ماہ محرم الحرام اور عاشوراء
19 جون، 2026
اسلام ایک ایسا جامع اور کامل دین ہے جس میں زمان و مکان کی بعض نسبتوں کو خصوصی فضیلت اور شرف عطا کیا گیا ہے۔ تمام ایام یکساں نہیں، تمام راتیں ایک درجے کی نہیں، تمام مقامات ایک مرتبے کے حامل نہیں اور تمام مہینے ایک ہی شان نہیں رکھتے۔ چنانچہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام مقامات میں مکہ مکرمہ کو منتخب فرمایا، تمام مساجد میں مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کو عظمت بخشی، تمام راتوں میں شبِ قدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا، اسی طرح بعض مہینوں کو بھی خاص فضیلت اور حرمت عطا فرمائی۔ انہی مہینوں میں ایک عظیم، مبارک، محترم اور جلیل القدر مہینہ **"محرم الحرام"** ہے، جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ، اشہرِ حرم میں شامل، عبادت و تقویٰ کا موسم، انبیائے کرام علیہم السلام کی یادوں کا امین اور شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ جیسے عظیم واقعہ کا گواہ ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ۔ ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، لہٰذا ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: إن الله عظم حرمة الأشهر الحرم وجعل الذنب فيها أعظم والعمل الصالح أعظم أجراً.
یعنی اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں کی عظمت کو بڑھایا ہے، ان میں گناہ زیادہ سنگین اور نیکی زیادہ اجر والی ہے۔
امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: خص الله هذه الأشهر بمزيد فضل وحرمة. اللہ تعالیٰ نے ان مہینوں کو اضافی فضیلت اور حرمت سے ممتاز فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ: ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ۔ ترجمہ: سال بارہ مہینوں کا ہے، ان میں چار حرمت والے ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ تمام مہینوں میں محرم کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے شہر اللہ یعنی اللہ کا مہینہ فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ۔ ترجمہ: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وفيه تصريح بأن المحرم أفضل الشهور للصوم بعد رمضان. اس حدیث میں واضح تصریح ہے کہ رمضان کے بعد روزوں کے اعتبار سے سب سے افضل مہینہ محرم ہے۔
علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إضافة المحرم إلى الله تدل على شرفه وفضله. محرم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا اس کی عظمت اور شرف کی دلیل ہے۔
اسلامی سال کا آغاز محرم سے کیوں؟
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی تقویم مرتب کی گئی تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے مختلف آراء پر غور کرنے کے بعد محرم کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قرار دیا۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إن ابتداء السنة بالمحرم لأن العزم على الهجرة كان فيه. یعنی ہجرتِ نبوی کا پختہ عزم محرم ہی میں ہوا تھا، اس لیے اسے سال کا آغاز بنایا گیا۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان اپنے سال کا آغاز توبہ، عبادت، اطاعت، تقویٰ اور اللہ کی طرف رجوع سے کرے۔
محرم الحرام کا سب سے مبارک دن دسویں محرم یعنی یومِ عاشوراء ہے۔ لفظ "عاشوراء" عربی لفظ "عاشر" سے نکلا ہے جس کے معنی 'دسواں' کے ہیں۔ یہ دن انبیائے کرام علیہم السلام کی تاریخ میں ایک عظیم مقام رکھتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ، فَرَأَى الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى، فَقَالَ: فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ۔ ترجمہ: نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشوراء کا روزہ رکھتے دیکھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک عظیم دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہمارا تعلق تم سے زیادہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی حکم دیا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ۔ ترجمہ: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: المراد تكفير الصغائر دون الكبائر. یعنی اس سے مراد صغیرہ گناہوں کی معافی ہے، کبیرہ گناہوں کے لیے الگ توبہ ضروری ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو مستقل تشخص عطا کرتا ہے۔اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ۔ ترجمہ: اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔
