موت اس کی ہے جس کا کرے زمانہ افسوس
گل رضاراہی ارریاوی
موت ایک ایسی اٹل حقیقت جس کا انکار ممکن نہیں،اس سے کسی کو فرار ہے نہ قرار ،کوئی چاہ کر بھی اسے ٹال نہیں سکتا ،یہ سب کے لیے عام ہے ،روز لوگ جاتے ہیں ،اس کےلیے کپڑے تیاری کرتے ہیں ڈولیا لائی جاتی ہے،کندھے پر بٹھاکر زور دو گز زمین کے حوالہ لیے جاتے ہیں ،اسی لیے خار دار کانٹوں سے سب کو گزرنا ہے؛مگر جو چلا جاتا ہے اس کا بدل نہیں ہوتا اور نہ اس خلا کے پر کی کوئی صورت ہوتی ہے ، دنیا سے تو بہت جاتے ہیں اور بہت سوں کو جانا ہے؛مگر کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ اپنے پیچھے حسنات بہت سے نافراموش یادیں چھوڑ جاتے ہیں ،دنیا سے کسی عالم کا چلاجانا ویسے ہی اس کی طرف سے خیر کا سیل رواں تھم جانے کا سبب ہے، مگر زیادہ غم کا باعث اس وقت ہوتاہے جب کہ اس سے عوام وخواص سب مستفید ہوں ،ان کے بیانات ومواعظ حسنہ لوگوں کےلیے ہدایت کا ذریعہ ہو، دین کی طرف میلان اور آخرت کی فکر کا سبب بنے-
حضرت مولانا عبد الحنان صاحب صدیقی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی ہے ،جن کے بیانات آج کے فحاشی و عریانیت کے دور میں تریاق کاکام کرتاہے ،شوشل میڈیا میں ان کے بیانات عوام وخواص سب سنتی ہے اور ایک طرح سے اچھا تأثر لیتی ہے اور نیک راہوں میں چلنے کا عزم مصمم کرتی ہے، حضرت رحمہ اللّٰہ گزشتہ کئی مہینوں سے صاحب فراش تھے اور آج اطلاع ملی کہ پاکیزہ روح پاکیزہ دربار کی طرف کوچ کرگئی اور وہ دارفنا سے دار بقا کی طرف بحکم الٰہی چلے گیے ،انا للّٰہ وانا الیہ راجعون أن للہ وماأخذ ولہ ماأعطی وکل شیئ عندہ بأجل مسمی أللھم اغفر لہ وارحمہ واجعل مثواہ فی الجنۃ آمین
موت اس کی ہے جس کا کرے زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آۓ ہیں مرنے کے لیے
حضرت رحمہ اللہ صاحب نسبت بزرگ تھے ،قافلۂ فقیری کے پراثر ترجمان تھے-
ان کی وفات سے قلب مغموم ہے ،اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، حسنات قبول فرمائے،سیئات کو در گزر فرماۓ اور اعلی علیین میں مقام خاص عطا فرمائے آمین
آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نوررستہ اس گھر کی نگہبانی کرے