اللہ تعالیٰ نے انسان کو تنہا زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں فرمایا بلکہ اس کی فطرت میں اجتماعیت، انس، محبت اور باہمی تعاون رکھا ہے، اسی لیے خاندان انسانی معاشرے کی پہلی اور بنیادی اکائی ہے، گھر وہ پہلا ادارہ ہے جہاں بچہ بولنا سیکھتا ہے، جہاں اسے محبت ملتی ہے، جہاں وہ اچھے اور برے کی تمیز حاصل کرتا ہے، جہاں اس کے عقائد، اخلاق، عادات اور شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اگر گھر ایمان، تقویٰ، محبت، علم، ادب اور حسنِ اخلاق کا مرکز ہو تو اس گھر سے نکلنے والی نسل معاشرے کے لیے رحمت اور امت کے لیے قوت بنتی ہے، لیکن اگر گھر غفلت، جھگڑے، بے حیائی، بد اخلاقی، مادہ پرستی اور دینی بے راہ روی کا مرکز بن جائے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری نسل اور معاشرے کو متاثر کرتے ہیں، اسی لیے اسلام نے خاندان کے قیام اور اس کی اصلاح کو غیر معمولی اہمیت دی ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو، خاندان کی اصلاح کا پہلا اصول تقویٰ ہے، کیونکہ جس گھر میں اللہ کا خوف زندہ ہو وہاں حقوق پامال نہیں ہوتے، ظلم کو جگہ نہیں ملتی، شوہر بیوی پر زیادتی نہیں کرتا، بیوی شوہر کے حقوق ضائع نہیں کرتی، والدین اولاد کو بے راہ روی کے حوالے نہیں کرتے اور اولاد والدین کی نافرمانی کو اپنا حق نہیں سمجھتی، اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے رشتے کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ، اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی، بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، اس آیت میں ازدواجی زندگی کے تین عظیم ستون بیان ہوئے: سکون، مودت اور رحمت، لہٰذا اسلامی خاندان محض ایک مکان میں رہنے والے چند افراد کا نام نہیں بلکہ ایسا رشتہ ہے جس میں دلوں کو سکون، تعلق کو محبت اور معاملات کو رحمت حاصل ہو، شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لباس ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ، وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو، لباس انسان کو ڈھانپتا ہے، زینت دیتا ہے، سردی گرمی سے بچاتا ہے اور جسم کے سب سے قریب ہوتا ہے، اسی طرح میاں بیوی کو ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت، عیوب کی پردہ پوشی، باہمی سکون اور ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو حکم دیا وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو، رسول اللہ ﷺ نے بھی خاندانی حسنِ سلوک کا معیار واضح کرتے ہوئے فرمایا خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي، تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کی اصل اخلاقی آزمائش گھر کے اندر ہوتی ہے، لوگوں کے سامنے مسکرانا آسان ہے لیکن گھر والوں کے ساتھ مسلسل حسنِ اخلاق اختیار کرنا اصل کمال ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ، ایمان والوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہترین ہیں، نبی کریم ﷺ کا اپنا گھرانہ اس سلسلے میں سب سے کامل نمونہ تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا۔ كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، آپ ﷺ اپنے اہلِ خانہ کے کام میں مشغول رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے، یہ نبوی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ گھر کے کام کو حقیر سمجھنا اسلامی مزاج نہیں، محبت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ تعاون، خدمت، برداشت اور قربانی سے ثابت ہوتی ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ بچوں کے ساتھ بے مثال شفقت فرماتے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ بچوں پر شفقت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا، آپ ﷺ بچوں