اسی بنا پر فقہاء نے لکھا: 9 اور 10 محرم کا روزہ سنت ہے۔ 9، 10 اور 11 محرم تینوں دن روزہ رکھنا افضل ہے۔ صرف 10 محرم کا روزہ جائز لیکن خلافِ اولیٰ ہے۔
بعض آثار میں حضرت آدمؑ کی توبہ، حضرت نوحؑ کی کشتی کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا، حضرت ابراہیمؑ کی نجات، حضرت یوسفؑ کی رہائی، حضرت ایوبؑ کی شفا وغیرہ کا ذکر ملتا ہے، لیکن محدثین نے واضح کیا ہے کہ ان روایات کی اسناد یکساں مضبوط نہیں ہیں۔ ان میں بعض ضعیف بھی ہیں، لہٰذا قطعی طور پر صرف انہی واقعات کو بیان کیا جائے گا جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں، خصوصاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات کا واقعہ۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر محرم الحرام اسلامی سال کے ماتھے کا جھومر ہے تو یومِ عاشوراء اس جھومر کا سب سے درخشاں نگینہ ہے۔ یہ دن انبیائے کرام علیہم السلام کی تاریخ کے اہم واقعات، اللہ تعالیٰ کی نصرت، اہلِ ایمان کی کامیابی اور باطل کی شکست کی یاد دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کو غیر معمولی اہمیت عطا فرمائی اور اپنی امت کو اس کی فضیلت سے مستفید ہونے کی ترغیب دی۔
عاشوراء عربی زبان میں عاشر سے ماخوذ ہے جس کے معنی دس کے ہیں، اس لیے عاشوراء سے مراد محرم الحرام کی دسویں تاریخ ہے۔ عربوں کے ہاں اسلام سے پہلے بھی اس دن کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصُومُهُ۔ ترجمہ: قریش زمانۂ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کا روزہ رکھتے تھے۔ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کا اس دن روزہ رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعض تعلیمات ان میں باقی تھیں، جن میں یومِ عاشوراء کی تعظیم بھی شامل تھی۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہود بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کی وجہ دریافت فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهُ مُوسَى، فَقَالَ ﷺ: فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ۔ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک عظیم دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی، اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام سے تمہاری نسبت میری زیادہ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عاشوراء صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت، شکر اور عبادت کا دن ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے جابر حکمران پر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فتح کے شکرانے کے طور پر روزہ رکھا اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی سنت کو زندہ فرمایا۔
ابتدائی دورِ اسلام میں عاشوراء کے روزے کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشوراء کا روزہ واجب یا واجب کے قریب درجہ رکھتا تھا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ أَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنَّ مَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ۔ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کرے: جس نے کچھ کھا لیا ہو وہ باقی دن روزے کی حالت میں گزارے اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے، کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے۔
بعد ازاں جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ اس کی فضیلت اور استحباب باقی رہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ۔ ترجمہ: جب رمضان فرض ہوگیا تو عاشوراء کے روزے میں اختیار دے دیا گیا، جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے ترک کردے۔
یومِ عاشوراء کی سب سے بڑی فضیلت اس کے روزے سے متعلق وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ۔ ترجمہ: مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔ يُكَفِّرُ الصَّغَائِرَ كُلَّهَا۔ یعنی یہ روزہ صغیرہ گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے، جبکہ کبیرہ گناہوں کے لیے سچی توبہ ضروری ہے۔
