مضمون (49)

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

"رشتوں کی کسوٹی—ایک مرد کا اصل امتحان"

    ابتدائیہ

انسان کی زندگی کئی مرحلوں سے گزرتی ہے، مگر جو موڑ کنوارے پن سے ازدواجی ذمہ داری تک لے جاتا ہے، وہ سب سے نازک، حساس اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ایک مرد کی محبت، اس کی ترجیحات، اس کی ذمہ داریاں اور اس کا طرزِ زندگی تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔ اگر یہ تبدیلی عدل، حکمت اور اعتدال کے ساتھ ہو تو گھر جنت بن جاتا ہے۔ اور اگر اس میں انتہا پسندی، نا سمجھداری اور بے اعتدالی در آئے تو خوشیوں کے دروازے بند اور رشتوں کی دیواریں کمزور ہونے لگتی ہیں۔

اسلام اس دور کو فطرت بھی کہتا ہے اور امتحان بھی۔

یہی توازن اصل کامیابی ہے۔

جب ایک مرد کنوارا ہوتا ہے تو اس کی دنیا اس کا گھر، اس کے والدین، اس کے بھائی بہن اور اس کے قریبی دوست ہوتے ہیں۔ انہی کی عزت، انہی کی خواہشیں، انہی کی خوشیاں اس کی زندگی کا مرکز بنتی ہیں۔ لیکن جب وہ نکاح کے بندھن میں بندھ جاتا ہے، اور اس کی شریکِ حیات اس کی زندگی کا حصہ بنتی ہے، تو فطری طور پر اس کی محبت اور توجہ تقسیم ہوجاتی ہے۔

یہ تقسیم کوئی خرابی نہیں، بلکہ ایک نئی ذمہ داری اور محبت کا اضافہ ہے۔

لیکن یہی وہ نازک اور خاردار موڑ ہے جہاں انسان کا کردار، اس کی عقل اور اس کا حسنِ اخلاق آزمائے جاتے ہیں۔

سمجھدار مرد اس مرحلے کو توازن، حکمت اور نرمی کے ساتھ نبھاتا ہے۔ مگر جو شخص بیوی کی خواہشات کی تکمیل میں حد سے بڑھ جائے، والدین اور بہن بھائیوں کے سوالات کا حکمت سے جواب نہ دے سکے، گھر والوں کے جذبات کو نہ سمجھے، وہ آہستہ آہستہ اپنوں کے دلوں سے دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

یہ دوری

ناپسندیدگی → بدگمانی → سختی → رنجش → بربادی

کی پہلی مضبوط سیڑھی ثابت ہوتی ہے۔

اگر شوہر اپنی شریکِ حیات کی محبت میں ایسا ڈوب جائے کہ والدین کے احترام، ان کی خدمت اور ان کے حقوق میں غفلت پیدا ہو جائے تو وہ نہ صرف مبغوض بنتا ہے بلکہ والدین کا نافرمان بھی ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ کبھی کبھی خاندان اور سماج میں مذاق بن جاتے ہیں اور دشمنوں کیلئے کھیل کا سامان بن جاتے ہیں۔ اگر وہ رجوع نہ کرے تو یہی روش اس کے لیے آخرت میں بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا 

والدین کیلئے یہ قیمتی نصیحت ہے 

جیسے مرد پر ذمہ داریاں ہیں اسی طرح والدین پر بھی۔

والدین کو چاہیے کہ اپنے شادی شدہ بیٹے کے نفسیات، اس کی نئی ذمہ داریوں اور اس کی اندرونی کیفیات کو سمجھیں۔ بیٹے کی خواہشات اور مجبوریوں کو نظرِ عنایت سے دیکھیں۔ یاد رکھیں کہ انہوں نے اسی بیٹے کو دکھوں اور نازوں سے پالا ہے_آج وہ اسی محنت کا پھل ہے۔

اپنے پھل کی مٹھاس اور اس کے کھٹّے پن دونوں کو برداشت کرنا والدین کی دانائی ہے۔

گھر کو بچانا صرف بیٹے کی نہیں بلکہ والدین کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تجربات کا صحیح استعمال گھر کو بکھرنے سے بچاتا ہے۔ اگر اس کے باوجود سمجھ نہ آئے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، وقت گزرے گا، حالات بدلیں گے، آج کا بیٹا کل خود باپ بنے گا_اور وقت اپنی حکمت کا درس خود دیتا ہے _چنانچہ 

. والدین کے حقوق کی تاکید کرتے ہوئے 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> "اور اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو"

(النساء: 36)

یہ آیت بتاتی ہے کہ شادی کے بعد بھی والدین کے حقوق میں کوئی کمی نہیں ہونا چاہیئے 

 اور بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کے بارے میں 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> "اور ان کے ساتھ بھلائی سے زندگی بسر کرو"

(النساء: 19)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بیوی کے حقوق ادا کرنا بھی فرض ہے۔

اسلام دونوں کو لازم قرار دیتا ہے. 

نہ والدین کو بھولو، نہ بیوی پر ظلم کرو۔

یہی توازن اصل دین ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> “تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کیلئے بہتر ہے، اور میں اپنے گھر والوں کیلئے سب سے بہتر ہوں۔”

(ترمذی)

یہ حدیث شہادت دیتی ہے کہ اچھا شوہر وہی ہے جو عدل اور محبت دونوں کے ساتھ گھر کو سنبھالے۔

   اختتامیہ 

ازدواجی زندگی کا یہ نازک موڑ دراصل نیت، اخلاق، حکمت اور توازن کا امتحان ہے۔

جو لوگ اس راہ میں عدل اور محبت اختیار کرتے ہیں، وہ گھر کو جنت بنا لیتے ہیں۔

جو لوگ ایک طرف کو اختیار کرکے دوسری طرف کو چھوڑ دیں، وہ خود بھی ٹوٹتے ہیں اور اپنوں کو بھی توڑ دیتے ہیں۔

گھر محبت سے بنتا ہے،

برداشت سے چلتا ہے،

اور حکمت سے سنبھلتا ہے۔

محبت میں توازن ہی اصل کامیابی ہے۔

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ بُيُوْتَنَا بُيُوْتَ السَّكِينَةِ وَالْمَحَبَّةِ وَالْهُدٰى۔

اے اللہ! ہمارے گھروں میں سکون، محبت، رحمت اور ہدایت نازل فرما۔

اے ربِّ کریم! ہمارے دلوں میں عدل، شفقت اور اچھا اخلاق پیدا فرما۔

اے اللہ! ہمیں والدین کے حقوق کی ادائیگی اور بیوی بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی توفیق عطا فرما۔

اے رب! ہمارے گھروں کو نفرت، غلط فہمی، رنجش اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ فرما۔

اے اللہ! ہماری اولاد کو نیک، فرمانبردار اور ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بنا۔

اے مالک! ہمارے گھروں کو دنیا میں راحت اور آخرت میں جنت کا سایہ عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

   بقلم محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com