کو سلام کرتے، ان سے محبت فرماتے اور ان کے جذبات کا خیال رکھتے تھے، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے بوسہ دیا تو ایک شخص نے کہا کہ میرے دس بچے ہیں مگر میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا، آپ ﷺ نے فرمایا مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ، جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کی تربیت میں محبت بنیادی عنصر ہے، ایسی سختی جو دل توڑ دے، ایسی مار جو شخصیت کو کچل دے اور ایسی تحقیر جو بچے کو احساسِ کمتری میں مبتلا کردے اسلامی تربیت کا مطلوب طریقہ نہیں، تربیت محبت، حکمت، نگرانی، تعلیم اور مناسب تادیب کے مجموعے کا نام ہے، اللہ تعالیٰ نے والدین کو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی آخرت کی فکر کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ، اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ اپنے اہل کو اللہ کی اطاعت کا حکم دو اور انہیں نافرمانی سے بچاؤ، اس لیے والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کو کھانا، کپڑا، مکان اور تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کے ایمان و کردار کی حفاظت بھی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا، لہٰذا باپ کا فرض ہے کہ وہ حلال رزق کمائے، گھر میں نماز اور دین کا ماحول قائم کرے، اپنی اولاد کی نگرانی کرے، ان کے دوستوں، تعلیم، اخلاق اور مصروفیات سے واقف رہے اور ان کے ساتھ وقت گزارے، اسی طرح ماں کا کردار نسل سازی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ ماں بچے کی پہلی مربیہ، پہلی معلمہ اور اس کی شخصیت کی ابتدائی معمار ہوتی ہے، صالح نسل کی تعمیر کے لیے والدین کو سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی، کیونکہ بچے کانوں سے کم اور آنکھوں سے زیادہ سیکھتے ہیں، اگر باپ جھوٹ بولے اور بیٹے کو سچائی کا درس دے تو نصیحت بے اثر ہوگی، اگر ماں غیبت کرے اور بیٹی کو غیبت سے روکے تو بچی الفاظ نہیں بلکہ عمل کو اختیار کرے گی، اگر والدین نماز میں سستی کریں اور اولاد کو نماز کی پابندی کا حکم دیں تو تربیت میں تضاد پیدا ہوگا، اسی لیے حضرت لقمان علیہ السلام کی تربیت میں سب سے پہلے عقیدہ، پھر عبادات اور پھر اخلاق کا بیان آتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ، اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو اور جو مصیبت تمہیں پہنچے اس پر صبر کرو، بے شک یہ بڑے حوصلے کے کاموں میں سے ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح نسل کی تربیت میں نماز بنیادی مقام رکھتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ، اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، دس سال کی عمر میں نماز کے لیے تادیب کرو اور ان کے بستروں کو الگ کردو، اس حدیث کا مقصد بچوں کو نماز کا عادی بنانا اور انہیں بلوغت سے پہلے عبادت کے لیے تیار کرنا ہے، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ بچوں کو نماز کا حکم دینے سے پہلے خود نماز کے پابند بنیں، گھر میں قرآن کی تلاوت ہو، اذان سن کر نماز کی تیاری ہو، رمضان کا ماحول بنایا جائے، حلال و حرام کی تعلیم دی جائے، سیرتِ رسول ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات سنائے جائیں اور بچوں کے سوالات کو محبت اور حکمت کے ساتھ جواب دیا جائے، اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت بھی ہے اور بڑی امانت بھی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں لیکن اسی اولاد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ، تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں، یعنی اولاد نعمت بھی ہے اور امتحان بھی، اگر والدین ان کی صحیح تربیت کریں تو وہ صدقۂ جاریہ بن سکتی ہے اور اگر غفلت کریں تو یہی اولاد