عاشوراء کے روزے میں یہود کی مشابہت ختم کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور ہدایت عطا فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ۔ ترجمہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کا روزہ بھی رکھوں گا۔
امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ اور جمہور فقہاء نے اسی حدیث کی بنا پر نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھنا مستحب قرار دیا ہے۔ بعض علماء نے مزید احتیاط اور فضیلت کے لیے نو، دس اور گیارہ تینوں دن روزہ رکھنے کو افضل کہا ہے۔
عاشوراء کے دن سے متعلق عوام میں بہت سی ایسی روایات مشہور ہیں جن میں حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ سے نجات پانا، حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے نکلنا اور دیگر واقعات مذکور ہیں۔ اگرچہ بعض تاریخی آثار میں ان کا ذکر ملتا ہے، لیکن محدثین نے وضاحت فرمائی ہے کہ ان میں سے اکثر روایات سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات اور فرعون کی ہلاکت کا واقعہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اسی پر اعتماد کیا جائے گا۔
یومِ عاشوراء صرف روزے کا دن نہیں بلکہ شکر، ذکر، توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا دن بھی ہے۔ سلف صالحین اس دن عبادت، دعا اور ذکرِ الٰہی میں خصوصی انہماک اختیار کرتے تھے۔ حضرت طاؤس، حضرت مجاہد، حضرت سعید بن جبیر اور دیگر تابعین سے اس دن کی تعظیم اور عبادت کا اہتمام منقول ہے۔
عاشوراء کا اصل پیغام یہ ہے کہ حق اگرچہ کمزور نظر آئے لیکن اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ فرعون کے پاس سلطنت، فوج اور اقتدار تھا جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ایمان، توکل اور اللہ تعالیٰ کی مدد تھی۔ انجام کار فرعون غرق ہوگیا اور موسیٰ علیہ السلام سرخرو ہوئے۔ یہی سنتِ الٰہیہ ہر دور میں جاری رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ حق والوں کو آزماتا ضرور ہے لیکن آخرکار کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے۔
اسی حقیقت کو سمجھنا یومِ عاشوراء کا سب سے بڑا درس ہے، کیونکہ اگلے باب میں ہم دیکھیں گے کہ اسی دسویں محرم کو تاریخِ اسلام کا ایک اور عظیم واقعہ یعنی شہادتِ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ پیش آیا، جس نے عاشوراء کے پیغام کو مزید گہرائی اور وسعت عطا کردی۔ وہاں حق و باطل کی ایک اور کشمکش تھی، وہاں بھی تعداد اور طاقت ایک طرف تھی اور صداقت و استقامت دوسری طرف۔ یہی وجہ ہے کہ واقعۂ کربلا کو سمجھے بغیر عاشوراء کی تاریخی اور فکری اہمیت مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی۔
یہ حقیقت واضح ہوئی کہ عاشوراء دراصل حق کی سربلندی، باطل کی شکست، صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کا دن ہے۔ تاریخِ انبیاء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ اس حقیقت کا روشن نمونہ ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت دیکھیے کہ اسی عاشوراء کے دن اسلامی تاریخ کا ایک ایسا عظیم اور دردناک سانحہ بھی پیش آیا جس نے قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے حق و باطل کی کشمکش، صبر و استقامت، ایثار و قربانی اور دین کی خاطر جان نچھاور کرنے کا ایک بے مثال نمونہ چھوڑ دیا۔ یہ سانحہ شہادتِ نواسۂ رسول، سید شبابِ اہل الجنۃ، حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سانحہ ہے۔
واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کے ان عظیم واقعات میں سے ہے جنہوں نے امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور، فکری تاریخ اور روحانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ صرف ایک جنگ یا سیاسی اختلاف کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس میں اہلِ بیتِ نبوت نے دین کی سربلندی اور اصولی موقف کی حفاظت کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مکتبِ فکر کے منصف علماء نے اسے امتِ مسلمہ کی عظیم ترین مصیبتوں میں شمار کیا ہے۔ اس واقعہ کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کو سمجھا جائے، کیونکہ کسی شخصیت کے کردار اور اس کے فیصلوں کو جاننے کے لیے اس کی علمی، دینی اور روحانی حیثیت کا ادراک ناگزیر ہے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فرزند اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر تھے۔ آپ کی ولادت شعبان 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود آپ کا نام "حسین" رکھا، آپ کے لیے دعا فرمائی اور اپنی خصوصی محبت کا اظہار فرمایا۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَأْخُذُنِي وَالْحَسَنَ فَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا۔ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ بٹھاتے اور فرماتے: اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔
حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا۔ ترجمہ: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے۔
ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
یہ وہ عظیم شخصیت تھی جس کی گود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود تھی، جس کی تربیت نبوت کے سائے میں ہوئی، جس کے کانوں نے براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سنیں اور جس کا گھرانہ قرآن و سنت کا عملی نمونہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نواسے کی شہادت کی خبر بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سرزمین کی مٹی دکھائی جہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوں گے۔ روایت میں ہے۔ إِنَّ ابْنَكِ هَذَا يُقْتَلُ بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ۔ نآپ کا یہ فرزند ایک ایسی زمین میں شہید کیا جائے گا جسے کربلا کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس روایت کے طرق مختلف درجات کے ہیں، لیکن مجموعی طور پر محدثین نے اس مفہوم کو قابلِ قبول قرار دیا ہے۔
40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے اتحاد کی خاطر خلافت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کردی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں امتِ مسلمہ ایک بڑے فتنے سے محفوظ ہوگئی۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں عمومی طور پر سیاسی استحکام قائم رہا۔ 60 ہجری میں ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے یزید حکمران بنے۔ اسی مرحلے پر بعض جلیل القدر صحابہ کرام اور اہلِ بیت کے افراد نے مختلف وجوہات کی بنا پر یزید کی بیعت سے توقف اختیار کیا، جن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور بعض دیگر شخصیات شامل تھیں۔ کوفہ کے باشندوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بے شمار خطوط لکھے۔ بعض مؤرخین کے مطابق خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی۔ ان خطوط میں اہلِ کوفہ نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو یقین دلایا کہ وہ آپ کی حمایت کریں گے اور آپ کی بیعت کریں گے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حالات کی تحقیق کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں ہزاروں افراد نے حضرت مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی، لیکن جب کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد کو گورنر مقرر کیا گیا تو حالات یکسر تبدیل ہوگئے۔ خوف، دباؤ اور حکومتی سختی کے باعث بیشتر لوگ پیچھے ہٹ گئے اور حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ بالآخر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا۔
اس دوران حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے عراق کی جانب روانہ ہوچکے تھے۔ راستے میں کئی صحابہ اور اہلِ دانش نے آپ کو حالات کی نزاکت سے آگاہ کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر اور دیگر اکابر نے آپ کو کوفہ والوں کی بے وفائی سے خبردار کیا۔ لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے کئی پہلو تھے۔ ایک طرف کوفہ والوں کے مسلسل خطوط تھے، دوسری طرف امت کی اصلاح کا جذبہ تھا، اور تیسری طرف یہ احساس تھا کہ ایک اصولی موقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
راستے میں جب حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو حالات مزید سنگین ہوگئے، لیکن قافلہ آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ 2 محرم 61 ہجری کو سرزمینِ کربلا پہنچ گیا۔
کربلا عراق کے موجودہ شہر کوفہ کے قریب ایک میدان کا نام تھا۔ یہاں امام حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کو روک لیا گیا۔ آپ کے ساتھ اہلِ بیت کے افراد، خواتین، بچے اور چند وفادار ساتھی موجود تھے۔
