ایک شبہ کا ازالہ
بقلم: مزمل احمد محلی
١/ محرم الحرام ١٤٤٨ھ

   فکرِ دیوبند سے وابستہ احباب کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ گذشتہ چند دنوں سے "ابن حیدر صاحب" کی بعض تحریریں مختلف برقی مواقع میں گردش کررہی ہیں، مضمون نگار میرے ہم درس ہیں، صوبۂ "بہار" کے ضلع "چمپارن" سے ان کا تعلق ہے، پورا نام "مجاہد الاسلام ابنِ حیدر" ہے۔
   موصوف کے افکار و رجحانات سے بندہ کو کسی حد تک واقفیت ہے، ہفتم کے سال ایک علمی مسئلے میں ان سے بحث بھی ہوئی تھی، گو کہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی، موصوف کے سابق رفقائے درس سے یہ بات معلوم‌ ہوئی کہ "ابتدا ہی سے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی تصنیفات ان کے مطالعہ میں رہی ہیں، اب ان کے افکار سے خاصا متاثر بھی ہیں۔" 
  "والعهدة على الراوي" کے تحت اس بات کی صحت وسقم کی ذمہ داری متعلقہ ناقلین پر ہے، وائرل تحریروں کے مندرجات بھی اسی پس منظر کی عکاسی کررہے ہیں۔
   وضاحت کا مقصد صرف یہ ہے کہ مذکورہ تحریروں کو "برادرِ عزیز مفتی معاذ حیدر کلکتوی" کی جانب منسوب نہ کیا جائے، نام میں لفظِ‍‍‍ "حیدر" سے مماثلت کی وجہ سے بعض ساتھیوں کو اشتباہ ہوا ہے، حالاں کہ "مفتی صاحب اکابرِ دیوبند کے مزاج ومذاق کے مکمل پابند ہیں، تحریر وتقریر میں اپنے بزرگوں کے خوشہ چیں ہیں، نیز برقی مواقع میں آپ اپنی تحریریں ہمیشہ اپنے مکمل نام "معاذ حیدر" کے ساتھ مشترک کرتے ہیں۔"
  اس لیے مناسب یہی ہے کہ نسبت وانتساب کے باب میں ہم محتاط رہیں، ہر نگارش کو اس کے حقیقی نگار ہی کی طرف منسوب کریں۔