی اس کی صحیح تشریح نہیں کر سکتے۔"
ازبلا جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ قریب ہی بیٹھی تھی، یہ جملہ سن کر چونک اٹھی اور اپنی ایک تعلیم یافتہ سہیلی سے بولی:
"دیکھو! یہ مسلمان ہمارے مذہب کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں، ذرا خاموشی سے ان کی باتیں سنو۔"
یہیں سے اس کے ذہن میں سوالات کا ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ وہ گھر جا کر اپنے والد سے مختلف اشکالات کا جواب طلب کرتی ہے، مگر نہ اس کا باپ اور نہ قرطبہ کے دوسرے راہب اس کے سوالات کا تسلی بخش جواب دے پاتے ہیں۔ نتیجتاً عمر لحمی اور عیسائی علماء کے درمیان مناظرے کی بنیاد پڑتی ہے۔ تین بڑی مجالس منعقد ہوتی ہیں جن میں عیسائیت کے عقائد، تثلیث، الوہیتِ مسیح، تحریفِ اناجیل اور دیگر متعدد مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوتی ہے۔ جو شخص عیسائی عقائد، ان کے دلائل اور ان کے جوابات جاننا چاہتا ہو، اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔
ان مناظروں کے بعد ازبلا پر حقیقت واضح ہونے لگتی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ جس مذہب کو وہ حق سمجھتی رہی، اس میں بے شمار فکری اور اعتقادی تضادات موجود ہیں۔ دوسری جانب اسلام کی سچائی اس کے دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔ وہ عمر لحمی کو خطوط لکھ کر اسلام کے بارے میں مزید جاننے کی درخواست کرتی ہے۔ بعد ازاں عمر لحمی اسے اپنے شیخ، شیخ زیاد بن عمر کے پاس لے جاتے ہیں، جہاں سوال و جواب کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ازبلا اپنے تمام شبہات پیش کرتی ہے اور اطمینان بخش جوابات حاصل کرتی ہے، یہاں تک کہ اس پر حق پوری طرح منکشف ہو جاتا ہے۔
کتاب کا ایک نہایت اہم اور چشم کشا پہلو یہ ہے کہ ازبلا صرف عیسائی عقائد ہی کا محاکمہ نہیں کرتی بلکہ کلیسا کے ان پوشیدہ اور اندرونی معاملات کا بھی پردہ چاک کرتی ہے جنہیں عام لوگوں سے ہمیشہ مخفی رکھا جاتا ہے۔ اعترافِ گناہ کی رسم، راہبوں اور راہبات کی زندگی، رہبانیت کے نام پر قائم مصنوعی تقدس اور مذہبی پیشواؤں کے کردار کا وہ قریب سے مشاہدہ کرتی ہے۔ عیسائی مذہب میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ ہر مسیحی مقررہ اوقات میں گرجا گھر جا کر بڑے پادری کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرے، اور پادری حضرت پطرس کا جانشین ہونے کی حیثیت سے اس کے گناہوں کی معافی کا اعلان کرے۔ ازبلا اس نظام کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہے۔
اسی طرح رہبانیت اور ترکِ دنیا کے اس نظام کو بھی موضوعِ بحث بناتی ہے جس میں راہب اور راہبات تجرد کی زندگی اختیار کرتے ہیں اور دنیاوی تعلقات سے کنارہ کشی کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ازبلا کے مشاہدات کے مطابق بہت سے مواقع پر یہی نظام عملی تضادات اور اخلاقی کمزوریوں کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ وہ بیان کرتی ہے کہ بعض مذہبی پیشوا ظاہری زہد و تقویٰ کے باوجود اپنے ہی مذہبی اصولوں کی پاسداری نہیں کر پاتے، اور اعترافِ گناہ جیسی رسوم بعض اوقات نفسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ راہب خانوں اور ننوں کی زندگی کے وہ گوشے بھی سامنے آتے ہیں جنہیں عوام کی نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل رکھا جاتا ہے۔ ازبلا ان تمام حقائق کو بڑی جرأت، بے باکی اور درد مندی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں قاری محسوس کرتا ہے کہ اس کی اسلام کی طرف پیش قدمی صرف عقائدی دلائل کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنے مذہبی ماحول کے عملی تضادات کا مشاہدہ بھی اس تبدیلی کا ایک بڑا سبب تھا۔
جب ازبلا کے سامنے حق پوری طرح واضح ہو جاتا ہے تو وہ اسلام قبول کر لیتی ہے۔ لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد اس پر آزمائشوں، مصائب اور اذیتوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جسے پڑھ کر دل لرز اٹھتا ہے۔ اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، اسے جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے گزارا جاتا ہے، اسے حق سے پھیرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، مگر وہ استقامت کا پیکر بنی رہتی ہے۔ اس کا ایمان ہر آزمائش کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ اس کے صبر، عزم اور ثباتِ قدم کو دیکھ کر قاری بے اختیار اس کے لیے دعا گو ہو جاتا ہے۔
کتاب کے آخری ابواب خصوصاً دل کو ہلا دینے والے ہیں۔ ازبلا نے حق کی خاطر اپنا آرام، اپنا مستقبل، اپنے خاندانی تعلقات اور اپنی دنیاوی آسائشیں قربان کر دیں، مگر اسلام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اسلام کی نشر و اشاعت، دعوتِ دین اور حق کی خدمت میں مصروف رہتی ہے اور یوں اس کی زندگی قربانی اور استقامت کی ایک روشن مثال بن جاتی ہے۔
کتاب کا اسلوب اس قدر دلکش اور واقعات اس قدر پراثر ہیں کہ بسا اوقات یہ کسی فلم یا ناول کی کہانی محسوس ہوتی ہے، مگر مصنف نے اسے اس انداز سے پیش کیا ہے کہ قاری ہر صفحے کے بعد بے چین ہو جاتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟ اگلا واقعہ کیا رخ اختیار کرے گا؟ یہی تجسس کتاب کو آخری صفحے تک ہاتھ سے نہیں چھوڑنے دیتا۔
مختصراً، ازبلا کتاب محض ایک داستان نہیں بلکہ حق کی تلاش، فکری جستجو، مذہبی تحقیق، قربانی، استقامت اور ایمان کی ایک مؤثر اور سبق آموز حکایت ہے۔ اس میں عقائدی مباحث بھی ہیں، علمی مناظرے بھی، مذہبی نظاموں کا تنقیدی جائزہ بھی، اور ایک ایسی خاتون کی دردناک مگر ایمان افروز داستان بھی جو سچائی کی خاطر ہر آزمائش برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔ مطالعے کا ذوق رکھنے والوں، بالخصوص مذاہب کے تقابلی مطالعے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب یقیناً قابلِ مطالعہ ہے۔ اسے ضرور پڑھنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقی داستان ہے جو قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنے حصار میں لیے رکھتی ہے اور حق کی تلاش کے سفر کو ایک ناقابلِ فراموش انداز میں پیش کرتی ہے۔