بتدریج یزیدی لشکر کی تعداد بڑھتی گئی جبکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے رفقاء کی تعداد انتہائی محدود تھی۔
سب سے دردناک مرحلہ وہ تھا جب دریائے فرات سے پانی لینے پر پابندی لگادی گئی۔ اہلِ بیتِ نبوت کے بچے، خواتین اور بزرگ پیاس کی شدت برداشت کرتے رہے۔ اس موقع پر بھی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے جنگ سے بچنے اور مسئلے کے پرامن حل کی کوشش کی۔ متعدد تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مختلف تجاویز پیش کیں، لیکن حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ تصادم تقریباً ناگزیر ہوگیا۔ 10 محرم 61 ہجری بروز جمعہ یا ہفتہ (روایات میں اختلاف ہے) وہ دن طلوع ہوا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
نمازِ فجر کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو صبر، استقامت اور رضائے الٰہی کی تلقین فرمائی۔
پھر ایک ایک کرکے آپ کے رفقاء، اہلِ خاندان اور جانثار میدان میں اترے اور شہادت کا جام نوش کرتے گئے۔
حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ، حضرت قاسم بن حسن رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر اہلِ بیت نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ بالآخر وہ لمحہ آیا جب نواسۂ رسول، فرزندِ فاطمہ اور جگر گوشۂ علی رضی اللہ عنہم خود میدان میں اترے اور جامِ شہادت نوش فرمایا۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ اس طرح تاریخِ اسلام کا ایک عظیم باب خون سے رقم ہوا۔
اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ نہایت واضح اور متوازن ہے:
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مظلوم اور شہید ہیں۔ ان کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اہلِ بیتِ اطہار کی تعظیم واجب ہے۔ ان کے قاتلوں اور ظلم پر راضی رہنے والوں کا عمل سخت قابلِ مذمت ہے۔واقعۂ کربلا امت کی عظیم مصیبتوں میں سے ایک ہے۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔ قُتِلَ الْحُسَيْنُ مَظْلُومًا شَهِيدًا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ مظلومانہ طور پر شہید کیے گئے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وَكَانَ الْحُسَيْنُ سَيِّدًا شَرِيفًا عَظِيمًا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ عظیم، جلیل القدر اور بلند مرتبہ شخصیت تھے۔
تاہم اہلِ سنت کا منہج یہ بھی ہے کہ واقعۂ کربلا کے تذکرے میں عدل، دیانت اور اعتدال کو ملحوظ رکھا جائے، نہ غلو کیا جائے اور نہ حقائق کو مسخ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سانحہ پر غم اور رنج کا اظہار تو کیا جاتا ہے، لیکن نوحہ، سینہ کوبی، خود کو زخمی کرنا اور شریعت کے خلاف رسومات اختیار نہیں کی جاتیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ ترجمہ: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے اور گریبان پھاڑے۔
یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کربلا محض ایک تاریخی حادثہ نہیں بلکہ حق و باطل کی کشمکش، صبر و استقامت، وفا و قربانی اور دین کی سربلندی کے لیے جان نچھاور کرنے کی ایک ابدی داستان ہے۔ لیکن واقعۂ کربلا کی صحیح تفہیم اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبہ، ان سے محبت کی شرعی حیثیت اور امت پر ان کے حقوق کو نہ سمجھا جائے، کیونکہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ صرف ایک عظیم شہید ہی نہیں بلکہ اہلِ بیتِ نبوت کے ایک درخشاں فرد بھی ہیں، اور ان کی محبت دراصل محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے۔
قرآن مجید نے اہلِ بیتِ اطہار کے مقام کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور فرمادے اور تمہیں خوب پاک و صاف بنادے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اہلِ بیت کا شرف و مقام قرآنِ کریم سے ثابت ہے اور ان سے محبت اہلِ ایمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى۔ ترجمہ: آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اپنی دعوت پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے قرابت داروں کی محبت کے۔
اگرچہ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کیے ہیں، لیکن اہلِ بیتِ نبوت کی محبت کا استدلال اس آیت سے بھی کیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بار بار اہلِ بیت کے حقوق یاد دلائے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي۔ ترجمہ: میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں۔
