╭───────────────╮
جسمانی تشدد
╰───────────────╯
آج کل ایک عجیب سی ہوا چلی ہے، بچوں پر جسمانی تشدد کی۔
وہ تشدد چاہے مدرسے میں ہو یا پھر کسی اسکول و کالج میں، جسمانی تشدد ہو یا جنسی، تشدد کی زد میں لڑکے آئیں یا لڑکیاں، یہ ہر اعتبار سے قابلِ گرفت جرم ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
برصغیرِ پاک و ہند میں بچوں کو پڑھانے کے لیے مارنا ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے نماز کے لیے وضو ضروری ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کتنی مرتبہ مار کھائی فقہ سیکھنے کے لیے؟
اسی طرح امام احمد بن حنبل، امام شافعی، اور اسی طرح دیگر ائمۂ کرام، جن کی مدوّن کردہ فقہ، حدیث، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث پڑھی و پڑھائی جاتی ہے۔
لارڈ میکالے کے نظام سے تو شکوہ ہی کیا، شکوہ تو ان دانشوروں سے ہے جو مدنی و نانوتوی کے شاگرد و پیروکار ہیں۔
━━━━━━━━━━━━━━━
کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کی مار بچے کی تربیت نہیں کرتی؟
آپ کی مار سے بچہ ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔
آپ کی مار سے بچے حق کو حق کھل کر نہیں کہہ سکتے۔
آپ کی مار سے بچوں میں خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔
سوچ رکھتے ہیں کہ ہمارے بچے مستقبل میں امام بنیں گے، آنے والے وقت کے اماموں کو ایسے دبایا جاتا ہے کہ ان کا مستقبل ہی تباہ ہو جاتا ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حضرت شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی آپ بیتی کو مشعلِ راہ سمجھتے ہوئے اپنی اولاد پر سختی کرتے ہیں۔
ہر چند یہ کہ آپ کو ہنوز معلوم نہیں، کہ لکھنے والا جب لکھتا ہے تو محض جنبشِ قلم کی سیاہی سے الفاظ نہیں نکال رہا ہوتا، بلکہ بعض اوقات وہ اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو سیاہی کی صورت میں کاغذ پر گرا رہا ہوتا ہے۔
معلوم نہیں حضرت شیخ نے کس کرب سے سختی کی آپ بیتی کا حالِ دل لکھا ہو، اور کسی نے اسے قرآن و حدیث سے بھی بڑھ کر اپنانے کی کوشش کی، سلفِ صالحین، صحابۂ کرام کی اتباع کو چھوڑ دیا۔
━━━━━━━━━━━━━━━
ہم کہتے تو ہیں اپنے بچوں کو:
❝ نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر ❞
مگر ہمارا حال یہی ہے:
❝ گفتار کے غازی بن گئے، کردار کے غازی بن نہ سکے۔ ❞
━━━━━━━━━━━━━━━
بچے ہمارے مستقبل ہیں؛ انہیں خوف نہیں، شعور دیں۔
انہیں مار نہیں، محبت دیں۔
انہیں دبائیں نہیں، سنواریں۔
━━━━━━━━━━━━━━━
#جسمانی_تشدد
#بچوں_کے_حقوق
#بچوں_کی_تربیت
#بچے_ہمارا_مستقبل_ہیں
#تعلیم_اور_تربیت
#انسانیت
#طوفان_احمری
#ToofanAhmari
923240617005