محبتِ رسول ﷺ :- دعوائے محبت اور حقیقی اتباع
27 اگست، 2026
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا، صحت، عقل، مال، اولاد، رزق، امن، علم اور زندگی جیسی نعمتیں عطا فرمائیں، لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم، سب سے بابرکت اور سب سے گراں قدر نعمت نعمتِ ایمان اور نعمتِ بعثتِ محمدی ﷺ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری اور محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرما کر انسانیت کو کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید و ایمان کی روشنی عطا فرمائی، جہالت کی تاریکیوں کو علم و معرفت سے بدل دیا، گمراہی کے راستوں سے نکال کر صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائی، اخلاقِ رذیلہ کے بجائے اخلاقِ فاضلہ کی تعلیم دی اور انسان کو اس کے خالق و مالک سے صحیح تعلق کا شعور عطا فرمایا، اسی عظیم احسان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان کے درمیان بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، انہیں پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت ایمان کا کوئی معمولی یا اختیاری تقاضا نہیں بلکہ ایمان کی روح، دین کی بنیاد اور مسلمان کی قلبی زندگی کا لازمی حصہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ غور کیجیے کہ رسول اللہ ﷺ نے محبت کو ایمان کے ساتھ کس قدر مضبوطی سے وابستہ فرمایا، اس لیے جس دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت نہ ہو وہ ایمان کی حقیقی حلاوت سے محروم ہے، اور جس دل میں آپ ﷺ کی سچی محبت پیدا ہوجائے وہ محبت انسان کی سوچ، فکر، کردار، اخلاق، معاملات اور زندگی کے پورے نظام کو بدل دیتی ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي یعنی یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری اپنی جان کے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا لَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ یعنی نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا فَإِنَّهُ الْآنَ وَاللَّهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي یعنی اب اللہ کی قسم! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الْآنَ يَا عُمَرُ یعنی اب اے عمر! اس واقعے میں محبتِ رسول ﷺ کا ایک عظیم معیار بیان ہوا کہ مؤمن کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی محبت اپنی جان، اپنے مال، اپنے خاندان، اپنی خواہشات اور دنیا کی تمام محبتوں پر غالب ہونی چاہیے، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کی پہچان کیا ہے؟ کیا صرف زبان سے محبت کا دعویٰ کافی ہے؟ کیا صرف محفلوں میں نعرے لگانا، اشعار پڑھنا اور جذباتی کلمات کہنا محبت کی دلیل ہے؟ کیا صرف ظاہری عقیدت کا اظہار حقیقی محبت کے لیے کافی ہے؟ قرآن کریم اس سوال کا نہایت واضح اور فیصلہ کن جواب دیتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہےقُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ اے نبی! کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ یہ آیتِ کریمہ محبت کے دعوے اور محبت کی حقیقت کے درمیان ایک واضح فرق قائم کرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو صرف محبت کا دعویٰ کرو، بلکہ فرمایافَاتَّبِعُونِي یعنی میری پیروی کرو، لہٰذا محبتِ الٰہی کی سب سے روشن علامت اتباعِ رسول ﷺ ہے، اور جب محبتِ الٰہی کا معیار اتباعِ محمدی ﷺ ہے تو محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آپ ﷺ کے اقوال، افعال، احکام، اخلاق، عبادات، معاملات، معاشرت اور سنت کو اپنی زندگی کا رہنما بنایا جائے، محبت وہ نہیں جو صرف زبان پر ہو بلکہ محبت وہ ہے جو انسان کے عمل میں نظر آئے، محبت وہ نہیں جو صرف محفل میں محسوس ہو بلکہ محبت وہ ہے جو تنہائی میں بھی انسان کو گناہ سے روک دے، محبت وہ نہیں جو صرف نعت کے اشعار میں ظاہر ہو بلکہ محبت وہ ہے جو نماز کے وقت انسان کو مسجد کی طرف لے جائے، حرام کے سامنے کھڑا کرکے کہے کہ میرے محبوب ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، ظلم کے وقت ہاتھ روک دے، جھوٹ کے وقت زبان بند کردے، خیانت کے وقت ضمیر کو بیدار کردے، غیبت کے وقت زبان کی حفاظت کرے اور خواہشِ نفس کے مقابلے میں سنتِ رسول ﷺ کو ترجیح دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے حقیقت میں اللہ کی اطاعت کی، اور فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، اور فرمایا وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا رسول تمہیں جو کچھ عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز آجاؤ، اور فرمایاوَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے، گویا اتباعِ رسول ﷺ صرف محبت کا نتیجہ نہیں بلکہ ہدایت کا راستہ بھی ہے، جس قدر انسان رسول اللہ ﷺ کی سنت سے قریب ہوگا اسی قدر ہدایت سے قریب ہوگا، اور جس قدر سنت سے دور ہوگا اسی قدر اپنے آپ کو ہدایت کے راستے سے دور کرے گا، اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى میری پوری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرتا ہے؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ معزز حضرات! قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کو صرف ایک نبی، رسول اور پیغام پہنچانے والے کی حیثیت سے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے کامل اسوہ اور عملی نمونہ قرار دیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے، لہٰذا مسلمان کی محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کو