یہ تکرار اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ بیت کے حقوق کی حفاظت امت کی ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل بھی اس سلسلے میں ہمارے لیے نمونہ ہے۔ صحیح بخاری میں ان کا یہ ارشاد منقول ہے ارْقُبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ۔ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت کے بارے میں آپ کا حق ملحوظ رکھو۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اہلِ بیت کا بے حد احترام کرتے تھے۔ یہی اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اہلِ بیت سے محبت اور تمام صحابۂ کرام سے محبت دونوں ایمان کا حصہ ہیں، اور ان دونوں میں کسی قسم کا تعارض نہیں۔ اہلِ سنت کا منہج ہمیشہ اعتدال کا رہا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے اہلِ بیت کے حقوق میں کوتاہی کی، اور دوسری طرف وہ گروہ ہیں جنہوں نے غلو کرتے ہوئے بعض اہلِ بیت کو ایسے مقامات پر فائز کردیا جو صرف انبیاء علیہم السلام یا اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ اہلِ سنت نہ جفا کرتے ہیں اور نہ غلو، بلکہ وہ محبت، احترام اور اعتدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ امام طحاوی رحمہ اللہ عقیدۂ اہلِ سنت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں وَنُحِبُّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَلَا نُفْرِطُ فِي حُبِّ أَحَدٍ مِنْهُمْ۔ یعنی ہم تمام صحابۂ کرام سے محبت کرتے ہیں اور کسی کی محبت میں حد سے تجاوز نہیں کرتے۔
واقعۂ کربلا کے بعد امت میں دو انتہائیں پیدا ہوگئیں۔ ایک گروہ نے اہلِ بیت کے مقام کو گھٹانے کی کوشش کی اور دوسرا گروہ غلو میں مبتلا ہوگیا۔ اہلِ سنت والجماعت نے ان دونوں راستوں کو چھوڑ کر قرآن و سنت اور سلف صالحین کے منہج کو اختیار کیا۔
کربلا کا سب سے پہلا سبق استقامت علی الحق ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ ثابت کردیا کہ حق پر قائم رہنے والا شخص اگرچہ تنہا رہ جائے، اس کے ساتھی کم ہوں اور ظاہری اسباب اس کے خلاف ہوں، تب بھی اسے حق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ترجمہ: آپ اسی طرح ثابت قدم رہیے جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی اس آیت کی عملی تفسیر تھی۔
کربلا کا دوسرا سبق صبر و رضا ہے۔ پیاس، بھوک، تنہائی، اہلِ خانہ کی شہادت اور مصیبتوں کے پہاڑ کے باوجود امام حسین رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صبر کیا۔ قرآن کریم فرماتا ہے إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ۔ ترجمہ: صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔
تیسرا سبق قربانی ہے۔ کربلا نے سکھایا کہ دین صرف دعووں سے زندہ نہیں رہتا بلکہ قربانیوں سے زندہ رہتا ہے۔ جس دین کے لیے صحابۂ کرام نے قربانیاں دیں، اسی دین کے لیے اہلِ بیت نے بھی اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔
چوتھا سبق اخلاص ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کا مقصد دنیاوی اقتدار نہیں تھا بلکہ امت کی اصلاح اور دین کی حفاظت تھی۔ مشہور روایت میں آپ کا یہ قول منقول ہے۔ إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي۔ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔اگرچہ اس روایت کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن اس کا مفہوم امام حسین رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی سے واضح ہوتا ہے۔
جب ہم واقعۂ کربلا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک اور اہم مسئلہ سامنے آتا ہے، اور وہ یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس عظیم واقعہ کے نام پر بہت سی ایسی رسومات ایجاد ہوگئیں جن کی بنیاد قرآن و سنت میں موجود نہیں۔
بعض لوگ محبتِ اہلِ بیت کے نام پر سینہ کوبی، زنجیر زنی، خود کو زخمی کرنا اور خون بہانا ثواب سمجھتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ۔ ترجمہ: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار لگائے۔ لہٰذا ماتم اور خود آزاری شریعت کی روشنی میں جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ گری سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ۔ ترجمہ: اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کیے بغیر مرجائے تو قیامت کے دن اسے گندھک کا لباس پہنایا جائے گا۔
