آج کل سوشل میڈیا کی رنگین بزموں سے لے کر زندگی کی نجی محفلوں تک، ہر سو محبت کا تذکرہ ہے۔ کوئی اس کے قصیدے پڑھ رہا ہے، کوئی اس کی حکایت سنا رہا ہے، اور کوئی اس کی نسبت سے اپنے جذبات کی داستان رقم کر رہا ہے۔
مدّت سے میرے ذہن کے افق پر بھی یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ آخر محبت کیا شے ہے؟ وہ کون سا جذبۂ دل ہے جس کے لیے لوگ اپنی آسائشیں ترک کر دیتے ہیں، اپنی خواہشات قربان کر دیتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اپنی جان تک نثار کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔آئیے جانتے ہیں کہ آخر محبت کیا ہے ؟
محبت ایک ایسا لفظ ہے جس کی حقیقت کو دنیا کی کوئی زبان پوری طرح بیان نہیں کر سکتی، خواہ ساری زبانیں ایک جگہ جمع ہو جائیں!
پھر مجھ جیسا شخص اسے کیسے بیان کر سکتا ہے، جبکہ اس کی علمی دسترس بھی محدود ہے؟ حالانکہ یہی محبت ایسی حقیقت ہے جس کے بیان سے امیر الشعراء بھی عاجز آ گئے اور آخرکار اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگے:
يَقولُ أُناسُ لَو وَصَفتَ لَنا الهَوى
لَعَلَّ الَّذي لا يَعرِفُ الحُبَّ يَعرِفُ
فَقُلتُ لَقَد ذُقتُ الهَوى ثُمَّ ذُقتُهُ
فَوَاللَهِ ما أَدري الهَوى كَيفَ يوصَفُ
"لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ ہمیں محبت کی کیفیت بیان کرو، شاید جو محبت سے ناواقف ہے وہ بھی اسے سمجھ لے۔ میں نے جواب دیا: میں نے محبت کا ذائقہ بھی چکھا ہے اور اسے خوب محسوس بھی کیا ہے، مگر خدا کی قسم! آج تک نہیں جان سکا کہ محبت کو الفاظ میں کیسے بیان کیا جائے!"
میں بھی نہیں جانتا کہ محبت کی مکمل تعریف کیا ہے، البتہ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ محبت ایک نہایت لطیف اور پاکیزہ انسانی جذبہ ہے، جس میں احساسات کا ایسا سیلاب موجزن ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس کے تاروں کو چھیڑ دے تو انسان یوں تڑپ اٹھتا ہے جیسے بے خبری میں کسی برقی تار کو چھو بیٹھا ہو۔
محبت ایسی پوشیدہ حقیقت ہے جو نظر نہیں آتی، مگر اس کے آثار ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ پتھر میں چھپی آگ کی مانند ہے؛ اگر اسے چنگاری مل جائے تو بھڑک اٹھتی ہے، اور اگر یونہی رہنے دیا جائے تو خاموشی سے اپنے اندر پوشیدہ رہتی ہے۔
میں یہ بھی جانتا ہوں کہ پوری کائنات کی بنیاد محبت پر قائم ہے۔ جیسا کہ علامہ علی الطنطاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لولا الحُبّ ما أرسلت الشمسُ أشعتها الذهبية إلى الأرض !
ولولا الحبّ ما انحنى الجبل على الجبل عند مفترق الوادي !
ولولا الحبّ ما جرى الماء الرقراقُ في السواقي !
ولولا الحبّ ما ضمّت الأمّ وليدها، ولا كانت حياة هانئة، ولا جلسة هادئة

اگر محبت نہ ہوتی تو سورج اپنی سنہری کرنیں زمین پر نہ بکھیرتا۔
اگر محبت نہ ہوتی تو وادی کے موڑ پر ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کے سامنے جھکنے کا منظر پیش نہ کرتا۔
اگر محبت نہ ہوتی تو نہریں اور چشمے اپنے شفاف پانی کے ساتھ رواں دواں نہ ہوتے۔
اگر محبت نہ ہوتی تو ماں اپنے نومولود کو سینے سے نہ لگاتی، نہ زندگی میں سکون ہوتا اور نہ محفلوں میں اُنس و راحت۔
میں یہ بھی جانتا ہوں کہ محبت کا اظہار ہونا چاہیے؛ کیونکہ محبت بند شیشی میں بند خوشبو کی مانند ہے۔ اگر اس کا ڈھکن کھول دیا جائے تو اس کی مہک چار سو پھیل جاتی ہے، اور اگر اسے بند رکھا جائے تو کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے اندر کیا خزانہ پوشیدہ ہے۔
میں یہ بھی جانتا ہوں کہ محبت کو دل میں ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے شیریں الفاظ بن کر زبان پر جاری ہونا چاہیے، ایسے الفاظ جو نرم و گرم احساسات کے ساتھ دل سے نکلیں اور نسیمِ سحر کی طرح پھولوں کی پتیوں کو چھو کر گزر جائیں۔
اسی لیے مناسب ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔ شوہر اپنی بیوی سے میٹھی زبان میں کہے: "میں تم سے محبت کرتا ہوں" اور بیوی جواب میں کہے: "I love you"۔ پھر شوہر ترکی زبان میں جواب دے: "Seni seviyorum" اور بیوی فرانسیسی میں کہے: "Je t'aime"۔
اسی طرح ایک دوست کو بھی اپنے دوست سے کہنا چاہیے کہ وہ اسے اللہ کے لیے محبوب رکھتا ہے، نہ کسی دنیاوی فائدے کے لیے، نہ کسی کاروباری غرض سے اور نہ کسی متوقع سفارش کی خاطر۔
اور ایک طالبِ علم کو بھی اپنے استاد اور شیخ سے اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہیے؛ علم کی تعظیم اور اہلِ علم کی قدر و منزلت کے اعتراف کے طور پر۔
محبت کا اظہار درحقیقت ہمارے محبوب ترین رہنما، حضرت محمد ﷺ کی سنت اور تعلیم ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
"یا رسول اللہ! میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"کیا تم نے اسے اس بات کی خبر دی ہے؟"
اس نے عرض کیا: "نہیں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"جاؤ اور اسے بتا دو کہ تم اس سے محبت کرتے ہو۔"
لہٰذا آج ہی سے اس عظیم نبوی ہدایت پر عمل شروع کرنا چاہیے۔ ہر محبت کرنے والا شوہر اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرے، ہر دوست اپنے دوست کو اپنے خلوص سے آگاہ کرے، ہر شاگرد اپنے استاد کے سامنے اپنی عقیدت کا اظہار کرے، اور ہر وہ شخص جس کا کسی کے ساتھ جائز اور پاکیزہ محبت کا رشتہ ہے، وہ اپنے محبوب کو اپنے دل کی بات بتائے۔
اسی طرح جو اپنے وطن اور اپنی امت سے محبت رکھتا ہے، اسے بھی اپنی محبت کا عملی اظہار کرنا چاہیے، جبکہ افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس پہلو میں کوتاہی کا شکار ہیں۔
میرے عزیز دوستو!
اور اب میں بھی اس نبوی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے آپ سب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں آپ سب سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں، ایک ایک فرد سے۔

آپ کا محبت کا اظہار کرنے والا،
آپ سے محبت رکھنے والا۔


۔۔۔ محمد مصعب پالنپوری ✍️