قیامت کے دن سوال کا سبب بن سکتی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرے، اس حدیث میں صالح اولاد کی عظمت واضح ہے، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے مستقبل کے لیے صرف دنیاوی منصوبہ بندی نہ کریں بلکہ ان کے ایمان، اخلاق اور آخرت کے لیے بھی منصوبہ بندی کریں، آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ والدین بچوں کے لباس، خوراک، اسکول، کوچنگ، موبائل اور مستقبل کے پیشے کے بارے میں تو فکر مند ہیں لیکن ان کی نماز، قرآن، عقیدہ، حیا، سچائی، پاکیزگی، دوستوں اور آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں غفلت برتتے ہیں، یہ رویہ خطرناک ہے، موبائل فون اور سوشل میڈیا بذاتِ خود محض ایک آلہ ہیں لیکن ان کا غلط استعمال بچوں کے وقت، ذہن، حیا، اخلاق اور دینی شعور کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کو ٹیکنالوجی سے محروم کرنے کے بجائے اس کے صحیح استعمال کی تربیت دیں، ان کے اسکرین ٹائم پر مناسب نگرانی رکھیں، نامناسب مواد سے بچائیں، ان کے ساتھ بیٹھ کر انٹرنیٹ کی دنیا کے خطرات سمجھائیں اور گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں جہاں بچہ اپنے مسائل والدین کے سامنے بلا خوف بیان کرسکے، قرآن مجید نے نگاہوں اور پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ، مؤمن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، پھر مؤمن عورتوں کو بھی یہی حکم دیا گیا، لہٰذا صالح نسل کی حفاظت صرف مدرسہ اور اسکول کی ذمہ داری نہیں بلکہ گھر کی بھی ذمہ داری ہے، والدین کو اپنے بچوں کے دوستوں، ماحول، مطالعہ، تفریح اور آن لائن روابط سے واقف ہونا چاہیے، اسی طرح خاندان میں باہمی گفتگو کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے، آج بہت سے گھرانوں میں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے موبائل کی اسکرینوں میں مصروف ہیں، باپ دفتر اور کاروبار میں، ماں گھریلو مصروفیات یا سوشل میڈیا میں اور بچے موبائل، گیمز اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارموں میں مشغول ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ گھر موجود ہے مگر خاندانی تعلق کمزور ہوگیا ہے، اس لیے گھر میں روزانہ کچھ وقت ایسا ضرور مقرر ہونا چاہیے جس میں موبائل ایک طرف رکھے جائیں، سب ایک ساتھ بیٹھیں، قرآن کی کوئی آیت پڑھی جائے، دینی یا تربیتی بات ہو، بچوں کے مسائل سنے جائیں اور باہمی محبت کو فروغ دیا جائے، رسول اللہ ﷺ نے محبت کے اظہار کو بھی تربیت کا حصہ بنایا، آپ ﷺ بچوں کو گود میں لیتے، بوسہ دیتے، ان کے ساتھ شفقت فرماتے اور ان کے جذبات کا لحاظ کرتے تھے، اس لیے والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ محبت کا اظہار تربیت کو کمزور نہیں کرتا بلکہ اسے مضبوط بناتا ہے، البتہ محبت کا مطلب بے جا لاڈ، ہر خواہش پوری کرنا اور غلطی پر خاموش رہنا نہیں بلکہ محبت کے ساتھ حدود قائم کرنا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا مَا أَعْطَى وَالِدٌ وَلَدَهُ مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ، کسی والد نے اپنی اولاد کو حسنِ ادب سے بہتر کوئی عطیہ نہیں دیا، اگرچہ اس روایت کی سند پر اہلِ علم نے کلام کیا ہے، تاہم حسنِ تربیت کی اہمیت قرآن و سنت کے متعدد نصوص سے ثابت ہے، والدین کو اولاد میں عدل و انصاف بھی قائم رکھنا چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنی ایک اولاد کو خاص عطیہ دیتے دیکھا تو فرمایا۔ أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا؟ کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح دیا ہے؟ جب اس نے جواب دیا کہ نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کے درمیان ناانصافی دلوں میں نفرت، حسد اور احساسِ محرومی پیدا کرسکتی ہے، لہٰذا والدین کو محبت، توجہ، تحائف اور معاملات میں حتی الامکان عدل کا اہتمام کرنا چاہیے، اسی طرح اولاد کو والدین کے ادب اور حسنِ سلوک کی تعلیم دینا ضروری ہے، قرآن مجید نے توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا، تمہارے رب نے فیصلہ فرمادیا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، پھر فرمایا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا، انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو اور ان سے عزت کی بات کرو، اس لیے صالح خاندان وہ ہے جہاں والدین اولاد کے حقوق ادا کرتے ہیں اور اولاد والدین کے حقوق پہچانتی ہے، جہاں شوہر بیوی کا احترام کرتا ہے، بیوی شوہر کی عزت کرتی ہے، بڑے چھوٹوں پر شفقت کرتے ہیں اور چھوٹے بڑوں کا ادب کرتے ہیں، جہاں اختلاف ہو تو اسے گفتگو، صبر اور حکمت سے حل کیا جاتا ہے، نہ کہ گالی، تشدد، تحقیر اور رشتے توڑنے سے، قرآن مجید نے میاں بیوی کے اختلاف کے موقع پر اصلاح کی راہ بتاتے ہوئے فرمایا وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا، اگر تمہیں دونوں کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک منصف عورت کے خاندان سے مقرر کرو، اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا فرمادے گا، اس سے معلوم ہوا کہ خاندان کو بچانے کے لیے اصلاح، ثالثی، صبر اور خیر خواہی کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں، ہر اختلاف طلاق کا سبب نہیں بننا چاہیے اور ہر غلطی کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ، کوئی مؤمن مرد کسی مؤمن عورت سے مکمل نفرت نہ کرے؛ اگر اس کی کوئی ایک عادت اسے ناپسند ہو تو اس کی دوسری عادت سے راضی ہوگا، یہ حدیث ازدواجی زندگی میں عیبوں کے بجائے خوبیوں کو دیکھنے، برداشت اور توازن اختیار کرنے کی عظیم تعلیم دیتی ہے، اسی طرح شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق ادا کرے، اس کی عزت کرے، اس کے جذبات کا خیال رکھے اور اس کے لیے حلال و پاکیزہ رزق فراہم کرے، اور بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کے جائز حقوق کی ادائیگی، گھر کی حفاظت، اولاد کی تربیت اور شوہر کی عزت کا اہتمام کرے، البتہ یہ تمام ذمہ داریاں ظلم، جبر یا شرعی حقوق کی پامالی کا جواز نہیں بنتیں، اسلام نے خاندان کو حقوق و فرائض کے متوازن نظام پر قائم کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر عورتوں کے حقوق کے بارے میں تاکید فرمائی، اور قرآن نے فرمایا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ، اور عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے کے مطابق وہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں، صالح خاندان میں صرف عبادت ہی نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے حقوق، مہمان نوازی، غریبوں کی مدد، سچائی، امانت، حیا اور خدمتِ خلق بھی تربیت کا حصہ ہوتے ہیں، کیونکہ بچہ گھر سے صرف نماز نہیں سیکھتا بلکہ زندگی گزارنے کا پورا طریقہ سیکھتا ہے، اگر گھر میں جھوٹ بولا جاتا ہے تو بچہ جھوٹ سیکھے گا، اگر گھر میں غیبت ہوتی ہے تو بچہ غیبت کو معمول سمجھے گا، اگر گھر میں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے تو قرآن اس کے دل سے مانوس ہوگا، اگر گھر میں والدین ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں تو بچہ احترام سیکھے گا، اگر گھر میں غصے کے بجائے حکمت اور گفتگو کا ماحول ہوگا تو بچے بھی اپنے اختلافات بہتر انداز میں حل کرنا سیکھیں گے، اسی لیے صالح نسل کی تعمیر کا سب سے مؤثر راستہ صالح نمونہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ، یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے، لہٰذا اگر ہم مثالی خاندان چاہتے ہیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی، آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے ساتھ حسنِ معاشرت، بچوں کے ساتھ شفقت، صحابہ کے ساتھ محبت اور معاشرے کے ساتھ خیر خواہی کو اپنی زندگی کا نمونہ بنانا ہوگا، ہمیں اپنے گھروں کو صرف آرام گاہ نہیں بلکہ ایمان کا مدرسہ بنانا ہوگا، ایسا گھر جہاں فجر کے وقت نماز کی آواز ہو، قرآن کی تلاوت ہو، رزق حلال کی فکر ہو، والدین کا ادب ہو، بچوں کے ساتھ محبت ہو، بیوی کا احترام ہو، شوہر کی قدر ہو، غیبت سے اجتناب ہو، جھوٹ سے نفرت ہو، حیا کی حفاظت ہو، علم کا شوق ہو اور آخرت کی فکر ہو، ایسے ہی گھروں سے صالح نسلیں پیدا ہوتی ہیں، اور صالح نسلیں ہی صالح معاشرے اور مضبوط امت کی بنیاد بنتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے صالح اہل و عیال کے لیے یہ دعا سکھائی رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا، اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقین کا امام بنا، یہ دعا صرف اولاد ملنے کی دعا نہیں بلکہ صالح، نیک، فرمانبردار اور دین دار خاندان کی دعا ہے، اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ، اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما، غور کیجیے کہ صالح نسل کے لیے انبیاء علیہم السلام نے صرف دنیاوی ترقی نہیں مانگی بلکہ ایمان، نماز اور اللہ سے تعلق مانگا، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے صرف ڈاکٹر، انجینئر، عالم، افسر یا کامیاب کاروباری بننے کی دعا نہ کریں بلکہ سب سے پہلے انہیں صالح، متقی، بااخلاق، باحیا، سچا، امانت دار اور اللہ والا انسان بننے کی دعا اور تربیت دیں، مال ختم ہوسکتا ہے، عہدہ چھن سکتا ہے، دنیاوی شہرت مٹ سکتی ہے لیکن صالح کردار انسان کے ساتھ دنیا میں بھی رہتا ہے اور آخرت میں بھی فائدہ دیتا ہے، لہٰذا اے مسلمانو! اپنے گھروں کو بچاؤ، اپنے نکاح کو مضبوط کرو، اپنی بیویوں کے حقوق ادا کرو، اپنے شوہروں کے جائز حقوق کا خیال رکھو، اپنے بچوں کو وقت دو، ان کے ساتھ بیٹھو، ان کے سوالات سنو، ان کے دوستوں کو پہچانو، ان کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کی نگرانی کرو، انہیں قرآن سے جوڑو، نماز کا پابند بناؤ، سیرتِ رسول ﷺ سناؤ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات سناؤ، ان کے اندر حیا، سچائی، امانت، ادب اور خدمت کا جذبہ پیدا کرو، انہیں صرف دنیا کمانا نہ سکھاؤ بلکہ حلال کمانا سکھاؤ، صرف کامیاب ہونا نہ سکھاؤ بلکہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا سکھاؤ، صرف لوگوں سے آگے نکلنا نہ سکھاؤ بلکہ نیکی میں سبقت کرنا سکھاؤ، کیونکہ حقیقی کامیابی یہی ہے کہ انسان دنیا میں بھی باعزت زندگی گزارے اور آخرت میں بھی اللہ کی رضا حاصل کرے، یاد رکھو! خاندان کی اصلاح نسل کی اصلاح ہے، نسل کی اصلاح معاشرے کی اصلاح ہے، معاشرے کی اصلاح امت کی اصلاح ہے، اور امت کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی نصرت و رضا کا ذریعہ ہے، اس لیے اپنے گھروں کو ایمان کے چشمے، قرآن کے مراکز، اخلاق کے مدارس، محبت و رحمت کے گہوارے اور صالح نسلوں کی تربیت گاہ بناؤ، رسول اللہ ﷺ کی سنت کو گھروں میں زندہ کرو، اپنے کردار کو اپنی اولاد کے لیے کتاب بناؤ اور اپنی زندگی کو ان کے لیے نمونہ بناؤ، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں کی اصلاح، اپنی اولاد کی صحیح تربیت، میاں بیوی کے حقوق کی ادائیگی، والدین کی خدمت، صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور سنتِ رسول ﷺ کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے، ہماری اولاد کو صالح، نیک، متقی، باحیا، باادب اور دین و ملت کے لیے مفید بنائے، ہمارے گھروں میں ایمان، محبت، سکون، برکت اور رحمت عطا فرمائے، ہمیں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی آخرت کی فکر کرنے والا بنائے، اور ہماری نسلوں کو قرآن و سنت کا سچا خادم بنائے