تعزیہ داری نہ عہدِ نبوی میں تھی، نہ عہدِ صحابہ میں، نہ تابعین کے زمانے میں اور نہ ائمۂ اربعہ کے ادوار میں۔ اس لیے اسے دینی شعار سمجھنا درست نہیں۔ یہ بھی ایک عام غلط فہمی ہے کہ محرم میں شادی بیاہ یا کاروبار کا آغاز نہیں کرنا چاہیے۔ حالانکہ محرم اشہرِ حرم میں سے ایک بابرکت مہینہ ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی اسے منحوس قرار نہیں دیا۔ بعض علاقوں میں حلیم، کھچڑا، نیاز یا دیگر کھانوں کو دینی حیثیت دے دی جاتی ہے، حالانکہ شریعت نے ان میں سے کسی چیز کو لازم قرار نہیں دیا۔
محبتِ حسین صرف آنسو بہانے کا نام نہیں، بلکہ ان کے راستے پر چلنے کا نام ہے۔
اگر کوئی شخص امام حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر تو کرے مگر نماز سے غافل ہو، قرآن سے دور ہو، سنت کا تارک ہو، اخلاق سے خالی ہو اور دین کے احکام کو پامال کرے تو اس کی محبت محض دعویٰ ہوگی۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ قرآن سے وابستگی پیدا کی جائے۔ سنتِ نبوی کو اپنایا جائے۔ظلم سے نفرت کی جائے۔عدل و انصاف کو فروغ دیا جائے۔ اہلِ بیتؓ اور صحابۂ کرامؓ سب سے محبت کی جائے۔ امت کے اتحاد کی کوشش کی جائے۔ یوں واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے جو ہر دور کے مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ حق پر قائم رہیں، دین کے لیے قربانی دیں اور ہر قسم کی افراط و تفریط سے بچتے ہوئے قرآن و سنت کے راستے کو مضبوطی سے تھام لیں۔
واقعۂ کربلا کے بعد سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ امت نے اس واقعہ کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کیا؟ کیونکہ دین کی صحیح تعبیر انہی مقدس ہستیوں کے فہم سے سمجھی جاسکتی ہے جنہوں نے قرآن و سنت کو براہِ راست یا بالواسطہ اپنے اسلاف سے حاصل کیا۔
مطالعۂ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف صالحین حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے، ان کی شہادت کو عظیم سانحہ سمجھتے تھے، ان کے لیے دعائے مغفرت و رحمت کرتے تھے، لیکن انہوں نے اس واقعہ کو ماتم، نوحہ، تعزیہ، سینہ کوبی اور خود ساختہ رسومات کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کے نزدیک عاشوراء عبادت، روزہ، ذکر، توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا دن تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما عاشوراء کے روزے کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس دن کی سنتوں کی پابندی کرتے تھے۔ امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ، امام حسن بصری رحمہ اللہ، امام مجاہد رحمہ اللہ، امام عطاء رحمہ اللہ اور دیگر اکابر تابعین بھی عاشوراء کے روزے اور عبادت کو بڑی فضیلت کا عمل قرار دیتے تھے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صُومُوا عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا الْيَهُودَ۔ ترجمہ: عاشوراء کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ یہی طرزِ عمل بعد کے ائمۂ مجتہدین کا بھی رہا۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ نے عاشوراء کے روزے کو سنت اور مستحب قرار دیا۔ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وَيُسْتَحَبُّ صَوْمُ التَّاسِعِ وَالْعَاشِرِ۔ ترجمہ: نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أَكْمَلُ الْمَرَاتِبِ أَنْ يَصُومَ التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَالْحَادِيَ عَشَرَ۔ ترجمہ: "سب سے افضل صورت یہ ہے کہ نو، دس اور گیارہ تینوں دن روزہ رکھا جائے۔ یہی وہ منہج ہے جو ہمیں سلف صالحین سے ورثے میں ملا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ عوام میں بعض ایسی باتیں مشہور ہوگئیں جن کی کوئی اصل قرآن و سنت میں موجود نہیں۔
پہلی غلط فہمی: محرم صرف غم کا مہینہ ہے۔ یہ تصور درست نہیں۔ محرم الحرام ایک بابرکت اور حرمت والا مہینہ ہے۔ اس میں روزہ، عبادت، ذکر، تلاوت اور نیک اعمال کی ترغیب دی گئی ہے۔ اگرچہ اس مہینے میں شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کا عظیم سانحہ پیش آیا، لیکن پورے مہینے کو صرف سوگ اور ماتم کا مہینہ بنا دینا سلف صالحین کے طرزِ عمل کے خلاف ہے۔