اپنی زندگی کا اسوہ بنائے، نماز پڑھے تو آپ ﷺ کے طریقے کے مطابق، روزہ رکھے تو آپ ﷺ کی سنت کے مطابق، حج کرے تو آپ ﷺ کی تعلیم کے مطابق، دعا کرے تو آپ ﷺ کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق، تجارت کرے تو آپ ﷺ کی دی ہوئی امانت و دیانت کو سامنے رکھ کر، رشتہ داری نبھائے تو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق، پڑوسی کے حقوق ادا کرے تو آپ ﷺ کی سنت کے مطابق، اولاد کی تربیت کرے تو آپ ﷺ کے اسلوبِ تربیت سے رہنمائی لے، بیوی بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو آپ ﷺ کے گھر کے اخلاق کو نمونہ بنائے، کمزوروں، یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں کے ساتھ معاملہ کرے تو آپ ﷺ کی رحمت کو سامنے رکھے اور اختلاف و نزاع کے وقت عدل و انصاف کو اختیار کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اخلاق کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ اور بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نہایت جامع جواب دیاكَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا، یعنی قرآن جس اخلاق کی تعلیم دیتا ہے رسول اللہ ﷺ کی زندگی اس کی عملی تصویر تھی، قرآن صبر سکھاتا ہے تو آپ ﷺ صبر کے پیکر تھے، قرآن عفو و درگزر سکھاتا ہے تو آپ ﷺ عفو و درگزر کے پیکر تھے، قرآن عدل کا حکم دیتا ہے تو آپ ﷺ عدل کے سب سے اعلیٰ نمونہ تھے، قرآن رحمت کی تعلیم دیتا ہے تو آپ ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے، لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے اندر بھی رحمت، شفقت، نرمی، حسنِ اخلاق، خیر خواہی اور انسانیت پیدا ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اور فرمایا مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا، پس اگر ہم محبتِ رسول ﷺ کے دعوے دار ہیں تو ہمیں اپنے دلوں سے کینہ، حسد، تکبر، بغض، انتقام اور ظلم کو نکال کر رحمت، محبت، اخوت، خیر خواہی اور حسنِ سلوک کو جگہ دینی ہوگی، لہٰذا حقیقی کامیابی محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ رسول ﷺ، اطاعتِ رسول ﷺ اور سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا مرکز بنانے میں ہے، ہمیں اپنے گھروں میں سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ عام کرنا چاہیے، اپنی اولاد کو رسول اللہ ﷺ کی محبت سکھانی چاہیے، انہیں آپ ﷺ کی رحمت، صداقت، امانت، شجاعت، عبادت، عفو، عدل، سخاوت اور حسنِ اخلاق کے واقعات سنانے چاہئیں، کیونکہ جس نسل کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت اور سنت کی عظمت پیدا ہوجائے وہ نسل فتنوں کے طوفان میں بھی اپنے ایمان کی حفاظت کرسکتی ہے، آج کے دور میں جب میڈیا، سوشل میڈیا، بے حیائی، مادہ پرستی، مغربی تہذیبی اثرات، فکری انتشار اور خواہشاتِ نفس انسان کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں، ایسے وقت میں محبتِ رسول ﷺ ہی وہ مضبوط تعلق ہے جو مسلمان کو اس کی دینی شناخت، ایمانی غیرت اور اسلامی کردار سے جوڑ سکتا ہے، مگر اس محبت کو علم کے ساتھ، سنت کے ساتھ، شریعت کے ساتھ، ادب کے ساتھ اور اتباع کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے، کیونکہ بے علم محبت کبھی کبھی افراط و غلو کی طرف لے جاسکتی ہے اور بے محبت علم کبھی کبھی خشک رسمی زندگی پیدا کرسکتا ہے، صحیح راستہ یہ ہے کہ دل میں محبت ہو، عقل میں معرفت ہو، زبان پر درود ہو، عمل میں سنت ہو، اخلاق میں رحمت ہو، معاملات میں امانت ہو، عبادات میں اخلاص ہو اور زندگی میں اتباع ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مَنْ أَحَبَّ سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ اس مفہوم کی متعدد روایات سے سنت کی محبت کی فضیلت واضح ہوتی ہے، پس ہمیں اپنی محبت کو سنت کے ساتھ جوڑنا چاہیے اور اپنی زندگی کا یہ عہد بنانا چاہیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی سیرت پڑھیں گے، آپ ﷺ کی احادیث سیکھیں گے، آپ ﷺ کی سنت کو سمجھیں گے، اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کریں گے، اپنی اولاد کو اس سے جوڑیں گے اور اپنے معاشرے میں نبوی اخلاق کو فروغ دیں گے، کیونکہ جس دن امت نے محبتِ رسول ﷺ کو صرف نعروں سے نکال کر کردار میں اتار دیا، اس دن گھروں میں سکون، معاشرے میں عدل، بازاروں میں دیانت، زبانوں میں سچائی، دلوں میں رحمت اور زندگیوں میں برکت پیدا ہوگی، اور یہی محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی انقلاب ہوگا، لہٰذا آئیے ہم آج اپنے دل میں یہ عہد کریں کہ ہم محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے کریں گے، ہم آپ ﷺ کی سنت کو اپنی خواہشات پر مقدم کریں گے، آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنا اخلاق بنانے کی کوشش کریں گے، آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا معیار بنائیں گے، آپ ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں گے، آپ ﷺ کی سیرت کو پڑھیں گے اور پڑھائیں گے، اپنی اولاد کو آپ ﷺ کی محبت سے آشنا کریں گے، اور ہر اس راستے سے بچیں گے جو آپ ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہو، کیونکہ محبت کا تقاضا وفاداری ہے، وفاداری کا تقاضا اطاعت ہے، اطاعت کا تقاضا اتباع ہے اور اتباع کا انجام اللہ تعالیٰ کی محبت اور مغفرت ہے، جیسا کہ رب العالمین نے خود فرمایا قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، اے اللہ! ہمارے دلوں کو اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی، پاکیزہ اور کامل محبت سے معمور فرما۔