دوسری غلط فہمی: محرم میں شادی بیاہ جائز نہیں ، قرآن و سنت میں ایسی کوئی ممانعت موجود نہیں ، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم میں نکاح سے منع فرمایا، نہ صحابۂ کرام نے اور نہ فقہائے امت نے۔ لہٰذا محرم میں نکاح کو منحوس سمجھنا بے بنیاد عقیدہ ہے۔
تیسری غلط فہمی: محرم نحوست کا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تو اسے اشہرِ حرم میں شامل فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ، ترجمہ: ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں۔ جو مہینہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حرمت والا ہو، اسے منحوس کہنا شرعی اعتبار سے درست نہیں۔
چوتھی غلط فہمی: صرف جلوس اور ماتم محبتِ حسینؓ کی علامت ہیں، اگر محبت کا معیار صرف ماتم ہوتا تو صحابۂ کرام سب سے پہلے یہ عمل کرتے، حالانکہ تاریخ اس کی کوئی مثال پیش نہیں کرتی۔ حقیقی محبت اطاعت، اتباع اور عملی پیروی کا نام ہے۔ آج امتِ مسلمہ سیاسی انتشار، فکری اختلافات، اخلاقی زوال، معاشی بحران، تعلیمی پسماندگی اور دینی کمزوری جیسے بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی حفاظت صرف تقریروں سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔ کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حالات کا غلام نہ بنے بلکہ اصولوں کا محافظ بنے۔ کربلا یہ سبق دیتی ہے کہ وقتی مصلحتوں کے لیے حق کا سودا نہیں کیا جاسکتا۔ کربلا یہ درس دیتی ہے کہ ایک مومن کی اصل قوت اس کا تعلق باللہ، یقین اور استقامت ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک طاقتور حکومت تھی، محدود وسائل تھے، ظاہری اسباب موافق نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل اور حق پر استقامت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی حسین رضی اللہ عنہ کا نام عزت، عظمت اور قربانی کی علامت ہے، جبکہ ظلم و جبر کا نام نفرت اور مذمت کی علامت بن چکا ہے۔
اگر امتِ مسلمہ محرم کے حقیقی پیغام کو سمجھ لے تو اس کی اصلاح کے بہت سے دروازے کھل سکتے ہیں۔ محرم ہمیں سکھاتا ہے: گناہوں سے توبہ کرو۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرو۔ روزوں کا اہتمام کرو۔ اہلِ بیت سے محبت کرو۔صحابۂ کرام سے محبت کرو۔امت کے اتحاد کو فروغ دو۔فرقہ واریت سے بچو۔ظلم کے خلاف آواز بلند کرو۔عدل و انصاف کو عام کرو۔ سنتِ نبوی کو اپنی زندگی کا محور بناؤ۔
ماہِ محرم میں ہر مسلمان کو چاہیے کہ: روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرے۔ استغفار اور ذکرِ الٰہی کی کثرت کرے۔ نو اور دس یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھے۔ صدقہ و خیرات کا اہتمام کرے۔ صلہ رحمی کرے۔ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ اہلِ بیت اور صحابۂ کرام کے فضائل کا مطالعہ کرے۔ واقعۂ کربلا سے نصیحت حاصل کرے۔ بدعات اور خرافات سے بچے۔ امتِ مسلمہ کی فلاح اور اتحاد کے لیے دعا کرے۔
ماہِ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ، اشہرِ حرم میں سے ایک عظیم مہینہ، انبیائے کرام علیہم السلام کی یادوں کا امین، یومِ عاشوراء جیسی عظیم نعمت کا حامل اور شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ جیسے عظیم واقعہ کا گواہ ہے۔ یہ مہینہ ہمیں تقویٰ، صبر، شکر، استقامت، عبادت، اخلاص اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ یومِ عاشوراء ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات یاد دلاتا ہے۔ واقعۂ کربلا ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی استقامت یاد دلاتا ہے۔ اشہرِ حرم کی حرمت ہمیں گناہوں سے بچنے کی تلقین کرتی ہے۔ اور اسلامی سال کا آغاز ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ نئی زندگی، نئی سوچ اور نئے عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹ آئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ماہِ محرم الحرام کی عظمتوں کو سمجھنے، یومِ عاشوراء کی برکتوں سے مستفید ہونے، اہلِ بیتِ اطہار اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سچی محبت رکھنے، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلنے، قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنے اور ہر قسم کی بدعات، خرافات، افراط و تفریط اور گمراہی سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین